قرآن مسلمانوں کے لیے اپنی رہنمائی میں بالکل واضح ہے کہ فرقوں میں بٹنا اور آپس میں لڑنا غلط ہے۔
دین اسلام میں فرقہ واریت کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو‘‘۔
سب کا مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا اور جدا جدا نہ ہونا اور اللہ کی نعمت، یعنی دلوں میں الفت ڈالنے کو یاد رکھنا۔ مسلمان موجودہ فرقہ بندیوں سے بھی اسی صورت میں نجات پا سکتے ہیں کہ قرآن مجید کو لائحہ عمل قرار دیں اور ذاتی خیالات و آراء کو ترک کر کے سنت کی روشنی میں قرآن کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اور مشائخ و ائمہ کے اقوال و فتاویٰ کو قرآن و سنت کا درجہ دے کر گروہ بندی اختیار نہ کریں۔ خبردار! تم باہمی تفرقہ اور انتشار کا شکار نہ ہونا۔
اسلام دین کامل ہے مکمل باضابط حیات ہے، اسلام سلامتی کا راستہ ہے ۔جہاں اسلام پہ لوگ عمل پیرا نہیں ہوتے وہاں ظلم تشدد بڑھتا گیا ۔یہ بات غور طلب ہے کہ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف امن وامان اور میانہ روی کا درس دیتا ہے ۔مگر پھر بھی آج ہم شدت پسندی اور انتہا پسندی،فرقہ واریت کے شکار ہورہے ہیں ۔اور آپس میں لڑنے لڑانے پر اتر آتے ہے جبکہ اسلام مسلمانوں کے لیے اپنی رہنمائی میں بالکل واضح ہے کہ فرقوں میں بٹنا اور آپس میں لڑنا غلط ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہوئے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ۔’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی اجتماعیت سے جدا ہو گا وہ دوزخ کا اہل ہوگا ‘‘۔
دینِ فطرت ہمیں انفرادی، قومی اور بین الاقوامی سطح کے جملہ معاملات میں توازن و اعتدال برقرار رکھنے کا سختی سے حکم دیتا ہے۔ وہ نظامِ سیاست و معیشت ہو یا جہاں فکرو نظر، میدانِ جہاد ہو یا تبلیغ و اقامتِ دین، حقوق العباد کی ادائیگی ہو یا حقوق اﷲ کی بجا آوری سماجی اقدار کا معاملہ ہو یا مذہبی اعتقادات کا ۔الغرض جس جس گوشے کو جس جس زاویے سے بھی دیکھا جائے ،اس میں حسنِ توازن جھلکتا نظر آنا چاہیے ۔
فرقہ وارانہ ذہنیت مسلمانوں کو چھوٹی اور کمزور اکائیوں میں تقسیم کرتی رہتی ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتےہیں کہ یہ مسلمانوں کو سنی شیعہ،صوفیاء اور سلفیوں وغیرہ ،گروہوں میں تقسیم کرنے سے دین کی تعلیم رک جاتی ہے ۔یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں سنّی، شیعہ، صوفی، سلفی،دیوبندی ،بریلوی ،جنفی، جنبلی،مالکی،شافی، کی خاطر رنجش اور نفرت پیدا کی جائے۔
فکری اختلاف کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحمت بھی کہا ہے کیونکہ اس سے ہماری سوچ ، ہماری فکر ، ہمارا زاویہ نگاہ درست ہو گا ،اگر ہم ذاتی عناد پیدا کر لیں( کیونکہ عموما ایسا ہی ہوتا ہے ) اور دوسرے کو کم تر سمجھنے کا اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا، تو یہی احساس برتری ہماری اس رحمت کو زحمت بنا دے گی اور سیکھنے کے عمل کو روک دے گی ۔
لیکن ایک دوسرے کے خلاف دشمنی نہیں کرنی چاہیے۔ جب کہ ایک بڑا دشمن ہمیں نقصان پہنچانے کا انتظار کر رہا ہے، نادانی اور مجموعی طور پر ہماری برادریوں کے لیے نقصان دہ ہے۔پوری دنیا میں مسلمان ایک غیر محفوظ حالت میں ہیں۔ بہت سے لوگ اپنا ایمان کھو رہے ہیں، اور دوسروں کو بائیں اور دائیں اسلامو فوبز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اگر فرقہ وارانہ ذہنیت کا ازالہ،علاج نہ کیا جائے تو مسلمان ایک دوسرے کے خلاف بھی جنگجو بن سکتے ہیںاور ایک دوسرے کو کافر قرار دینے میں کوئی بھی جھجک نہیں کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر، ہر مکتبہ فکر اور فرقے میں خامیاں ہیں اور ہو بھی سکتی ہیں۔ جو چیز غیر ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے مکتب فکر میں منفی چیزیں ڈھونڈنے میں مشغول رہتے ہیں ۔جبکہ اسلام انسانیت کی بقاء، امن و سلامتی، اتحاد، اخوت صالح معاشرے تعمیر کرنے کےلئے بہترین طریقہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوکر فرمایا اے میرے محبوب کہہ دیجئے، میرے بندوں کو کہ ۔۔
اِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُم وَكَانُوا شِيَـعًا لَّستَ مِنهُم فِى شَىءٍ اِنَّمَا اَمرُهُم اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَـبِّـئُـهُم بِمَا كَانُوا يَفعَلُونَ۔
(ترجمہ ):’’جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے، یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی اُن کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ سوچ اور اجتہاد کا اختلاف یا علم نہ ہو سکنے کی وجہ سے اختلاف تو صحابہ اور تابعین میں بھی پایا جاتا تھا، مگر وہ سب ایک ہی جماعت تھے۔ انھوں نے کسی شخصیت کی تقلید کی خاطر فرقے نہیں بنائے تھے۔
[email protected]
فرقہ واریت کا اسلام میں کوئی تصور نہیں