اندازِ جنوں کونسا ہم میں نہیں مجنوں
پر تیری طرح عشق کو رْسوا نہیں کرتے
آج کا دن یعنی ۱۱نومبر جو یوم تعلیم کے طور پہ منایا جاتا ہے، منسوب ہے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم سے جو مولانا ابولکلام آز۱د(11-11-1888…22-02-1958) کے نام سے معروف و مانوس ہیں۔ جنہوں نے آنکھ کھولی تو مکہ معظمہ میں لیکن صحیح معنوں میں ان کو نگاہ جو ملی، ہندوستان میں ملی۔انہوں نے ادبی علمی، سماجی تعلیمی، سیاسی غرض کہ زندگی کے ہر میدان میں اپنا خاصا کردار نبھاکر اپنے تخیلی و تخلیقی اثاثے کا بھرملا اظہار کیا۔ اْن کی ہمہ گیر شخصیت میں ہمیں بیک وقت ایک عالم دین، سیاست دان، صحافی، مصلح، دانشور، انشا پرداز، ادیب و خطیب کے نمایاں کردار ملتے ہیں۔ اور ان سبھی شخصی پہلوئوں کا ان کے تعلیمی نظریات پردور دور تک ایک گہرا اثر پڑا۔ ان کے ادبی و علمی کارناموں کو سمجھنے کی خاطر خود آزاد اور اسکی وسعتوں اور اونچائیوں کا احاطہ بہت ضروری ہے۔ چونکہ ان کے محرکات و متاثرات کا ماخذ کبھی مذہب تو کبھی سائنس، کبھی فلاسفی تو کبھی تاریخ رہا ، انکی تعلیمی ترجیہات میں ہمیں ایک مکمل شخصیت سازی کا تصور بار بار ملتا ہے۔ ان کی زیرکی و دانشمندی کی بھنک حسرت نعمانی کو کیا ملی کہ انہوںنے الندوا جریدے کی خاطر انکو خاص طور سے مدعو کیا۔ لسان لصدق ، الحلال و البلاغ جیسے جریدوں کی بدولت انہوں نے ادبی و علمی حلقوں سے وابستہ لوگوں کو اپنی مہارت و آگہی سے حیراں کردیا۔ اسے آپ اردو صحافت کی پختگی کہیں یا سنگ میل ، مولانا آازاد کی تحریر و تقریر کسی شعلہ بیانی سے کم نہیں ہوا کرتی۔ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ جب وہ تقریر کرتے تو الفاظ ان کے تابع رہتے تھے اور اس چیز کا اعتراف حسرت موہانی نے کچھ یوں کیا:؎
جب سے دیکھی مولانا کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزہ نہ رہا
مذہب کی بات ہو یا فلاسفی کی ،یا پھر تاریخ یاسائنس ،غرض ہر ایک مضمون میں انکی اپنی طبع آزمائی قابل رشک رہی۔ تذکرہ سے پہلے ابتدائی دور کے انکی تعلیمی ترجیہات اور سفارشات جریدہ الہلال اور البلاغ میں رقم ہیں جہاں پر بات ہوئی مدرسہ کی، درس و تدریس اور نصاب کی۔ غبار خاطر جو کئی سارے خطوط کا مجموعہ ہے ،میں انکا علمی و ادبی کارناموں کا ایک خاصااثاثہ رہا۔ ان کی تین دہائی کی سوچ و وچار کا یہ ماحصل رہا کہ قومی نظام تعلیم کا کام ان کے سپرد کیا گیا۔ بحیثیت وزیر تعلیم ان کا یہ عزم رہا کہ تعلم و تعلیم کی ایسی پختہ بنیاد ڈالی جائے جس پر آنے والی نسلیں اک روشن مستقبل تعمیر کرسکتی ہیں۔ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ان کا حدف نسلوں کی تعمیر و اصلاح رہا۔ ان کا یہ یقین قوی رہا کہ جب تک ہماری قوم تعلیم سے روشناس نہ ہوگی تب تک زمانے سے قدم ملاکر چلنے کی اہل نہ ہوگی۔
