چین سے نکل کر کورونا وائرس رفتہ رفتہ تقریبا پوری دنیا میں پھیل کر اس شان سے اپنی تسلط قائم کر لیا اوراپنے اثرات سے لوگوں کو اس قدر خوف زدہ کر دیا کہ انسانی سماج کا ہر طبقہ کورنا وائرس کی حکومت تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا۔ دنیا بھر میں اس وبا سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن، سماجی فاصلہ جیسے جتنے بھی تدبیر کیے گئے۔ یہ تمام حکمت عملی انسان کو ان کے روز مرہ کی زندگی سے اور معاشرے سے دور کرتا گیا۔ چونکہ انسانی زندگی کا تصور بغیر معاشرتی نظام کے ممکن نہیں لہٰذا کرونا وائرس سے انسانی زندگی کو محفوظ رکھنے کے لئے جتنے بھی نسخے آزمائیں گئے یقینی طور پر ان سے حیات انسانی کی حفاظت میں مدد ملی اور آج بھی یہی سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے کئی نقصان دہ اثرات بھی سامنے آئے ہیں جن میں بے شمار لوگوں کا روزگار ختم ہونا ، غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہونا ، فاقہ کشی کی نوبت آنا ، ملکی و عالمی معیشت کو بے انتہا نقصان پہنچنا ، بچوں کا مستقل طور پر تعلیم گاہوں سے دور ہونا ، لاتعداد بچوں کا تعلیمی سلسلہ ٹوٹنا چند ایسے نتائج ہیں جن سے ابھرنے میں وقت درکار ہوگا۔ ہاں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان تمام نتائج سے مشقت اور جدوجہد کے بعد بہتر حالات میں لوٹ آنا ممکن ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ ان تمام نتیجوں پر سرکار کی مدد اور اجتماعی کوششیں بھی ہو رہی ہیں اور مستقبل میں بھی ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ لیکن احتیاطی تدابیر کے سبب جو نفسیاتی نتائج رونما ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اس سے نکل پانا وبا کے بعد عالم انسان کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ کیونکہ یہاں ہمارے معاشرے کے افراد انفرادی طور پر اضطراب ، ڈپریشن اور نفسیاتی مرض کے شکار ہو رہے ہیں اور انہیں خود ہی اپنے ان کیفیات اور حالات سے باہر آنا ہے۔ اس سمت اب تک کوئی اجتماعی کوششیں ہمارے معاشرے اور محبوب وطن میں نہیں ہے۔
دی ورلڈ فورم آف مینٹل ہیلتھ میں 24 مئی کو اپنی بیداری مہم کے تحت ورلڈ سیزو فرینیا ڈے منایا۔ اس بار فورم نے اپنی مہم کا تھیم " مینٹل ہیلتھ این این ایکول ورلڈ " رکھا۔ اس مہم کے ساتھ فورم کا مقصد نفسیاتی مریضوں تک طبی سہولتیں فراہم کرانا ہے جو ابھی بھی علاج سے محروم ہیں۔ فورم کے سروے کے مطابق وبائی دور میں کوئی بھی ملک یا اسٹیٹ اس سے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔ معیشت کے اعتبار سے بہتر ملک بھی نفسیاتی مریضوں کے علاج میں خرچ کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ متوسط اور نچلے طبقے کی تقریبا 75 سے 95 فیصد آبادی تک آج بھی ایسے مریضوں کے لیے علاج کی سہولت نہیں ہے۔ محروم مریضوں تک علاج کی سہولت پہنچانے پر زور دینا فورم کا اس تھیم کے ساتھ اہم مقصد ہے۔ یہ فکر کا مقام ہے کہ نفسیاتی مریضوں میں 5 سے 25 فیصد تک طبی سہولت نہیں پہنچ پاتی ہے۔ یہ حیرانی اور پریشانی کی بات ہے کہ نفسیاتی مرض میں مبتلا افراد کس قدر بنیادی علاج کے حق سے بھی محروم ہیں۔
