کپوارہ //پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے غیرملکی سفارتکاروں کے وادی دورہ کو فضول مشق قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی بہت سارے ڈیلی گیشن یہاں آئے ، لیکن اُ ن سے کیا حاصل ہوااورآج بھی یہ دورہ فضول مشق ہے ۔محبوبہ مفتی نے ہندوارہ کے مختصردورے کے دوران پارٹی ورکروں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ مسئلہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے جو جوں کاتوں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیرکا کوئی پرامن حل نہ نکالاجائے وفود کے آنایا نہ آنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ہندوراہ دورے کے دوران محبوبہ مفتی کانسٹی چیونسی ہیڈ عرفان محی الدین صوفی کے گھر بھی گئیں اور ان کی بیمار والدہ کی عیادت کی۔ اس دوران محبوبہ مفتی نے بدھوار کو کپوارہ ضلع کا دوروزہ دورہ سمیٹ لیا۔بدھ کو انہوں نے کپوارہ میں متعدد عوامی وفود سے ملاقات کی۔ انہوں نے منگلوار کو کپوارہ میں پارٹی ورکروں سے خطاب کرنے کے بعدکرناہ، لولاب، کپوارہ، ہندوارہ اور لنگیٹ کے عوامی وفود سے ملاقات کی اورانہیں درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ہندوارہ سے آئے وفد نے مطالبہ کیا کہ ہندوارہ میں مجوزہ میڈیکل کالج کی تعمیر کاکام فوری طور شروع کیا جائے ۔راجواراورلولاب کے وفود نے ان علاقوں میں بجلی کی نامعقول سپلائی اورانتظامی ڈھانچے کی عدم دستیابی کے مسائل کو اجاگر کیا۔
زخموں پرنمک پاشی :تیواری
نئی دہلی//سینئر کانگریس رہنما منیشن تیواری نے غیرملکی سفیروں کے جموں کشمیر دورے پرشدیدردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ِ’’کسی کی ہدایت پرکیاجانے والایہ دورہ ایک مذاق ہے‘‘اورپہلے سے ہی زخموں سے چور آبادی کے ’’زخموں پرنمک پاشی‘‘ہے۔انہوں نے کہا کہ غیرملکی اگرچہ وہاں جاسکتے ہیں لیکن پارلیمانی کمیٹی اور حزب اختلاف کے رہنمانہیں جاسکتے۔تیواری نے ایک ٹوئٹ میں لکھا،’’فرنگی جاسکتے ہیں لیکن مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اور حزب اختلاف کے رہنمانہیں جاسکتے۔کسی کی ہدایت پر کیا جانے والادورہ ایک مذاق اورزخموں سے چور آبادی کے زخموں پرنمک پاشی ہے‘‘۔
بے فائدہ فضول کارروائی :سوز
سرینگر//غیرملکی سفارت کاروںکی کشمیر آمد سیرسپاٹے پرختم ہوگی اور حکومت ہندیاجموں کشمیرکی حکومت کو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔اس بات کااظہار سابق مرکزی وزیر پروفیسرسیف الدین سوز نے ایک بیان میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سفارتکاروں کو اپنی جگہ معلوم ہے کہ وہ صرف سیرسپاٹے کیلئے کشمیرآئے ہیں تاہم ان میں جو زندہ دل اور حقیقت شناس نمائندے ہوں گے وہ اپنے ملک جاکر اپنے لوگوں کو سچی کہانی بتائیں گے۔سوزنے کہا کہ دراصل سچائی کی اپنی طاقت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اور جموں کشمیر حکومتوں کے نمائندوں کوبھی معلوم ہے کہ وہ سچائی کوچھوڑ کرجھوٹ کی پیروی کررہے ہیں،جس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔سوزنے کہا کہ مرکزی اورجموں کشمیرحکومت باربار ایک ہی غلطی کو دہرارہے ہیں اور کوئی سبق نہیں سیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیرملکی سفارتکاروں کادورہ انتہائی فضول کارروائی ہے اورمیراخیال ہے کہ ان کوپہلے سے معلوم ہے کہ وہ سیاحت کیلئے ہندوستان آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ا ن سفارت کاروں کو معلوم ہوگا کہ کشمیر کے لوگوں کو دفعہ 370 کی منسوخی کیلئے ہمیشہ دل میں ناراضگی رہے گی اور وہ جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی داخلی خود مختاری کو حاصل کرنے کی جہدوجہد جاری رکھیںگے۔
غیرملکی سفیر عوام کے دکھ دردکومحسوس کریں:حریت(ع)
سرینگر//حریت کانفرنس(ع) نے غیرملکی سفیروں کے وادی کے دورہ کوبین لاقوامی برادری کوگمراہ کرنے اوران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قراردیتے ہوئے دورے پرآئے وفد سے اپیل کی ہے کہ وہ یہاں کے عوام کے دکھ دردکو محسوس کرتے ہوئے اس انتہائی غیرمستحکم خطے میں قیام امن کیلئے اپنے اثرورسوخ کاستعمال کریں تاکہ بھارت اور پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین اس دیرینہ تنازعہ کے حل کیلئے مذاکرات کو یقینی بنایا جاسکے اورکئی دہائیوں سے جاری غیریقینی سیاسی صورتحال کے خاتمہ کیلئے اپناتعاون دیں۔ایک بیان میں حریت (ع) نے کہا کہ جموں کشمیرکے عوام گزشتہ74برسوں سے1947میں پیداہونے والے تنازعہ کشمیرکے حل کا مسلسل مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیںجب بھارت اور پاکستان نے جموں کشمیرکواپنے درمیان تقسیم کرلیااورآج تک یہ مسئلہ حل طلب چلاآرہا ہے۔بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں کے برعکس حکومت کی طرف سے یہاں زیادتیاں عروج پر ہیں۔بیان میں حریت نے واضح کیاکہ مسئلہ کشمیرکے پرامن اوردیرپاحل کیلئے بھارت ،پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان بات چیت کی وکالت اور حمایت کرنے کی حریت کانفرنس(ع) کی مثبت کوششوں پر نہ صرف پانی پھیردیاگیابلکہ اس کی قیادت کو گھروں اور جیلوں میں نظربند کیا گیا۔
مسئلہ کشمیرپر کسی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں :بھارت
سرینگر//بھارت نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ملک کو بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیںدی جائے گی۔ سی این آئی کے مطابق ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق بھارت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جموں و کشمیر، بھارت کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔واستو نے کہا کہ جن مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان نے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے ، انہیں آزاد کرانا ہے، اگر مزید مسائل ہوں گے تو انہیں ہم دو طرفہ گفتگو سے حل کریں گے، اس معاملے میں کسی بھی ثالثی کی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور دیگر ممالک بھارت کے خلاف سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک قابل اعتماد اور مستحکم اقدام کرنے پر زور دیں گے، جس سے سب سے بنیادی انسانی حقوق کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق بھارت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ جموں و کشمیر، بھارت کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