تعلیمی معاملات میں وہ روایتی طرز اپنانے کو ہمیشہ حدف تنقید بناتے اور عصری اور موجودہ تقاضوں کو مد نظر رکھ کر وہ انقلاب آ فرین تبدیلیوں کے ہمیشہ دعویدار رہے ہیں۔ مولانا آزاد کا خالص تصور تعلیم ' ماضی کا ادراک' حال کی بصیرت اور مستقبل کی آگہی رہا ہے۔ انہوں نے ایسی تعلیم کو سراہا اور سفارش کی جو سائنسی تحقیقات اور بھاری صنعتوں کے شایان شان ہو۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آزاد نے سائنسی، تکنیکی اور مادی ترقی کو مذہبی اور اخلاقی اقتدار کے تابع کرنا چاہا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کی طرح آزاد بھی دائیں ہاتھ میں قرآن تو بائیں ہاتھ میں سائنس کو دیکھنا چاہتے تھے۔ غرض کہ انہوں نے ایک مکمل نظام حیات کے حصول میں مذہب اور تعلیم کے مشترکہ کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ مولانا صرف مشاورتی خاکہ پیش کرنے کے ہی قائل نہیں تھے بلکہ عملی اقدامات پر اپنی سرگرمیاں مرکوز رکھتے تھے۔ملک میں عام انسان کو حق تعلیم کا نظریہ پیش کیا۔ انڈین انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی، انڈین انسٹی چیوٹ آف سائنس اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا قیام ا نکے عظیم کارنامے ہیں۔
تعلیم کے تئیں ان کی گراں قدر خدمات اور بالغ نظریہ کے پیش نظر قومی نظام تعلیم کا کام ان کے ہی سپرد کیا گیا۔ ہمائیِوں کبیر نے اپنی کتاب " ہندوستان میں نظام تعلیم " کے انتساب میں یہ لکھا کہ "ابولکلام نے گاندھی جی اور رابندرناتھ ٹائیگور کے ساتھ ہمارے قومی نظام تعلیم کی تشکیل میں اہم حصہ ادا کیا تھا"۔ دیکھا جائے تو کبیر کا اعتراف بالکل صحیح تھا۔ ان کے نزدیک تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بنا پر ہندوستان جیسے ملک کو دنیا کی ترقی یافتہ اور مہذب ملکو ں کی صف میں لایا جاسکتا ہے۔ مولانا صرف مشاورتی خاکہ پیش کرنے کے ہی قائل نہیں تھے بلکہ عملی اقدامات پر اپنی سرگرمیاں مرکوز رکھتے تھے۔ ملک میں عام انسان کو حق تعلیم کا نظریہ پیش کیا۔ انڈین انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی، انڈین انسٹی چیوٹ آف سائینس اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا قیام جیسے کارنامے قابل ذکربھی ہیں اورقابل ستائش بھی۔ انڈین کونسل فار ایگریکلچرل اینڈ سائنٹفک ریسرچ ، انڈین کونسل فار اندسٹریل ریسرچ جیسے اداروں کا قیام انکی کاوشوں و کامرانیوں کا نتیجہ رہا۔ سنگیت اکیڈمی ، ساہتیہ اکیڈمی، للت اکیڈمی جیسے ثقافتی ادارے مولانا آزاد کی ہی سفارشوں کا نتیجہ رہے۔
چونکہ مولانا انگریزی نظام تعلیم اور اسکے حقیر مقاصد سے بالکل آشنا تھے ، انہوں نے اپنی نگاہ نوجوانوں کی ذہنی بیداری اور انہیں آئندہ زندگی میں خود کفیل بنانے پر مرکوز کی۔ ذہنی بیداری ، اتحاد و ترقی ، مذہبی رواداری اور عالمی اخوت ایسے چار بڑے مقاصد ہیں جو علامہ آزاد کے تعلیمی پالیسی کا ہدف رہے ۔ ان کے تعلیمی فلسفہ کی بنیاد مشرقی افکار اور مغربی نظریات دونوں میں ہم آہنگی اور توازن پیدا کرنے پر مرکوز رہی۔ ایک طرف عالم دین اور دوسری طرف مولانا چونکہ مشرقی اقدار کے علمبردار ٹھہرے ، انہوں نے سائینس اور مغربی تکنیکی تعلیم کو انسان و ملک کی ترقی کیلئے نہایت ہی اہمیت کا حامل سمجھا۔ چونکہ مولانا آزاد فن تعلیم و تربیت اور پورے تعلیمی نظام پر حکیمانہ اور دانشورانہ نگاہ رکھتے تھے اسلئے دنیاوی و دینوی تعلیم کے بیچ کے خلاء کو پورا کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ہمیشہ تعلیمی نصاب کی بہتری اور ہمہ گیریت کو ابھارنے اور اجاگر کرنے کی سعی کی۔ انکا تصور تعلیم ماضی کا ادراک ، حال کی بصیرت اور مستقبل کی آگہی پر مرکوز رہا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ انہوں نے سائنسی ، تکنیکی و مادی ترقی کو مذہبی اور اخلاقی اقتدار کے تابع کرنا چاہا۔
ان کے نزدیک تعلیم صرف روٹی روزی کمانے سے منسوب نہیں ہے بلکہ تعلیم سے شخصیت سازی کا کام بھی لیا جانا چاہئے اور یہی تعلیم کا سب سے بڑا مفید پہلو ہے۔ اور ایسا کرنے سے معاشی و تمدنی نظام بھی بہتر ہوگا۔ مولانا آزاداس امر سے بخوبی واقف تھے کہ اگر افراد کی شخصیت میں جذبہ ہم آہنگی اور یکجہتی نہ ہوگی تو سماج کی نا استواری ناگزیر بنتی ہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد اس بات میں پنہاں و پوشیدہ ہے کہ وہ ایک پختہ سماج کیلئے افراد کی ایسی تربیت عطا کرے کہ وہ صالح اور سود مند ثابت ہوں۔ مولانا آزاد کے نزدیک تعلیم در حقیقت انسان کی اندرونی اصلاح کا نام ہے اور تمدن ان کی نظر میں انسان کا خارجی پہلو ہے ،اس لئے وہ اس بات کے قائل تھے کہ پہلے نفس انسانی کی تربیت بہتر طریقے پہ کی جانی چاہئے۔تعلیمی مفادات میں مولانا نے شخصیت سازی کو ایک اہم جگہ دی۔ بحیثیت وزیر تعلیم انکا یہ پختہ عزم رہا کہ تعلم و تعلیم کی ایسی پختہ بنیاد ڈالی جائے جس پر آنے والی نسلیں ایک روشن مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں۔ ہمیشہ چاہتے تھے کہ نوجوانوں میں روشن ذہنیت و اقدارسلیم پیدا ہونے چاہئیں۔ انکا ماننا تھا کہ صحیح طور آزادانہ اور انسانی قدروں سے بھرپور تعلیم ہی لوگوں میں ایک صحیح اور سودمند تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔
سائنسی و تکنیکی خوشحالی کے خواہاں مولانا آزادنے تہذیبی و ثقافتی اور فنون لطیفہ اور اس کے تحفظ کیلئے بھی کئی عملی اقدم اٹھائے۔ بقول آزاد ' وزارت تعلیم سنبھالتے ہی میں نے فیصلہ لیا وہ یہ تھا کہ ملک میں اعلیٰ و فنّی تعلیم کے حصول کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ہم خود اپنی ضرورتیں پوری کریں۔ میں اس دن کا منتظر ہوں جب ہندوستان میں باہر سے لوگ آکر سائینس اور فنی تعلیم میں تربیت حاصل کریں‘۔
