مینڈھر//مینڈھر کے ریلاں گوہلد اور اس کے گرد و نواع میں رہنے والے لوگوں نے حکومت و انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ قبرستان کا علاقہ فوج کی تار بندی سے خالی کروایا جائے۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ سترہ کنال پر مشتمل قبرستان کا علاقہ فوج کی تار بندی کے اندر ہے جس کی بے حرمتی ہو رہی ہے جسے وہ مزید برداشت نہیں کریںگے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بار فوج نے قبرستان کے اندر کھمبے لگانے کی کوشش کی جبکہ ایک بار ایک ٹاور بھی قبریں کھود کر بنایا جارہا تھا جس پر انہوں نے احتجاج کیا اور انتظامیہ کی مداخلت کے بعد وہاں سے ٹاور ہٹایا گیا لیکن قبرستان تار بندی کے اندر ابھی بھی موجود ہے اور اس وقت بھی فوج کبھی کھمبے لگاتی ہے توکبھی مورچے بناتی ہے جوناقابل برداشت ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ اب جب فوج کئی جگہوں سے تار بندی کو پیچھے کرکے سڑک کو لوگوں کی آمدروفت کے لئے کھلا چھوڑ رہی ہے تو قبرستان کی جگہ سے بھی فوج کو پیچھے ہٹ جاناچاہئے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اگر یہی حالت رہی تو وہ سڑکوں پر آ کر احتجاج کریں گے جس کی ذمہ واری فوج اور انتظامیہ پر عائد ہو گی۔انہوں نے حکومت اور ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد سے اپیل کی کہ قبرستان کو تار بندی سے آزاد کروایا جائے تاکہ لوگ قبرستان کی حفاظت کر سکیں کیونکہ یہ بہت پرانا قبرستان ہے اور کئی کنال جگہ پر پھیلا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لوگ ہجرت کرکے دوران جنگ پاکستان چلے گئے تو اس کے بعد فوج نے قبرستان کو اپنے قبضے میں لے کر سرحدی لائن پر تار بندی کر دی اور وہ قبروں کی مرمت بھی نہیں کرپارہے۔