مینڈھر//حکومت کے اس حکم نا مہ کی محکمہ تعلیم دھجیا ں اُ ڑا رہا ہے جس میں اس بات کا اعلان کیاگیاتھاکہ تما م سرکار ی سکولو ں میں پہلی جما عت سے 12ویں تک لڑ کیو ں کو مفت تعلیم فر اہم کی جائے گی۔حالانکہ حکومت نے اسمبلی میں اس بارے میں بل بھی پاس کیا تھا لیکن اس حکم نا مہ کی محکمہ تعلیم کھلے عام دھجیا ں اُ ڑا رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں محمد شفیق ، عمر ان خان ،بر کت علی نے بتا یا کہ کئی سکو لو ں میں950روپے اور کچھ اسکولو ں میں500روپے داخلہ لیا جا رہا ہے جبکہ پر ائمر ی اور مڈل جما عتو ں کا بھی داخلہ لگا تا ر لیا جا رہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ جب اس سلسلہ میں متعلقہ ہیڈ ما سٹر یا سکول ٹیچر سے با ت کر تے ہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ان کے پاس حکومت یا محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسر ان کی جانب سے کو ئی بھی حکم نا مہ نہیں آ یا ،ایسے میں وہ کس طرح مفت تعلیم دے سکتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے ملا زمین جا ن بو جھ کر لو گو ں کو تنگ کر تے ہیں اور لا کھو ں روپے جمع کر رہے ہیں۔مذکورہ افراد کے مطابق والد ین اپنی بچیو ں کو داخل کر وانے کیلئے چکرلگالگاکر تھک چکے ہیںلیکن محکمہ کے اعلیٰ افسران کو ٹس سے مس نہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ بات واضح کی جانی چاہئے کہ مفت تعلیم کی سہولت ہے بھی یا نہیں اور ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن اس معاملے میں مداخلت کریں ۔ اس ضمن میں جب چیف ایجو کیشن افسر پونچھ سے بات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ ابھی ان کے پاس کوئی بھی ایسا حکم نا مہ نہیں آیا ، البتہ وہ آر آر کا رڈ کیلئے بچیو ں سے فیس لے رہے ہیںاور اگر کوئی حکم نا مہ آیا تو پھر وہ پا نچ سو روپے بھی واپس کردیںگے۔