عظمیٰ نیوز سروس
جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کل کہا کہ محکمہ ثقافت کو جموں و کشمیر کے قیمتی تاریخی و ثقافتی ورثہ مقامات کی بحالی، مرمت اور تحفظ کی ذِمہ داری سونپی گئی ہے اور اِس سلسلے میں پریہاس پورہ، پٹن اور ٹپر سمیت اہم مقامات پر کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے اِس بات کا اِظہار آج ایوان میںرُکن اسمبلی پٹن جاوید ریاض بیدار کی طرف سے ورثہ سیاحت کے فروغ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ جن کے پاس ثقافت اور سیاحت محکمہ جات کا قلمدان بھی ہے ،نے ایوان کو بتایا کہ پریہاس پورہ ،پٹن اور تاپرکے تاریخی مقامات پر ورثہ سیاحت کے فروغ کی ذِمہ داری آرکیالوجیکل سروے آف اِنڈیا ( اے ایس آئی) کے پاس ہے ۔ اِسی کے مطابق اِن مقامات پر تحفظ، حفاظت اور بڑے ترقیاتی اَقدامات آرکیالوجیکل سروے آف اِنڈیا ( اے ایس آئی) کے ذریعے کئے جا رہے ہیں۔
تاہم اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر محکمہ سیاحت نے سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنے کے پیش نظر پریہاس پورہ میں ایک ٹورسٹ کیفے ٹیریا تعمیر کیا ہے تاکہ سیاحوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ ثقافت کی طرف سے اُٹھائے گئے اَقدامات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پریہاس گووردھن پریہاس پورہ کو19؍ ستمبر 2013 کے ایس آر او408 کے تحت ریاستی طور پر محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ یادگار کے اِرد گرد چین لنک باڑ لگانے سمیت حفاظتی اقدامات مالی برس 2024-25 کے دوران کیپیکس بجٹ کے تحت مکمل کئے گئے جن پر تقریباً 39.89 لاکھ روپے کی لاگت آئی۔ اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ دیور یخمن پورہ پریہاس پورہ ایک ریاستی محفوظ یادگار ہے جسے ایس آر او ۔337 بتاریخ 31؍ اگست 1989 کے تحت قرار دیا گیا ہے۔ یہ مقام ایک قدیم مندر کے احاطے پر مشتمل ہے جہاں اس وقت کھدائی کا کام جاری ہے۔کھدائی کا یہ کام مالی برس 2023-24 کے دوران جموں و کشمیر میں تعمیراتی اور ثقافتی ورثے کی بحالی، تحفظ اور مینی ٹیننس سکیم کے پہلے مرحلے کے تحت شروع کیا گیا جس کی تخمینی لاگت 373.10 لاکھ روپے ہے۔ تقریباً 60 فیصد کھدائی مکمل ہو چکی ہے۔ چوں کہ یہ عمل دستی کھدائی پر مشتمل ہے۔اِس لئے یہ کام اگلے مالی برس تک جاری رہنے کا اِمکان ہے ۔ اِس مقام کی نگرانی محکمہ باقاعدگی سے کر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پٹن میں سکھ ناگ کے قریب واقع مندر اور چشمے پر مشتمل ایک تاریخی مقام کو ایس آر او 517 بتاریخ 29 ؍ اگست 2019 کے تحت ریاستی طور پر محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ سکھ ناگ چشمہ اور مندر پر بحالی اور ترقیاتی کام مالی برس 2024-25 کے دوران اسی سکیم کے تحت انجام دئیے گئے جن پر تقریباً 229.92 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تاپر تاریخی مقام ایک مرکزی طور پر محفوظ یادگار ہے جو محکمہ آثارِ قدیمہ ( اے ایس آئی) کے اِنتظامی کنٹرول میں ہے اور اِسی وجہ سے اس مقام پر محکمہ کی طرف سے کوئی اَقدام نہیں کیا گیا ہے۔