قربانی اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے جسے ہر سال عید الاضحٰی کے مقدس موقعہ پر وفورِ جذبات و گریہ قلبی کے ساتھ صاحب ِ نصاب لوگ سر انجام دیتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی سنت ِ مبارکہ ہے۔ قرآنِ مجید کا اگر عمیق مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت ہم پر آشکارہوجاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ِ خیر متعدد مقامات پر نہایت متانت و جذالت کے ساتھ ملتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ کا یہ عالم ہے کہ آپ کی تین تین نسبتیں ہیں اور تینوں ہی حدِ درجہ وقیع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک نسبت یہ ہے کہ آپ ’’خلیل اللہ‘‘ کے منصب ِ جلیلہ پر فائز ہیں۔ دوسری نسبت پوری نوع انسانی کے ساتھ یہ ہے کہ آپ امامُ الناس ہیں۔
قرآنِ مقدس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے خلف الرشید فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا تذکرہ نہایت واشگاف لفظوں میں بیان کیا ہے اور اس امر کی توضیح کی ہے کہ کس طرح حضرت ابراہیم اپنے لخت ِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے لئے آمادہ ہوئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی اپنی بے نظیر تابعداری و فرماں برداری کا احسن ثبوت فراہم کرتے ہوئے بہ تسلیم و رضا مستعد ہوئے جس کی طرف علامہ مرحوم نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ؎
یہ فیضانِ نظر تھی یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
(علامہ اقبال)
قرآنِ کریم نے اس سارے نایاب واقعہ کو جس گراں بہا اصطلاح سے تعبیر کیا ہے، اس سے یقینی طور پر معنی و مفاہیم کے وہ گوہر رونما ہوتے ہیں جس سے قرآنی علوم و معارف اور اسرارو رموز سے واقفیت رکھنے والا کوئی غواص ہی تلاش کرسکتا ہے اور اس بحرِ بیکراں میں غوطہ زنی کر کے ہر دور کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے معنی و مفاہیم سے ہم آہنگ کرسکتا ہے۔
قربانی کا تعلق محض جانور کے قربانی کرنے یا گوشت خوری کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقرب اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے اور بارگاہِ صمدیت میں جذبہ قلبی کے ساتھ عبودیت پیش کرنے کا نام ہے۔ فلسفۂ قربانی پر اگر انہماک کے ساتھ نظر ڈالی جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا اصل مقصد خداوندِ قدوس کی رضا حاصل کرنا ہے اور دوسری طرف ان افراد کی دلجوئی کرنا مقصود ہے جن کا تعلق ہمارے سماج کے پسماندہ طبقہ کے ساتھ ہے۔
کرونا وائرس کے جاں ستاں مرض سے بالواسطہ یا بلا واسطہ ہر کوئی پریشانی میں مبتلا ہے وہیں ہمارے سماج کا وہ طبقہ جو معاشی اعتبار سے غیر مستحکم اور تعطل کا شکار ہے ،زندگی کی بنیادی ضروریات کے ساتھ نبرد آزما ہے اور داخلی و خارجی اعتبار سے اُن کی حیات کو فشارِ قبر سے بھی تنگ بنا دیا ہے ۔ لہٰذا موجودہ حساس نوعیت کے پیشِ نظر ہماری ذمہ داریوں اور فرض شناسی میں معتد بہ اضافہ ہوتاہے کہ ہم قربانی کے حقیقی فلسفہ سے آشنا ہو کر ’’عید الاضحٰی‘‘ کے مقدس موقع پر نمونہ ایثاراور فریضہ انجام دیں اور اُس آفاقی پیغام کے ہمنوا بنیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی مخلوق ایک کنبہ قرار دیا ہے۔ ’’الخلق عیال اللہ‘‘ مخلوقِ خدا کے ساتھ خیر خواہی کو اپنے ساتھ خیر خواہی اور بد سلوکی کی کو اپنے ساتھ بد سلوکی قرار دیا ہے۔ عید الاضحی کے موقعہ پر مفلوک الحال طبقہ کی داد رسی کرنا نہ صرف ہمار دینی فریضہ ہے بلکہ انسانی قدروں کی تعظیم و توقیر کا وجہ افتخار بھی۔موجودہ وبائی کے صورتِ حال کے پیشِ نظر عید الاضحی کو نہایت سادگی سے منائیں اور اشیاء کی خرید و فروخت میں اعتدال و توازن کا ثبوت فراہم کریں۔کیونکہ حد سے تجاوز کرنا بذات خود ایک مہلک مرض ہے جس کی دین اسلام نے بھی سخت ممانعت کی ہے۔ اس لیے بحیثیت مسلمان اور ایک عالم و آفاقی اُمت ہونے کی حیثیت سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیمات دی ہیں ان کو بروئے کار لاکر اس وبا سے نجات پانے کی سعی پیہم کرنی چاہیے ۔
(مضمون نگار سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے شعبہ اردو کے متعلم ہیں اور ان سے9906820951پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)