چھوٹے چھوٹے کچیّ، نیم پختہ اور پختہ مکانات تنگ گلیوں میں یوںآمنے سامنے ایستادہ ہیں جیسے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے ہوں۔ دن کے اُجالے میں بھی تاریکی سارا سارا دن ان گلیوں میں پڑی جمائیاں لیتی رہتی ہیں۔ دھوپ نکڑوں اور ان مکانات کی چھتوں پر یوں آکر رُک جاتی ہے کہ جیسے اس پر آگے جانے کی ممانعت ہو۔ یہ ہے قصبہ بارہمولہ (ورمُل ) کے اولڈ ٹاؤن کا حلیہ ۔یہاں کی معاشرت قصبہ جدید اور مضافات میں آباد بستیوں کے لئے ہمیشہ قابل تقلید رہی ہے۔ یہاں کی اکثر عورتوں کی دنیا گھر اور اڈوس پڑوس تک ہی محدود ہے اور مرد اپنی اور اہل و عیال کے جینے میںمست و مگن ہیں ۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے بچوںکوشرارت کے نت نئے طریقے عملاتے، نو جوانوں کو فرصت کے لمحات گلی کے نکڑ پر بیٹھے گپیں ہانکتے یاوسیع قبرستان میںکرکٹ ، گلی ڈنڈا اور والی بال کھیلتے دیکھا ہے ۔ قصبہ بارہمولہ کے بیچوں بیچ دریائے جہلم شب و روز اس بستی کے پائوں دھوتی ہوئی پاکستان کی جانب اپنا سفر طے کر تا ہے۔ دریا کنارے کی ایک جانب ’’بیت المکرم اورتقویٰ‘‘ نام سے دو مشہور مساجد واقع ہیں ۔ ان میں انسان اپنے دل اور روح کوصاف کرتے ہیں،دوسری جانب دریائے جہلم انسانی جسموں کی غلاظت کو اپنے متعفن پانی میں گھولتی ہوئی قصبہ سے باہر چلی جاتی ہے ۔ بارہ مولہ اولڈ ٹاؤن کو قصبہ جدید سے ملانے والا ایک عمر رسیدہ پُل ہوا کرتا تھا جو اب مرحوم ہو چکا ہے۔ سال۲۰۱۴ء کے تباہ کن سیلاب نے بستی کے ا س پُل کی روح ہی قبض کر دی۔ ویسے سیلاب پر کیا الزام دھریں ، اس سے قبل بھی یہ پُل ہچکولے لیتاتھا اورکئی جگہ اُکھاڑ پچھاڑ سے اس کے اعضاء خرابیِٔ صحت کا اعلان فرما رہے تھے۔ایک حصہ زخم کھاکرچیختا چلّاتا رہالیکن پھر بھی روڑس اینڈ بلڈنگس اور اپنے ضلع ترقیاتی کمشنر صاحبان صم،بکم،عمی کی علامت بنارہے۔ آ خرکارپل کے اُس حصے نے تنگ آکر دریامیںکود تے ہوئے خودکشی کی۔ پُل کے ایک کنارے پر اولڈ ٹاؤن کی طرف سے مختصر سا بازار ہے، جہاں سے قصبہ خاص میں بسنے والے لوگ چھوٹی چھوٹی چیزیں خرید کر لاتے ہیں۔شام کے بعد رات گئے تک یہاںبستی والوںکاکافی رش رہتاہے، یہاںکھانے پینے کی محفلیں بھی سجتی ہیں۔ کچھ لوگ مٹرگشتی میںمصروف رہتے ہیں۔ موسم بہارمیںاکثرلوگ ہواخوری کے لئے دریاکنارے چہل قدمی کر تے ہیں۔ بستی کی یہ رونق،دریاکے اُس پارپاش ایریاء میںرہائش پذیرمکینوںمیںایک طرح کی جلن پیداکرتاہے کیونکہ ایسی معاشرت وہاںعنقاء ہے۔
پُل کے اُس جانب قصبہ کا مرکزی بازار ہے، جہاں قسم قسم کے دوکانات اور چھاپڑی فروشوں کا ہجوم اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں۔ مرکزی بازار کی پشت پر ایک آباد بستی ہے جو کہ قصبہ کا متمول علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بستی اصل میں قصبہ خاص کی ارتقائی صورت ہے ۔ یہیں سے وہ لوگ بو جوہ اُس طرف ہجرت کرکے آباد ہوئے۔پراناپُل اولڈ ٹاؤن کو مرکزی تجارتی بازار سے ملاتا تھا۔