مولانا آزاد نے ایک مکمل نظام حیات کے حصول میں مذہب اور تعلیم کے مشترکہ کردار کی اہمیت پہ زور دیا۔ انکے عظیم کارناموں کا ہی صلہ ہے کہ کئی سارے تعلیمی و سرکاری ادارے آزاد کے نام سے منسوب ہیں جن میں مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی حیدر آباد، مولانا آزاد نیشنل انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی بھوپال، مولانا آزاد میڈیکل کالج نئی دہلی اور مولانا آزاد انسٹی چیوٹ آف ڈینٹل سائنسز نئی دہلی قابل دید ہیں۔ بحیثیت ادیب انکا شمار بیسویں صدی کے بہتریں مصنفیں میں ہوتا ہے۔ غبار خاطر، انڈیا ونز فریڈم، تزکیہ، ترجمان القرآن کچھ ان کی شاہکار تخلیقات ہیں۔
جہاں تک مولانا آزادکی تعلیمی ترجیہات و سفارشات کی موجودہ تقاضات سے معنو یت و افادیت کا تعلق ہے ، انہوں نے جتنے بھی اقدامات اٹھائے ،خیال یہی رہا کہ وہ عصری تقاضوں کے موافق ہوں۔ نصاب کی بات ہو یا تعلیمی تصورات یا ترجیہات کا معاملہ ہو، تخلیقی و ثقافتی اداروں کے کھولنے یا پھر اساتذہ کی تربیت و ترقی کا مشن ، ہر جگہ انکا ہدف فرد و قوم کی ترقی رہا ہے۔ مندرجہ ذیل چند سطور اسی خیال کی عکاس ہیں۔
۱۔ چھ برس سے چودہ برس کے بچوں کیلئے تعلیم کو لازم کرنے کا فیصلہ مولانا نے جو لیا، اصل میں کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کی سچی بنیاد ہے۔قومی تعلیم کے فروغ کیلئے بنیادی سطح کی تعلیم نہایت ہی اہم اور ناگزیر ہے۔مولانا کا ماننا تھا کہ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کی سطح کو بلند کرنے کیلئے بنیادی تعلیم پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے اوریہ حقیقت آج بھی اپنی جگہ صحیح ہے اور آج بھی اس بات پر عمل جاری و ساری ہے کہ بنیادی سطح کی تعلیم کو اجاگر کیا جائے تاکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے صحیح طلباء میسر ہوں۔
۲۔ موجودہ دور میں ماہرین تعلیم و ماہر نفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم کا ذریعہ مادری زبان ہونا چاہئے۔ مولانا آازاد نے اپنے وقت میں 1949میں ہی یہ سفارش کی تھی اور کہا تھا ‘‘اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں ہر قسم کی تعلیم دیسی زبانوں میں ہی دیے جانے کاتجربہ کیا جائے۔ یہ پسندیدہ امر ہے کہ ہر ہندوستانی دیوناگری اور اردو دونوں کا رسم الخط سیکھے۔"
۳۔ عصری تعلیم کی افادیت و اہمیت کا مولانا آزاد اعتراف بھی کرتے تھے اور ساتھ ساتھ انھوں نے مدارس کے نصاب کو عصری تقاضوں کے مطابق بنانے کی پر زور وکالت بھی کی تھی تاکہ درس وتدریس سے فارغ ہوکر طلباء شعبہ روزگار میں خود کو ثابت کریں۔
۴۔ سائنسی تحقیقات اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کو وسعت و استحکام دینے کی خاطر جو ناقابل تقلید کام مولانا آزاد نے سر انجام دئے، اسے ملک ہندوستان کی خوشحالی و ترقی کا فی مستحکم بنی۔
۵۔ سائنسی و تکنیکی خوشحالی کے ساتھ ساتھ مولانا نے تہذیبی و ثقافتی ترقی کو بھی قوم کیلئے لازم و ملزوم ٹھہرایا۔
۶۔ انہوںنے فنون لطیفہ اور اس کے تحفظ و ترقی کیلئے نہایت ہی ٹھوس ا قدام اٹھائے۔ ساہتیہ اکیڈمی ، سنگیت ناٹک اکیڈمی اور للت اکیڈمی مولانا کے تصورات کے عملی ترجمان ہیں۔
