عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بدھ کے روز پرائیویٹ ممبرز بل کو بحث کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی، جو ایوان میں ایک اہم قانون سازی کی پیشرفت ہے۔ تنویر صادق کی طرف سے پیش کئے گئے بل ، میں جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ 1960 کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے جیسا کہ یہ جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ 2022 سے پہلے موجود تھا۔ بل کا مقصد موجودہ پٹہ داروں اور لیز مالکان کے حقوق کا تحفظ کرنا اور عوامی زمین کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
بل پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اس مرحلے پر اس کے تعارف کی مخالفت نہیں کرے گی اور ایوان میں تفصیلی بحث کو ترجیح دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے موقف کے بارے میں حتمی فیصلہ غور و خوض کے بعد کیا جائے گا۔این سی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ٹریژری بنچوں نے تعارف کے مرحلے پر پرائیویٹ ممبر کے بل پر اعتراض نہیں کیا۔سپیکر عبدالرحیم راتھر نے تحریک کو صوتی ووٹ کے لیے پیش کیا، جسے این سی اراکین کی حمایت سے منظور کر لیا گیا، جب کہ اپوزیشن نے ووٹنگ کے لیے دبائو نہیں ڈالا۔مجوزہ قانون جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز، 2022 ،جو یہ کہتا ہے کہ کچھ معیاد ختم شدہ لیز، خاص طور پر سیاحت کے شعبے میں، تجدید نہیں کئے جائیں گی اور اس کے بجائے مارکیٹ ریٹ پر نئے سرے سے نیلامی کی جانی چاہیے۔لیکن مجوزہ بل شمالی کشمیر کے ایک اہم سیاحتی مقام گلمرگ میں کئی ہوٹل مالکان کے لیز کی میعاد ختم ہونے کے پیش نظر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے، تو یہ نئی نیلامیوں کو لازمی قرار دینے کے بجائے موجودہ مالکان کو لیز کی تجدید کے قابل بنائے گا، جو کہ زمین سے متعلقہ معاملات پر حکومت کے موقف کی نشاندہی کرے گا جس میں یونین ٹیریٹری انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان اختلافات دیکھے گئے ہیں۔