سرنکوٹ//محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت زیر تعمیر لٹھونگ۔سیڑی خواجہ سڑک کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کاسامناہے اور بارشوں کے موسم میں پسیوں کے باعث ان کی زمینیں تباہ ہورہی ہیں اور مکانات کو بھی خطرہ ہے ۔ سڑک کی زد میں آنے والی اراضی کے مالکان کی شکایت ہے کہ انہیں معاوضہ بھی فراہم نہیں کیاگیا اور ان کی فائلیں تحصیلدار دفتر کی دھول چاٹ رہی ہیں ۔مقامی شہریوں نذیر حسین ، فاروق احمدا ور ثناء اللہ نے بتایاکہ ملہان کے راستے سیڑی خواجہ جانے والی اس ساڑھے چار کلو میٹر سڑک میں سے ڈھائی کلو میٹر کی زمینی کٹائی کی گئی ہے تاہم متعلقہ حکام کی غفلت کے باعث یہ کام مکمل نہیں ہوپایا۔ان کاکہناہے کہ پچھلے ایک ماہ سے متعلقہ محکمہ سنجیدگی نہیں دکھارہا جس کا خمیازہ مقامی آباد ی بھگت رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سڑک سے پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں رکھاگیا جس کے باعث سارا پانی لوگوں کی زمینوں اور گھروں میں داخل ہورہاہے ۔انہوں نے بتایاکہ سڑک کے کچھ حصے پر ایک شخص کی طرف سے رکاوٹ کھڑی کی گئی ہے جو کام نہیں ہونے دے رہا جس کے بارے میں انہوںنے ڈپٹی کمشنر پونچھ سے بھی شکایت کی جنہوں نے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئر اور ایس ڈی ایم سرنکوٹ کو کارروائی کی ہدایت دی تاہم ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیاگیا ۔انہوں نے مانگ کی کہ اس سڑک کی تعمیر جلد سے جلد مکمل کی جائے اور تارکول بچھانے کے قابل والے حصے کو بلیک ٹاپ کیاجائے ۔انہوں نے انتباہ دیاکہ اگر کام نہ ہواتو وہ احتجاج کاراستہ اختیار کریں گے اور اس دوران جموں پونچھ شاہراہ کوبند کردیاجائے گا۔رابطہ کرنے پر محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے اے ای ای شوکت چوہدری نے کہاکہ وہ پچھلے چھ ماہ سے کوشش کررہے ہیں لیکن تین سو میٹر کے حصے پر اڑچنیں کھڑی کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں اور جیسے ہی لوگ اجازت دیں گے تو مشین پہنچ جائے گی ۔ البتہ انہوں نے کہاکہ نصف سڑک پر تارکول بچھایاجائے گا۔