عبدالرؤف قادری
وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جو ہر کس نا کس کے لئے یکساں موقع فراہم کرتا ہے۔ وقت انسان کی زندگی کایک ایسا اہم اور قیمتی سرمایہ ہے جس کی وجہ سے انسان بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے ۔ وقت کی قدروقیمت کو سمجھنا کامیابی ہے اور اسکی ناقدری اور ناشکری سب سے بڑی محرومی ہے۔ وہ قومیں جنہوں نے وقت کی قدروقیمت کا لحاظ رکھا اور اس کا صحیح استعمال کیا ،وہ بامراد ہوئے اور ایسی قومیں صحرا کو گلشن میں تبدیل کر سکتی ہیں، وہ آندھی اور طوفانوںکا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہارتے ،سمندروں کا سینہ چیرسکتے ہیں۔ وہ ستاروں پر کمنڈیں ڈال سکتےہیں زمانہ کی قیادت کےحامل ہوسکتے ہیں، جن قوموں نے جان بوجھ کر وقت کے ساتھ غداری کی اور اس کی اہمیت کو نہ سمجھا ، وقت نے بھی ان کے ساتھ وفا نہ کیا بلکہ وقت نے انہیں ضائع وبرباد کرکے انہیں پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ۔
افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمارا قیمتی وقت کہاں گزر رہا ہے ؟ ہماری اکثریت اپنے قیمتی اوقات کو موبائیلوں یا پھر اپنے ہی گھروں میں ٹی وی کے ساتھ پراگندگی سے لطف اندوز ہونے کے لئے برباد کرتی ہے ۔کاش ہمارا یہی وقت دین و دنیا کی بھلائی کے لئے اسلامی کتب کی پڑھائی اور نماز ا ور دیگر ارکان اسلام کی تراکیب سیکھنے میں گزرتا توکتنا اچھاہوتا ،اگر ہم روزانہ ایک کتاب کے دس صفحات کامطالعہ کریں تو سال میں ساڑھے سات ہزار صفحات پڑھ سکتے ہیں لیکن ہم خواب غفلت میں پڑے ہیں اور اپنے قیمتی وقت کو بے جا کاموںپر صرف کر رہے ہیں۔ یاد رکھیںکہ ایمان والوں کے لئےوقت کے صحیح استعمال کے دو بنیادی مقصد ہیں (۱) پہلا یہ کہ ہم اس بات کا اہتمام اور کوشش کریں کہ ہمارے وقت کا کوئی لمحہ بھی بیکارنہ ہو۔(۲ ) دوسرا مقصد اس میں ہم کتنا زیادہ وقت اپنے فرائض کی ادائیگی اور اللہ تعالی کے عائد کردہ حقوق کی ادائیگی کے لیے نکالتے ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم سوچتے ہیں کہ وقت بہت کم ہے ، ایسا نہیں بلکہ وقت میں کاموں کی ترتیب ضروری ہے ۔اگر ہم طے کرلیں کہ کونساکام ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے،پھر دوسری ترجیح ہونی چاہیے اور پھر تیسری ترجیح ہونی چاہئے، تو وقت کی کمی کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔بحیثیت مسلمان ہمیںاس میں حضوراکرم ؐ کی ذات ِ مبارک کو آئیڈیل بنانا چاہیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری نبوی زندگی میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جس دن آپؐ نے قرآن نہ پڑھا ہو اور دوسروں کو پڑھاکر محسن نہ بنے ہوں، اور آپ ؐ کے صحابہ کی زندگی کی بھی یہی ترجیح تھی۔ حضور اکرمؐ کے صحابہ اتنا قرآن پڑھتے تھے کہ حضور اکرمؐ کواُن کو مخاطب کرکے فرمانا پڑا کہ کوئی تین دن سے کم میں قرآن ختم نہ کرے۔( حدیث) اگر ہماری بھی ترجیحات وہی ہوگی جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے تو ہمارے لئے وقت کی کمی کا مسئلہ پیش نہ ہوگا۔
دن کا آغاز نماز فجر سے کریں۔کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمان ہےکہ صبح سویرے اٹھو گےتو تمہارے رزق و مال میں برکت ہوگی اور اگر نہیں اٹھو گے تو پریشان ورنجیدہ رہو گے۔ صبح جلدی اُٹھنے اور فجر کے بعد نہ سونے کے نتیجے میں ہم کو دن میں کئی گھنٹے اضافی مل جاتے ہیں۔ یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ صبح کے 8 بجےجسے دنیا میں پرائم ٹائم کہا جاتا ہے، ہم سونے میں گزار دیتے ہیں۔ وقت کی ترتیب و تنظیم کا یہی نام ہے کہ انسان اپنے پرایم ٹائم کو سب سے بہترین طریقے سے استعمال کر سکے۔ اگر ہم صبح پانچ بجے اٹھ جائیں تو جو کام دن میں 3 گھنٹے میں کرتے ہیں وہ صبح کے وقت ایک گھنٹے میں ہی کر لیں گے اور ہمیں محسوس ہوگا کہ ہمارا دن ختم ہی نہیں ہورہا ہے۔ اس سنت کو اپنائے بغیر اور اس عادت کو اختیار کئے بغیر ہمارے لئے نہ اخروی کامیابی ممکن ہے اور نہ دنیا کی برتری۔
