غزہ //غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی بمباری کا سلسلہ ساتویں روز میں داخل ہوگیا اور اتوار کو کیے گئے فضائی حملوں میں مزید 8 بچوں سمیت 33 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ مزید 2 رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیل نے اتوار کو بھی فضائی کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں 8 بچوں سمیت 33 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے علی الصبح غزہ سٹی میں گھروں پر بمباری کی اور شہری گھروں کا ملبہ ہٹا کر ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس سے قبل رائٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اتوار کے روز فضائی حملوں میں اسرائیلی فوج نے مغربی غزہ سٹی کے علاقے خان یونس میں حماس کے سیاسی و عسکری ونگ کے سربراہ یحیٰ السنور کے گھر کو نشانہ بنایا، مذکورہ رہنما کو 2011 میں اسرئیل کی جیل سے رہائی ملی تھی۔علاوہ ازیں اسرائیلی میزائلوں نے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کو بھی نشانہ بنا دیا جس میں 8 بچوں سمیت 10 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔قبل ازیں ایک حملے میں ایک 12 منزلہ الجلا نامی رہائشی عمارت کو مسمار کردیا گیا تھا جہاں الجزیرہ، امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پرین (اے پی) سمیت میڈیا کے دیگر اداروں کے دفاتر موجود تھے، عمارت کے مالک کو پیشگی حملے کے اطلاع دینے کے بعد تباہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 2 بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔الجلا عمارت کی تباہی کے ردِ عمل میں حماس نے رات بھر میں اسرائیل میں 120 راکٹ داغے جس میں اکثر کو اسرائیلی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کردیا جبکہ درجنوں غزہ میں ہی جا گرے۔دوسری جانب مغربی کنارے میں بھی ہلاکت خیز جھڑپیں جاری ہیں جس میں اب تک اسرائیلی فوجیوں کے حملوں میں 12 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جب تک ضرورت ہے غزہ کی پٹی میں حملے جاری رہیں گے۔اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ پر کیے جانے والے حملوں میں بچوں اور شہریوں کی ہلاکت سے بچاؤ کے لیے 'خصوصی کیئر کررہا ہے۔