۷۔ انہوں نے تعلیم نسواں ، پیشہ وارانہ تعلیم اور تعلیم صنعت و حرفت کو بھی قوم کیلئے بڑی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
۸- 1947میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا قیام عمل میں آنا مولانا آزاد کی ہی کوششوں کا نتیجہ رہا جس کا مدعا ومقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات بہم کرنا تھا اور پھر1956میں یوجی سی قائم کرکے اعلیٰ تعلیم کو انہوں نے زیادہ وسائل عطا کر کے اسے اور زیادہ فعال بنایا۔
۹۔تعلیم بالغان میں وسعت پیدا کرنے کی مولانا آزاد نے تلقین بھی کی اور ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے اسکو ایک اہم جز مانا اور ان کا یقین قوی یہ رہا کہ جمہوریت کی مظبوط جڑیں تعلیم بالغان کے فروغ میں مضمر ہیں۔
10۔ تعلیم اور سماج کے تئیںاساتذہ کے کام کو اچھی طرح سمجھتے تھے لہٰذا ان کی ہر طرح کی تربیت و ترقی کے ہمیشہ کوشان رہتے تھے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تربیت یافتہ اساتذہ ہی بچوں میں تحقیقی و تخلیقی صاحیتیں اجاگر کر سکتے ہیں۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ مولانا آزاد نے ملک کیلئے جو نظریہ تعلیم پیش کیا، وہ آج کے اس متغیر دورمیں بھی اپنی معنویت و افادیت صاف رکھتا ہے۔ان کی سفارشات چاہئیں دیسی زبانوں میں تعلیم دینے کی بات ہو ،سائنسی تحقیقات اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کا فروغ ہو، تہذیبی و ثقافتی عروج ہو یا پھراساتذہ کا تعلیم و تربیت کا کام ہو ، یہ سبھی چیزیں آج کی قومی تعلیمی پالیسی2020کے اہم نکات میں شامل ہیں۔ غرض کہ آج ہندوستان تعلیمی میدان میں جن مقاصد کو حاصل کر رہا ہے، انکے پیچھے مولانا ابولکلام آزاد کی فکری سوچ ، تدبر اور دور اندیشی بنیاد بن کر شامل حال ہیں۔انسانیت پسندانہ روایت کے پاسدار مولانا آزاد مانتے تھے کہ تعلیم کا مقصد انسان کو اس کے ماحول کے ساتھ اور ماحول کو انسان کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں ہی مضمر ہے۔ ان کا علمی و ادبی سرمایہ نئی نسلوں کیلئے باعث فخر بھی ہے اور مشعلِ راہ بھی۔ ملک و قوم کی بقا کی کا خاطر ان کے تصورات اور پھر عملی میدان میں کئی سارے تعلیمی و ثقافتی اداروں کا قیام عمل میں لانا اپنی جگہ پہ ایک مثال ہے۔ قومی تعلیمی نظام ، اعلیٰ و فنی تعلیم کے حصول کیلئے سہولتیں فراہم کرنا ، سائنسی، تکنیکی اور مادی ترقی کے ساتھ مذہبی اقتدار کی پاسداری بھی اسی کوشش کی ایک اور کڑی ہے۔ آغا شورش کشمیری کی شہر آفاق نظم آج بھی مناسب و موزوں ہے جو انہوں نے مولانا آزاد کی وفات پر کہی ؎
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمیں کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہر مبیں نہیںہے
تری جدائی سے مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقین نہیں ہے
رابطہ۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن یونیورسٹی آف کشمیر
فون نمبر۔ 7006098266
ای میل۔ [email protected]