ہرفرد کو چاہیے کہ اپنے معاش کے لیے ایک وقت مقرر کرے کہ مجھے اپنے اوقات کا کتنا حصہ معاش کیلئے صرف کرنا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہر آدمی کی روزی اور اس کا رزق مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا ہمارے مقدر میں لکھا ہے اتنا ہی ملے گا، چاہے ہم آٹھ گھنٹے کام کرےیا 16 گھنٹے۔ انسان کی جسمانی استطاعت کے بارے میں محققین کہتے ہیں کہ کوئی بھی آدمی جب اپنے معاش کے لئے آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرتا ہے، تو اسکا زائد صرف کردہ وقت کارآمد نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشروں میں آٹھ گھنٹوں سے زیادہ کی ملازمت نہیں ہوتی اور یہ کہا جاتا ہے کہ آدمی اپنی اوقات میں زیادہ سے زیادہ کام کرکے اپنے حصے کا کام پورا کرے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے معاش کے لئے ایک وقت مقرر کریں جو آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہ ہو، اپنے آٹھ گھنٹوں میں پوری قوت اور توانائی کے ساتھ کام کریں۔ بہت سارے لوگوں نے تجربہ کرکے یہ سکھایا ہے کہ واقعی جو کام ہم بارہ اور چودہ گھنٹوں میں کر رہے تھے،و ہیں یہ کام اب ہم آٹھ گھنٹوں میں کر سکتے ہیں، اسکے نتیجے میں ہم اپنے اوقات میں کافی اضافہ کر سکتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں وقت کی پابندی کا اہتمام نہ ہونے کے کلچر کی وجہ سے روزانہ کئی گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں۔بالعموم مقررہ کام وقت سے بیس پچیس منٹ بعد میں شروع ہوتے ہیں، کچھ لوگ مقررہ وقت پرآ جاتے ہیںاور کچھ نہیں۔جس کے نتیجے میں جو وقت پر آ جاتا ہے اس کا بھی وقت ضائع ہوتا ہے اور جو نہیںآتا ہے، اس کا بھی۔اس انتظام کے وقت کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے اپنے دائروں میں انتہائی ممکنہ حد تک وقت کی پابندی کا اہتمام کریں اور ایک دوسرے کوباور کروائیں تو سب کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ دورِ حاضر میں وقت کو ضائع کرنے والی چیزوں میں سب سے پہلا نمبر موبائیل فون کا ہے۔ ایک عام آدمی دن میں 3 سے 4 گھنٹے موبائیل کے ساتھلگا رہتا ہے۔موبائیل کے بعد دوسرا نمبر ٹیلی ویژن کا ہے۔ ہمیں یہ اندازہ کرنا چاہیے کہ روزانہ ہم کتنے گھنٹے ٹیلی ویژن یا موبائل فون پر صرف کرتے ہیں۔ اوسطاً ایک موبائل فون پر روزانہ 20 کالر اور 12 ایس ایم ایس موصول ہوتے ہیں، اگر آپکو اس وقت کو کنٹرول نہیں کر سکتے تو روزانہ ایک سے دو گھنٹے فون کالز اور ایس ایم ایس کا جواب دینے میں لگ جائیں گے، اپنے ٹیلی فون پر گزرے ہوئے وقت کا اندازہ اور تعیین کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو اس حوالے سے ایک نظم میں لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے فون ہمارے وقت کو ضائع کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے جس کو کنٹرول کیے بغیر ہم اپنے وقت کو قابو نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح ہمارا جو وقت ٹیلی ویژن کے سامنے ضائع ہوتا ہے اس کو بھی کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے
