دسمبر2019کے آخری ہفتے میں چین کے ووہان شہر میں اُٹھی کرونا وائرس کی وبائی لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جن ممالک میں اس مرض نے زیادہ وبائی صورت اختیار کی ہے وہ ترقی یافتہ ملک کہلاتے ہیں۔ اب سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ جن ممالک میں جی ڈی پی کا عشر عشیر بھی شعبہ صحت پر خرچ نہ ہوتا ہو یا جہاں پر صحت عامہ کی حالت ہی مخدوش ہو، وہاں اس وبائی مرض کا خطرناک حملہ اگر ہوجائے تو پتہ نہیں کس طرح سے آبادی کا صفایا ہوسکتا ہے ۔
اسی چیز کو بھانپتے ہوئے یہاں کی انتظامیہ نے دیگر ریاستوں میں لاک ڈائون کرنے سے پہلے ہی اسکولی بچوں کو اسکولوںسے رخصت کر دیا اور عبور و مرور پر پابندی لگا دی ۔ اس کے بعد جب یہاں پر بھی لاک ڈائون پر عمل در آمد شروع ہوگیا تو استاتذہ صاحبان کو بھی گھروں کے اندر رہنے کے احکامات صادر ہوئے۔ یوں کورونا کی و بائی بیماری سے سب سے پہلے یہاں کے نظام تعلیم کو ہی متاثر ہونا پڑا۔ سرمائی تعطیلات کے بعد جونہی بچوں نے فروری میں پھر سے اسکولوں کا رخ کر دیاتھا، اور ابھی ایک مہینہ بھی ان کی پڑھائی کو نہ ہو ا تھاکہ اچانک سے پھر ایک آفت آپڑی اور یوں تعلیمی نظام پھر مفلوج ہوکر رہ گیا۔سکول بند پڑے ہیں، کالج اور یونیورسٹیاں مقفل ہیں ۔
ان حالات میں جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے جو ہدایات اسکولی عملے کیلئے دے رکھی ہیں ان کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ کہیں اساتذہ کو یہ ہدایات دی گئیں کہ بچوں کے گھروں پر مڈ ڈے میل کا راشن پیشگی پہنچایا جائے، تو کہیںاساتذہ سے کہا گیا کہ اپنے طور پر لیکچرز کو ریکارڈ کرواکے بچوں تک پہنچائیں،کہیں یہ بھی کہا گیا کہ چین میں استعمال کی گئی ایپ زوم ایپ کا استعمال کرکے بچوں کوآن لائن کلاس کے لیے مدعو کیا جائے، کہیں حکام کی طرف سے یہ ہدایات بھی پہنچائی گئیں کہ بچوں تک assignments پہنچائے جائیں۔ ڈی ڈی کاشر نے بھی اس حوالے سے کچھ اقدامات کئے ہیں جس میں بچوں کے لیے بنیادی سطح تک کے موضوعات پر لیکچرز ٹی وی اسکرین پر ٹیلی کاسٹ کئے جاتے ہیں۔بچوں کو کتابوں سے جوڑے رکھنے اور ان کے نفسیاتی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے ایڈوائزریز بھی اجراء کیں اور آن لائن مشوروں کے لیے سہولیت بھی دستیاب رکھیں۔ بلا شبہ یہ تمام اقدمات قابل تعریف ہیں اور اسے یہ بات بھی آشکار ہوجاتی ہے کہ ہم تعلیم کو ایک سنجیدہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں بچوں، والدین اور اساتذہ کا کیا خیال ہے، اس کا خلاصہ یہاں پیش خدمت ہے؛