پُل ’’پرون کدل‘‘سے موسوم بہ تھا۔دریائے جہلم پر اب عبور ومرور کے لئے تین پُل بنائے گئے ہیں لیکن زیر بحث پُل جو تاریخی تھا ، ۲۰۱۴ء کے بعد مسلسل حکومتی غفلت شعاری کا نذر ہو ا۔ ضلع انتظامیہ دما دم مست ہے ،اس لئے پُل کی بحالی میں کوئی دلچسپی لینا اپنی کسر شان سمجھتی ہے ۔ چار سال گذر گئے پرانے پُل کی جگہ نئے پُل کی کوئی خبر کسی کو معلوم نہیں۔ ۲۰۱۴ء سے اب تک مختلف سیاسی رہنما ، حکمران طبقے ، ضلع انتظامیہ سے وابستہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں نے مرحوم پُل کے ملبے پرچڑھ کر خوب تصویریںکھینچوائیں ، میڈیا کے نام بیانات کے پشتارے جاری کئے ،پُل کے پسماندگان سے ہمدردیاں بھی جتائیں۔ عوام کاالانعام اس شعبدہ بازی پریقین کرتے کرتے اور خود کو یہ تسلی دیتے دیتے تھک گئے کہ بس پُل بننے والا ہے ،پُل نہ بنا مگر لوگ بے وقف بنتے گئے۔ اس دوران کئی حکومتیں تب سے اب تک آنجہانی ہوگئیں لیکن یہ پُل اب بھی ایفائے عہد کی راہ تک رہا ہے۔ جب پُل گرا تب کشمیر میں نیشنل کی حکمرانی تھی۔ کرسی اُس کو دغا دے گئی تو سنگھاسن پی۔ڈی۔پی اور بی۔جی۔پی کے بازی گروں کی داشتہ بنی۔ اب وہ حکومت رہی نہ حکمران رہے اور اُن کے وعدے بھی غرقِ دریاہوئے۔ حیرت ہے کہ آج تک اندھے بہرے حکمرانوں نے چار سال میں پُل کی عدم موجودگی سے مشکلات کا سامنا کرنے والے ہزاروں لوگوں کا یہ حل نہ کیا۔ حتیٰ کہ آرپار تجارت میں مصروف تاجروں کی آہ و بکا اور التجائیں بھی حاکموں کے ضمیر کو بیدار نہ کر سکیں۔ انصاف کیجئے ضلع ترقیاتی دفتر کو کیونکر ترقیاتی کہا جائے جب اس سے ایک تاریخی پُل کی بحالی نہ ہوسکی ۔ خدارا یہ تو بتایئے ’’ ترقی ‘‘کس پرندے کانا م ہے ۔ ترقیاتی محکمہ کے بجائے اس دفتر کو’’ کام ہے بیمار ہے کھانا ہے تیار ہے‘‘ والامحکمہ کانام دیا جائے تو اچھا رہے گا کیونکہ ان کی سرشت میںناقابل مرمت خرابی ہے ۔ چچا غالب ؔ نے ایسوں ہی کے بارے میں کہا تھا ع
میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
مذکورہ پُل کے نہ ہونے سے سارا قصبہ خاص متاثر رہتا ہے۔ البتہ محلہ جلال صاحب، اقبال مارکیٹ ، محلہ ککر حمام، محلہ گنائی حمام، محلہ میر صاحب ، محلہ سعید کریم، محلہ خواجہ صاحب ، محلہ قاضی حمام، محلہ فقیر وانی عیدگاہ، محلہ المصطفیٰ کالونی ، محلہ فلٹریشن پلانٹ ، محلہ باغ اسلام، محلہ چشتی کالونی کے باشندگان کچھ زیادہ ہی تکلیف میں ہیں۔گزشتہ چار سال سے وہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ انتظامیہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوگی اور ہماری اس مشکل کا ازالہ ہو جائے گا لیکن سب بے سود ۔ گزشتہ کچھ ماہ سے اگر چہ اب پُل پر کام ازسر نو شروع ہو چکا ہے لیکن رفتار خرگوش کی چال سے بھی کم تر ہے۔ اتنے عرصہ بعد توقع تھی کہ کام میں سرعت لائی جائے گی مگر ع
جہاں بے درد حاکم ہوں وہاں فریاد کیا کر نا
رابطہ :ریسرچ اسکالرکشمیریونیورسٹی،سرینگر