قرآن کریم اللہ رب العالمیین کا پاک کلام ہے جو ہدایت کے خاطر کتاب کی شکل میں آخری صحیفہ ہے – یہ زندہ دستور اور ابدی پیغام کی کتاب ہے- قرانِ کریم آخری رسول امام الانبیاء، خیر الانام سرور کونین حضرت محمد مصطفی ﷺ پر حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے- یہ کتاب قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے دستورِ حیات ہے۔ ' یہ ایک عالی مرتبت کتاب ہے – اس پر تحریفات کا کوئی بھی حملہ کامیاب نہ ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ یہ حکمت اور خوبیوں والے پروردگار کی اُتاری ہوئی کتاب ہے – یوں ہی ہر زمانے میں بکثرت ملحدین ،مشرکین اور مخالفین اس مقدس کلام میں لفظی اور معنوی رخنہ اندازی کی کوششیں کر چکے ہیں لیکن کوئی بھی اپنے مشن کی تکمیل نہ کر سکا – اس قرآن کی جگہ کوئی دوسرا قرآن طلب کرنے اور ترمیم کی گفتگو کرنے والے ہی بالآخر ناکام و بامراد ہو کر چلے گئے –
قرآنِ کریم اللہ کا کلام ہے
موجودہ دور میں قرآنِ کریم کے متعلق نہ صرف سید وسیم رضوی لکھنوی جیسے جاہل انسان نے شک و شبہات کا سوال اٹھایا بلکہ ماضی میں بھی کئیں سرکردہ نامور مصنفین نے بھی ایسا ہی فتنہ و فساد برپا کر دیا تھا- یہ شک نزول کے وقت مشرکینِ مکہ نے بھی کیا تھا اور ان کا وہ شک صادق الامین پیغمبر نبی اکرم ﷺ کے خلاف ایک بڑا پروپیگنڈہ کی شکل میں سامنے آیا- اللہ رب العالمیین نے اس کا اس طرح دفاع کیا، ' اور تم پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے، اور یہ ان کے سینوں میں محفوظ ہے – ( العنکبوت) کہ ان کے سامنے واضع دلیل آگئی –
کیا قرآنِ کریم واقعی اللہ رب العالمیین کا کلام ہے؟ اس قسم کا سوال پیدا ہونے سے قبل یہ جواب خود قرآن میں موجود ہے جہاں قرآن جیسا کلام لانے کا چیلنج کیا گیا اور اس میں کسی بھی طرح کے اضافے کے امکان کو پوری طرح رد کر دیا گیا۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ ' اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا کر تو لائیں- ( الطور )
سورۃ الھود میں بطور چلینج اس طرح کی صرف دس سورتیں لانے کے لیے فرمایا ' اگر تم سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ- یہ بھی نہ کر سکیں تو صرف ایک سورت لانے کے لیے فرمایا ' لوگ کہتے ہیں کہ رسول نے اس کو خود بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے علاوہ جن کو بھی تم بلا سکو ان کو بھی بلا لو – ( يونس)
پیغمبر اسلام سرور کونین ﷺ کی طرف قران کو منسوب کرنے والی ذہنیت کو اس طرح بھی دھو ڈالا گیا کہ ان کی گندی کھوپڑیوں میں مزید کوئی جراثیم زندہ نہ رہ پائیں – ارشاد فرمایا کہ ' لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو از خود بنا لیا ہے؟ (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کی رہنمائی کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی رہنما نہیں آیا تاکہ یہ ہدایت پا جائیں – ( السجدہ)
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں غور و خوض کی دعوت دیتے ہوئے پوری طرح یہ واضع کر دیا کہ اگر اس پورے کلام میں کہیں بھی کسی نے، کبھی کوئی اضافہ کیا ہوتا تو اس کے اسلوب، حقائق، معنی و مفہوم میں یقینا فرق ہوتا – اور اگر ایسا نہیں تو یہ واضع دلیل ہے کہ یہ کلام پوری طرح محفوظ اور ہر طرح کی تحريف، تبديل اور نقص و اضافہ سے پاک ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ ' بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے- ( النساء)
اللہ محافظِ قران ہے
