سبزار رشید بانڈے
دنیا کے تمام ممالک تعلیمی پالیسی پر زور دیتے ہیں۔ تعلیمی پالیسیوں کے نتائج اور سماجی اور معاشی ترقی پر ان کے اثرات پر توجہ دینے کیلئے عالمی سطح پر دنیا بھر کی حکومتوں کو غور کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ تعلیمی پالیسی مرتب کرنے کیلئے برسوں محنت کی جاتی ہے جس میں کئی باتوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے تاکہ ایک بہترین تعلیمی پالیسی تیار ہو جس کا فائدہ طلباء کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی ہو۔ ہر تعلیمی پالیسی کا مقصد ملک کے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں 1986کے بعد سے تعلیمی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔البتہ 1992میں اس میں چند ترامیم کی گئی تھیں۔ تاہم29جولائی2020کو مرکزی کابینہ نے نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کے عمل میں آتے ہی ملک کے تعلیمی نظام میں کئی اہم تبدیلیاں ہوں گی۔
تعلیمی پالیسی کی تاریخ:ابتداء ہی سے ہمارے ملک میں وہ افراد تعلیمی پالیسی مرتب کرتے رہے ہیں جو اقتدار میں ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آزادی سے قبل تعلیمی پالیسی تیار کرنے کیلئے نہ کسی سائنسی طریقے کا سہارا لیا جاتا تھا اور ہی نہ کوئی تحقیق کی جاتی تھی۔برسر اقتدار افراد جس چیز کو اہم خیال کرتے یا جو چیز انہیں دلچسپ محسوس ہوتی تھی، اسے تعلیمی پالیسی میں شامل کرلیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں جب انگریزوں نے قدم رکھا تو وہ اپنے ساتھ تعلیم کا مغربی نظام بھی لائے۔ مورخین کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں تعلیمی پالیسی لانے والے انگریز ہی تھے۔ ان کے خیال میں ہندوستان کا تعلیمی نظام فرسودہ تھا جسے بدلنا بہت ضروری تھا۔ انگریزوں نے کوشش کی کہ ہندوستان کے ہر حصہ میں تعلیمی نظام کو مستحکم کیا جائے لیکن اس وقت تعلیم صرف اعلیٰ ذاتوں اور امراء ہی کے بچوں کو دی جاتی تھی۔ غریب طلبہ کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا تھا۔لیکن وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے سبھی طبقات تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے لگے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے تگ و دو کرنے لگے۔
آزادی کے بعد :آزادی کے بعد سینٹرل بورڈ آف ایجوکیشن (سی اے بی ای) نے دو کمیشن بنائے جن میں سے ایک کا کام یونیورسٹی کی تعلیم پر جبکہ دوسرے کا کام سیکنڈری ایجوکیشن پر توجہ دینا تھا۔ پہلی کمیشن نے 1948میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا جبکہ سیکنڈری ایجوکیشن کی کمیشن نے ڈاکٹر اے ایل لکشمن سوامی کی قیادت میں 1952میں اپنے کام کی شروعات کی تھی۔ اس کمیشن نے 1953میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں ملک کے تعلیمی نظام کے متعلق کافی تفصیل سے بتایا گیا تھا۔اسی رپورٹ میں ملک میں ہائی سکولوں کی تعمیر، طلبہ کیلئے یونیفارم اور ٹیکنیکل سکولوں کو شروع کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ یہ پالیسی کئی وجوہات کی بناء پر قبول نہیں کی گئی البتہ اس کی چند تجاویز کو بہتر قرار دیا گیا تھا۔
کوٹھاری کمیشن کی تشکیل:ڈی ایس کوٹھاری کی لیڈرشپ میں 1964میں انڈین ایجوکیشن کمیشن (کوٹھاری کمیشن) تشکیل دی گئی تھی جس نے1953کی کمیشن کے ان نکات پر خاص توجہ دی جن کے سبب اسے قبول نہیں کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کے کمزور تعلیمی نظام کو بیک وقت کئی اصلاحات ہی مستحکم کرسکتی ہیں۔
نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن: کوٹھاری کمیشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اندراگاندھی کے دور میں1979میں ’’ڈرافٹ نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ بنائی گئی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے ہندوستان کی تمام کمیونٹیز کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگااور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔1986میں وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ’’نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ مرتب کروائی جس میں معاشرہ کے تمام طبقات کو مد نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے تعلیمی پالیسی بنائی گئی تھی۔ تنقیدکے باوجو ، اس پالیسی کو ہندوستانی تعلیمی نظام کو شکل دینے کی پہلی منظم کوشش کے طور پر سراہا گیا۔ اس کا ایک مقصد معاشرہ کے ہر طبقہ، خاص طور پر نچلی ذاتوں ، قبائلیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر زور دینا تھا۔ اسے منظوری ملنے کے بعد بڑے پیمانے پر ملک بھر سے ٹیچروں کا تقرر کیا گیا، نئے سکول اور کالجز تعمیر کئے گئے۔ اس پالیسی کا ایک اہم مقصد تمام بچوں کو پرائمری تک کی تعلیم دلوانا یقینی بنانا بھی تھا۔ اسی پالیسی میں تعلیمی نظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
