کویت سٹی //کویت کے وزیر خارجہ شیخ صباح خالد الحمد الصباح نے اتوار کے روز باور کرایا ہے کہ خلیجی برادران کے درمیان بات چیت کے ذریعے قطر ، سعودی عرب ، امارات اور بحرین کے درمیان اختلافات کا حل ہونا اٹل ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی "ونا" کے مطابق کویتی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ قطر اپنے خلیجی برادر ممالک کے تحفظات کو سمجھنے اور ان ممالک کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار ہے۔شیخ صباح الخالد نے اپنے ملک کی جانب سے اْن تمام ممالک کے لیے قدر دانی کا اظہار کیا جنہوں نے اس سلسلے میں کویت کی کوششوں کو سپورٹ کیا۔ اْنہوں نے زور دے کر کہا کہ کویت موجودہ بحران میں اختلاف کی وجوہات سے نمٹنے اور برادرانہ تعلقات میں کشیدگی دور کرنے کے حوالے سے اپنی کوششوں سے دست بردار نہیں ہو گا۔کویتی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان یک جہتی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے سعودی عرب ، امارات اور قطر کا دورہ کیا اور اس کشیدگی اور اختلاف کو ختم کرنے کے مختلف راستوں کو اپنے برادران کے ساتھ زیرِ بحث لائے۔ دریں اثنائسعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے اتوار کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ہاں مقیم بعض قطری باشندوں کو رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔تاہم قطر نے کہا تھا کہ اس کے ہاں رہنے والے کسی بھی ملک کے شہری کو یہاں رہنے کی "مکمل آزادی" ہوگی۔سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے پانچ جون کو قطر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت اور ایران سے تعلقات رکھتا ہے اور اپنے اپنے شہریوں کو قطر سے واپس آنے جب کہ ان ملکوں میں مقیم قطریوں کو واپس اپنے وطن چلے جانے کا کہا تھا۔اتوار کو علی الصبح ان تینوں ملکوں کی طرف سے جاری کیے گئے بیانات میں مخلوط شہریت رکھنے والے خاندانوں سے کہا گیا کہ وہ اپنی متعلقہ وزارت داخلہ سے رابطہ کریں تاکہ وہ "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر" ان کی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔اس سے قبل قطر نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ان تینوں ملکوں کے قطر میں مقیم شہریوں کو یہاں رہنے کی "مکمل آزادی" ہے۔بیان میں کہا گیا کہ"قطر کی ریاست اپنے نظریات اور اصولوں کے مطابق شہریوں کے معاملات کے تناظر میں ان ریاستوں اور حکومتوں سے سیاسی تنازعات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔"کویت کے حکمران عرب ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