یہاں پوری انسانیت کے سامنے ایک چیلینج رکھ دیا گیا ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی قرآنِ کریم کا ایک لفظ تو کیا، اس کی زیر، زبر یا پیش کو بھی تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے – ارشاد باری تعالی ہے کہ ' اس کو کوئی بدلنے والا نہیں- ( الكهف)
روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو اس کی حفاظت سے بری الذمہ کر کے اللہ رب العالمیین نے اس کا یقینی انتظام اپنے اوپر لیا ہے- ارشاد ہے کہ ' بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں- (الحجر)
یہ ایک ایسا ذکر ہے جس کا اللہ رب العالمیین خود محافظ ہیں۔ یہ ذکر ایک امین سینے پر نازل ہو رہا ہے جہاں اس کی پوری محافظت ہو گی۔ نہ تم اسے مٹا سکو گے اور نہ قیامت تک اس کے کسی حرف عبارت اور جملے میں تبدیلی و تحریف ہو سکتی ہے۔ قرآن رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے – یہ ممکن نہیں کہ اسے بیرونی و داخلی دشمن غیر محفوظ بنا دے۔ اس میں تحریف ممکن نہیں ہے۔
محافظ ھو اللہ جس کا اس سے کوئی مٹا نہیں سکتا
گواہ ہے زمانہ اس سے نقطہ بھی کوئی ہٹا نہیں سکتا
وسیم رضوی جیسے جاہل و جابر انسان ہی نہیں بلکہ تمام جن و اِنس میں یہ طاقت نہیں کہ قرآنِ کریم میں سے ایک حرف کی کمی بیشی یا تغییر اور تبدیلی کرسکیں – قرآنِ کریم کی یہ حفاظت کئی طرح سے ہے:
۱- قرآنِ کریم کے بطور معجزہ ہونے پر بشر کا کلام گھل مل نہیں ہو سکتا –
۲- کوئی اس کی مثل کلام بنانے پر قادر نہیں-
۳- یہ کلام بہ آسانی حفاظ کرام کے سینوں میں محفوظ بنایا جا رہا ہے-
۴- دشمن شدید عداوت کے باوجود بھی اس مقدس کتاب کو معدوم کرنے سے عاجز ہیں ۔
اس مقدس کلام کے ساتھ کسی بھی قسم کی خیانت کرنے سے قبل ہی اللہ تبارک و تعالی نے اس صورت ( reaction ) کے خلاف action لینے سے اس طرح آگاہ فرما دیا کہ ' اگر یہ رسول بھی ہمارے بارے میں کوئی بات بنا لاتے ، تو ہم اُن کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے، پھر ان کے گردن کی رگ کاٹ ڈالتے- ( الحاقہ)
اگر اس طرح کی وعید اور دھمکی سید الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کے تعلق سے قرآن میں بیان کی جا سکتی ہے تو کسی دوسرے فرد بشر کو اس میں تبدیلی یا کمی و زیادتی کی کیسے جرأت ہو سکتی ہے۔ لہذا اس آیت مبارک کے تناظر میں وسیم رضوی جیسے ظالم انسان کو اللہ کی وارننگ کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے اس اقدام کا انجام کیا ہوگا- قرآن میں اس قسم کے اقدام پر اللہ رب العالمیین نے اگاہ فرما دیا ہے-
کسی ایک فرد کی غلطی کو اس کے خاندان، قوم، مسلک، مذہب یا علاقے سے جوڑنا دانائی نہیں ہے بلکہ یہ صرف اس ایک شخص کی غلطی مانی جائے- لہذا وہ چھبیس آیتیں (جیسے التوبہ آیت نمبر ۱۱۱ و ۱۱۳، النساء آیت نمبر ۹۰، الاحزاب آیت نمبر ۶۱، التحریم آیت نمبر ۹ ، الانفال آیت نمبر ۶۵) جن کو عدالت اعظمی میں وسیم رضوی نے پیش کیا ہے کو معہ ترجمہ اور نزول کے پس منظر کے ساتھ امتِ مسلمہ میں عام پھیلائی جائے – ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں، آپسی اتحاد و اتفاق کو بنائیں رکھیں اور قرآن کی روشنی میں ہی اس فتنہ و فساد کو ختم کرنے کی تگ و دو کریں – ان چھبیس آیات کو سیاق و سباق سے الگ ترجمہ، تشریح ، تفسیر و نزول کا پس منظر کے ساتھ ملک کی سبھی رائج سرکاری زبانوں میں شائع کراءیں تاکہ قرآن اور اسلام کے خلاف کیے جانے والے اعتراضات کو بے بنیاد اور گمراہ کن ثابت کیا جائے- اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور باطل مٹ کر رہے گا یقیناً ایک دن اللہ کا دین ہی غالب ہوکر رہے گا-
ہاری پاری گام ترال
رابطہ – 9858109109