مختصر گفتگوایک فن ہے۔ جس کا اشارہ حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ اصحاب کے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا، اُس کو پڑھنے میں صرف 7 منٹ لگتے ہیں۔ اسی طرح صحابہ کبار کے خطبے بھی مختصر ہوتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات نے خصوصیت کے ساتھ تکرار بھی تھی،خودحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بات کو دو تین دفعہ بیان کرتے تھے تاکہ بات ذہن نشین ہوجائے ۔جدید سائنسی تحقیق سے بھی بات معلوم ہوتی آئی ہے اگر کوئی فرد گھنٹے کی تقریر توجہ سے سنے تو اسکا صرف 10فیصد اگلے دن تک یاد رکھ سکتا ہے۔ دعوتی کام کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ بات جامع اور مختصر ہو اور تکرار کے ساتھ ، تاکہ بات ذہن نشین ہوجائے ۔گفتگو کرنے سے پہلے ایک لمحے کیلئے اس بات کا تصور ضرور کریں گے جو الفاظ بھی ہم بولیں گے ،اس کا حساب پورا پورا ہمیں اللہ تعالیٰ کے ہاں دینا ہوگا۔
احادیث اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت و رسالت اور اسلامی ریاست کے سربراہ ہونے کی گراں بہا ذمہ داریوں کے باوجود بھی اپنے گھر والوں کے لیے اور تفریح کے لیے وقت نکالتے تھے۔ دین کے کام کا مطلب یہ نہیں کہ صرف گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکے، گھر کے کام کاج میں ہاتھ نہ بٹا سکے یا تفریح نہ کرسکے ۔احادیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم اپنی ساری بیویوں کو جمع کرکے ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے ،گفتگو کرتے تھے ،ہنسی مزاح کرتے تھے، گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے اور اپنے نواسوں کو جمع کرکے ان کے درمیان کشتی کرواتے تھے۔ یہ ساری چیزیں ہماری زندگی کا بھی حصہ ہو نا چاہیے، ہمیں اپنی ترجیحات میں اس بات کو شامل کرنا چاہئے کہ ہمارا گھر بھی ہماری دعوت کا مرکز ہو، گھر والوں کی تربیت اور خوشیاں، تفریح ان کا حق ہے۔ ہمارے والدین اگر زندہ ہیں تو ان کی خدمت کر کے جنت کما لینا ہماری ترجیحات کی فہرست میں لازماً شامل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں بہت سارے اوقات ایسے آتے ہیں کہ جب ہم فارغ ہوتے ہیں، بعض اوقات ہم سفر میں ہوتے ہیں یا کسی کے منتظر ہوتے ہیں یا کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے ہیں، اَن اوقات میں ہمیں اس بات کی عادت اپنا لینی چاہیے کہ جب بھی ہم فارغ ہو تو اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھیں ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے کلمات بتائے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے اور اَجر میں بہت بھاری ہیں۔ ان کلمات کو بار بار دہراتے رہیں، کثرت سے استغفار کریں، ایک ایک لمحہ جو ہمارے پاس ہے وہ اللہ کے ذکر میں اور استغفار میں صرف ہو، تو یہ وقت کا بہترین استعمال ہے ۔ حدیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مومن کا لمحہ کارآمد ہوتا ہے، جب اس پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو صبر کرتا ہے،اور اللہ تعالی کو یاد کرتا ہے، جب خوش ہوتا ہے تو شکر ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے ہمیں اس بات کا بھرپور اہتمام کرنا چاہئے کہ نہ ہمارے وقت کا کوئی حصہ ضائع ہوا ورنہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے لوگوںمیں سے کسی کا وقت ضائع ہو، جب ہم دوسروں کے وقت کی قدروقیمت کا احساس کریں گے، اللہ وقت میں برکت ڈال دے گا۔ اگر ہم دوسروں کے وقت کی قدروقیمت کا احساس نہیں کریں گے اور دوسروں کا وقت ضائع ہوتا رہیگا تو اللہ تعالی ہمارے وقت کی قدرو قیمت بھی کم کردےگا ۔
<[email protected]>