مشتاق الاسلام
پلوامہ//غیرقانونی کان کنی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ پلوامہ نے کونیہ بل اور لیتربل پانپور علاقوں میں کارروائی کے دوران دو بلڈوزر(جے سی بی) اور گیارہ ٹپروں سمیت کل 13 گاڑیاں ضبط کیں۔یہ آپریشن ڈسٹرکٹ منرل آفیسرپلوامہ ڈاکٹر خورشید احمد کی نگرانی میں انجام دیا گیا، جس کا مقصد دریائے جہلم کے کناروں پر مٹی اور دیگر معدنیات کی غیر قانونی نکاسی کو ختم کرنا تھا۔ مخصوص شکایات کی بنیاد پر رات گئے بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی، جس میں غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری اور گاڑیاں قبضے میں لی گئیں۔انتظامیہ نے دریائے جہلم کے کناروں پر بنائے گئے عارضی راستوں اور غیر قانونی سڑکوں کو بھی منہدم کر دیا، جنہیں غیرقانونی طور پر نکالی گئی مٹی اور دیگر معدنیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔مقامی لوگوں اور ماحولیاتی کارکنوں نے ضلع انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا اور اسے قدرتی وسائل، دریا کے پشتوں اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری قدم قرار دیا۔اس موقع پر ڈی ایم او ڈاکٹر خورشید احمد نے کہا کہ انتظامیہ نے غیر قانونی کان کنی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیرقانونی کان کنی نہ صرف ریاستی خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحول اور سیلاب سے بچا ئوکے ڈھانچے کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ضلع انتظامیہ پلوامہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد فوری طور پر اس عمل سے باز آئیں اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ قدرتی وسائل کے تحفظ میں تعاون کریں۔ اس مقصد کے لیے مستقل نگرانی، اچانک چھاپے اور رات کے گشت کو مزید سخت بنایا گیا ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں پر موثر قابو پایا جا سکے۔