نیشنل مینٹل ہیلتھ سروے 2020 کے مطابق 59 فیصد لوگوں نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ کووڈ – 19 میں نفسیاتی صحت پر اثر ڈالا ہے۔ یقینا یہ بڑی تعداد ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان میں سے اچھی خاصی تعداد میں لوگ نفسیاتی مرض کے شکار بھی ہو جائیں۔ ورلڈ اکانومی فورم کے سروے کے مطابق 13 – 14 عمر کے لڑکے لڑکیاں بڑی تعداد میں اسکول بند ہونے کے سبب ذہنی اضطراب میں مبتلا ہیں۔ جو ان بچوں کے نفسیات پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اور یہ ضروری بھی ہے کہ ان نوجوانوں نے اپنی زندگی میں ایک اجنبی سا ماحول دیکھا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ طالب علم کی یہ حالت انہیں ڈپریشن اور ذہنی امراض میں مبتلا کر سکتی ہے۔ نیشنل مینٹل ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق ملک کے تقریبا 10 فیصد آبادی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہیں۔ 13 – 17 عمر والے شہری علاقہ کے نوجوانوں13.5 فیصد اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ دیہی علاقوں کے تقریبا 7 فیصد نوجوان متاثر ہیں۔
موجودہ لاک ڈاؤن کے سبب جو حالات ہیں اس کا مقابلہ کرنا نوجوانوں کے لیے مزید مشکل ہو گیا ہے۔ کیونکہ گزشتہ تقریبا ڈیڑھ برس سے وہ تعلیم گاہوں سے دور اور عجب سی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ تنہائی لوگوں کی مقدر بنی ہوئی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے کتراتے ہیں۔ وبا کی دہشت نے ایک الگ ہی سماجی نظام قائم کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات روشن ہیںجو آنے والے وقت میں بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
یہ ایک بڑی سچائی ہے کہ نفسیاتی مریضوں کے علاج کے لئے ہمارا معاشرہ ابھی بھی خود کو آمادہ نہیں کر پایا ہے۔ ایسے مریضوں کو نہ جانے کیوں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان سے بھید بھائو ہمارے معاشرے کا چلن بن گیا ہے۔ انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جبکہ اکثر ڈاکٹر اور ماہرین کا ماننا ہے کہ بہتر علاج کے ساتھ ساتھ مساوی حقوق ، محبت اور اختیارات دیا جانا ان کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جو کہ عام طور پر ہمارا سماج اور ہمارا معاشرہ انہیں نہیں دے پایا ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کی مایوسی بعض اوقات خود کشی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ وبائی دور میں خودکشی کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جاپان کے بارے میں یہ خبر عام رہی جتنے لوگوں کی جان وبا سے نہیں گئی اس سے کہیں زیادہ لوگ خودکشی کے سبب موت کے شکار ہوئے ہیں۔ ملک میں آئے دن خودکشی کے ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جو یقینا فکر کی بات ہے۔ فی الحال نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں بڑے اضافے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے جو کہ ایک بڑی آبادی کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ لہٰذا ان حالات سے نمٹنے کیلئے حکومت کو کمر کسنے کی ضرورت ہے۔اسے ایک چیلنجنگ مرض مان کر خصوصی اقدامات لازمی ہیں۔ شہری علاقوں کے ساتھ بلاک سطح پر بھی کم از کم ایک ڈاکٹر ہر بلاک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔ ساتھ ہی سماج کو بھی آگے آنا ہوگا۔ ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی لاناہوگی اور نفسیاتی مریضوں سے مساوات اور محبت کا سلوک کرنا ہی ہوگا۔ ساتھ ہی انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی ورنہ ملک میں وبا کے زیر سایہ نفسیاتی امراض کے تعلق سے جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اگر وقت رہتے مناسب اقدامات نہ کئے جاسکے تو یہ ہمارے معاشرے کے لئے بڑے خسارے اور نئی مشکلات کا باعث ہوگا۔
رابطہ۔8240349807