تعلیمی پالیسی میں ترامیم:ہمارے ملک کی حکومت نے 1992میں اچاریہ راما مورتی کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا۔ اس کے بعد این جنا دھن ریڈی کی لیڈرشپ میں سینٹرل ایڈوائزری بور ڈ آف ایجوکیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے کئی اہم ترامیم پیش کیں جن میں تعلیمی نظام کو مزید مستحکم کرنا اور معیاری تعلیم دینا قابل ذکر ہیں۔
نئی تعلیمی پالیسی:پہلی قومی تعلیمی پالیسی1986 میں مرتب کی گئی تھی جس میں1992میں ترمیم کی گئی تھی۔ تقریباً 3 دہائیوں سے اس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس مدت میں دنیا بھر میں کئی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔21ویں صدی کے تقاضوں اور ملک کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ہمیں ایک نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت تھی۔2014میں اس جانب ایک مرتبہ پھر توجہ دی گئی۔ جب سمرتی ایرانی کو وزیر برائے ترقی انسانی وسائل بنایا گیا تھا تبھی ملک کے مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے گزشتہ تعلیمی پالیسیوں ، دیگر ممالک کے تعلیمی نظام اور مختلف شعبوں کی تحقیق کے بعد 2019میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ واضح رہے کہ اس دوران سمرتی ایرانی کے بعد2016 میں پرکاش جاویڈیکر اور مئی2019میں رمیش پوکھریال کو وزیر برائے ترقی انسانی وسائل بنایا گیا تھا۔
دی ڈرافٹ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2019(ڈی این ای پی) کا 22زبانوں میں ترجمہ کرکے اسے ’’مائے گو‘‘ (مائے گورنمنٹ) اور وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کی ویبس سائٹس پر اپ لوڈ کیا گیا اور ملک کے ماہرین اور عوام سے اس پر رائے طلب کی گئی۔ تمام ریاستوں کے وزارء کے علاوہ عوام کی جانب سے اس پالیسی پر حکومت کو تقریباً 2لاکھ جوابات موصول ہوئے۔ نومبر 2019میں نئی تعلیمی پالیسی کو پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیا گیا جہاں اس پالیسی پر کافی بحث کی گئی۔ تاہم29جولائی2020کو کابینہ نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔ اس پالیسی کا مقصد موجودہ ہندوستانی تعلیمی نظام میں متعدد تبدیلیاں متعارف کروانا ہے۔ اسی دن وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کو دوبارہ وزارت تعلیم اور رمیش پوکھریال کو وزیر تعلیم بنایا گیا۔
کیا جاننا ضروری ہے؟: تعلیم کا حق پہلے 14سال کی عمر تک ہی تھا، جسے3سے18سال کی عمر تک لازمی قرار دیا گیا ہے۔
تعلیم حاصل کرنے کے موجودہ طریقے کو تبدیل کیا جائے گا۔
بورڈ امتحانات میں طلباء کو درحقیقت کتنی معلومات ہے اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ روٹ لرننگ (رٹا مارکر پڑھائی کرنا) کا فیصد کم کردیا جائے گا۔
بورڈ امتحانات سال میں 2 مرتبہ منعقد ہوں گے۔
نصاب میں3 زبانوں کی پالیسی برقرار رہے گی البتہ مادری زبان یا مقامی زبان 5ویں یا8ویں جماعت تک ہی تعلیم کا ذریعہ ہوگی۔رپورٹ کارڈ (رزلٹ) صرف نمبروں اور ریمارکس کے بجائے طلباء کی مہارت اور صلاحیتوں پر ایک جامع رپورٹ کی شکل میں ہوگا۔
سکول کے طلباء کو سال میں10’’بیگ لیس ڈے‘‘یعنی بغیر بستہ کے دن دیئے جائینگے۔ ان دنوں میں وہ اپنی دیگر صلاحیتوں (غیر نصابی سرگرمیوں ) پر توجہ دیں گے۔
طلبہ کو آرٹس، سائنس اور کامرس میں تقسیم ہونا نہیں پڑے گا بلکہ وہ کسی بھی شعبے سے اپنی پسند کے مضامین منتخب کرکے تعلیم حاصل کرسکیں گے۔
کالج میں داخلہ لینے کیلئے کامن انٹرنٹس ٹیسٹ منعقد کیا جائے گا۔
گریجویشن 3سال کے بجائے 4سال کا ہوگا۔
تعلیم دینے کے جدید طریقوں جیسے ٹیکنالوجی وغیرہ کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔
رابطہ۔ماندوجن شوپیان کشمیر
استاد گورنمنٹ مڈل سکول ماندوجن شوپیان