یَا بَاغِیَ الخَییرِ ا قیبِل، وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ اقصیِر
نیکی کے طالب اور متلاشی! قدم بڑھا کے آ،اور اے بدی اور معصیت کے شائق! آگے نہ بڑھ، رک جا!
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہم پر سایہ فگن ہوچکا ہے۔ ایک بار پھر ہم اس کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور مستفید ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اس کو " ایام معدودات " سمجھ کر اس میں بھرپور محنت کی تو یہ ہماری زندگیوں میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے اس مہینے میں ہر نیکی کے کام میں برکت رکھی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث شریف میں آیا ہے :
’’ لوگو! ماہ رمضان آگیا ہے، یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں اپنے خاص فضل وکرم سے تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہے، اپنی خاص رحمتیں نازل فرماتا ہے، خطائیں معاف کرتا ہے، دعائیں قبول فرماتا ہے اور اس مہینہ میں طاعات وحسنات اور عبادات کی طرف تمہاری رغبت اور مسابقت کو دیکھتا ہے او رمسرت ومفاخرت کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھی دکھاتا ہے۔ پس اے لوگو! ان مبارک دنوں میں اللہ پاک کو اپنی نیکیاں ہی دکھائو(یعنی عبادات وحسنات کثرت سے کرو) بلاشبہ وہ شخص بڑا بدبخت ہے جو رحمتوں کے اس مہینہ میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہے۔‘‘(رواہ الطبرانی)
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کی عبادت اور نیکی کے حصول کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ مسلم معاشروں میں ایسا ماحول خود بخود ترتیب پاتا ہے جس میں ہر کوئی نیکی کی طرف مائل اور بدی سے دوری اختیار کرنے کی کوشش میں رہتاہے۔جنت کی راہیں آسان جبکہ بدی کی راہیں سکڑتی جاتی ہیں۔ ایک مسلمان خود بخود بہت سی برائیوں سے بچ جاتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہے جبکہ اس کو مستقل طور پر اسلام کی تعلیمات کی طرف مائل کیا جاسکتاہے۔
اللہ تعالی چاہتا ہے کہ بندے کے گناہوں کو معاف فرمادے لیکن انسان کو اس کی غفلت ہلاک کر دیتی ہے۔ انسان کو اس کی کمزوری آڑے آتی ہے، سستی خیر سے رکاوٹ کا باعث بنتی ہے، وہ وقت پر وقت کی قدر نہیں جانتا، وہ انتہائی اہمیت کی حامل چیزوں سے بھی بے پروائی برتتا ہے۔نتیجتاً وہ خیر سے محروم رہ جاتا ہے۔ وہ برکت ، رحمت اور مغفرت کے حصول میں ناکام و نامراد رہتا ہے۔ اللہ تعالی اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔
رمضان اور قرآن: اس مہینے کی یہ ساری رحمتیں اور برکتیں اللہ نے قرآن کی نسبت کی وجہ سے رکھی ہیں۔ اس مہینے میں قرآن کا نزول ایک بہت بڑی عظمتوں والی رات میں ہوا۔اور قرآن اس کا ذکر اس انداز میں بیان فرماتا ہے۔
شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ۔ یعنی رمضان کا مہینہ وہ جس میں قرآن نازل کیا گیا (البقرہ)
ایک دوسری جگہ فرمایا:
اِنَّا اَنزَلناہْ فِی لَیلَۃٍ مّْبٰارَکَۃٍ اِنَّا کْنَّا مْنذِرِینَ(الدخان)
’’بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اْتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔‘‘
اسلئے ہمیں چاہیے کہ اس مہینے میں قرآن کی طرف بھرپور توجہ لگائیں۔ اور کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کو ترتیل کے ساتھ بغیر اٹکے پڑھنے کی صلاحیت حاصل کی جائے۔اکثر دیکھا جا سکتا ہے کہ ہم قرآن کا کچھ حصہ بہت عمدہ انداز میں تجوید کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں لیکن ایک بہت بڑا حصہ اٹکتے اٹکتے بھی نہیں پڑھ پاتے۔ حالانکہ قرآن کی بغیر سمجھے تلاوت بھی باعث اجر و ثواب ہے جس سے ہم محروم ہی رہ جاتے ہیں۔
اب یہ کیسے ہوگا کہ ہم سارا قرآن بغیر کسی مشقت و پریشانی کے ترتیل سے پڑھ پائیں۔ اسکے لیے رمضان المبارک کا یہ مہینہ بہت ہی موزوں وقت ہے کہ ہم اس کمی کو دور کر سکیں۔ تقریبا تین یا چار بار "ختم قرآن" کرنے سے آپ میں ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھنے کی صلاحیت آ جائے گی۔ اور یاد رکھیں کہ علوم قرآن کے لیے قرآن کا عربی میں پڑھنا بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس کے بغیر معنی پر توجہ دینا یا تفسیر پڑھنا بہت زیادہ فایدہ مند نہیں رہتا۔
آئو اس سال ہم اس مہینے میں کم از کم ایک بار "ختم قرآن" کا ارادہ فرمائیں اور پھر اس کو مکمل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔ تاکہ ہمیں قرآن مقدس کی قربت حاصل ہو جائے۔
احادیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ ؐحضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور فرماتے تھے۔جس سال آپ ؐ کا انتقال ہوا اس سال آپؐنے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (بخاری ومسلم)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قرآن شریف کی حکمتیں اور برکتیں عطا فرمائے۔آمین
پتہ۔ کیلم کولگام کشمیر
فون نمبر۔7889706325