انتظامیہ کی طرف سے جتنے بھی اقدامات اٹھائے ہیں وہ آن لائن یا انٹرنیٹ کا استعمال کرکے ہی عملائے جاسکتے ہیں۔ لیکن جموں و کشمیر کے خطے میں انٹرنیٹ کی سہولیت پر ابھی بھی پابندی برقرار ہے۔ انٹرنیٹ ۲ ؍جی رفتار کے ساتھ گو کہ چل رہا ہے لیکن مندرجہ بالا اقدامات کو عملانے میں ۲؍ جی کی رفتار سے یہ کام نہایت ہی مشکل ہے۔ دوم،ہر ایک بچے تک واٹس ایپ ، یو ٹیوب یا زوم ایپ کی رسائی ناممکن ہے۔ سوم، اب اگر والدین کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون کی سہولیت دستیاب ہے لیکن وہ اپنے بچوں کو اپنی نگرانی میں اس سہولیت سے استفادہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔چہارم، ہر ایک بچے کے گھر میں ٹی وی سیٹ کی سہولیت دستاب نہیں ہے۔ اس طرح سے استاتذہ صاحبان اپنی طرف سے حتی المقدور کوششیں بھی کر رہے ہیں لیکن خاطر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہو رہے ہیں۔ ایک سرکاری استاد کا کہنا ہے کہ’’ اکثر والدین کے موبائل میں انٹرنیٹ کی سہولیت دستیاب نہیں ہے ، اب اگر کسی کے پاس ہے تو وہ اس طرح سے اسے استعمال نہیں کر پاتا ہے جس طرح ہم انہیں کہتے ہیں ۔ میں نے اپنی طرف سے حتی المقدور کوشش کی لیکن نتیجہ صفر کے برابر رہا ۔علاوہ ازیں ہمارے لیے یہ نہایت ہی مشکل کام ہے کہ ۳۰؍ منٹ کے ویڈیو کلاس کو آن لائن کرا سکیں‘‘۔ ایک اور استاد کا کہنا ہے کہ ’’ ہم نے اپنے اسکول میں لے دے کے ۵۷؍ بچوں کے والدین کے فون نمبرات ڈھونڈے، جن میں صرف ۷؍ نمبرات پر واٹس ایپ رجسٹر تھا۔ انہیں جب ہم نے ایک واٹس ایپ گروپ سے منسلک کر دیا تو ۷؍ میں سے ۲؍ نے راہ فراراختیار کی۔ ہم نے اس کے بعد لیکچرز اور نوٹس اس گروپ میں بھی ڈالے ، لیکن والدین انہیں ڈائون لوڈ ہی نہیں کر پاتے ہیں ‘‘۔
جموں و کشمیر میں اس حوالے سے غیر سرکاری انجمنیں بے بس دکھائی دے رہی ہیں۔ کئی ساری جگہوں کچھ نوجوان انفردی سطحوں پر بچوں تک آن لائین پہنچنے یا آن فون کوششوں میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر اس وقت حد سے زیادہ دھیان دے۔ اگر وہ خود خواندہ ہیں تو اپنی طرف سے بچوں کو پڑھائی کرائیں۔ اپنے آس پاس میں اگر کوئی قریبی رشتہ دار یا ہمسایہ ہو جو کہ ان کے لیے استاد کا متبادل بن سکتا ہے تو وہاں تک رسائی ممکن کرائی جاسکے۔ سرکاری عملے کو بھی مخلص ہوکر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ سوچ و چار کرکے متبادل ڈھونڈنے کے لئے تحقیق کرنی چاہیے،وہیںاساتذہ کو بھی اپنی طرف سے ان حالات میں مصروف رہنا چاہیے کہ تعلیم کا ایک درس اگر ایک ہی بچے تک پہنچ جائے تو یہ بھی ایک بہت بڑی بات بن سکتی ہے۔ کشمیر چنانچہ اکثر و بیشتر لاک ڈائون و شورش سے جوجھتا رہتا ہے، تو اس حوالے سے موجودہ وقت کیلئے کئے گئے اقدامات آگے بھی کہیں کام آسکتے ہیں۔
ریسرچ سکالر ،شعبہ سوشل ورک، کشمیر یونیورسٹی سرینگر