صدمہ عظیم میں صبر توفیق عطا کرنے کی دعائیں آئے روز پڑھنے اور سُننے کو ملتی ہیں لیکن صدمہ عظیم حقیقت میں کیا ہوتا ہے، اس کا تجربہ اُس وقت ہوا جب 20نومبر بروزِ جمعہ صبح 7بجکر 56منٹ پر طارق نے دفتر سے فون کرکے مدثر علی کے حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کی خبر سنائی۔ اس فون کے برابر 6منٹ بعد میرے فون کی گھنٹی پھر ایک بار بجی اور ان 6منٹوں کے دوران میں ایک ہی جگہ بیٹھا رہا ہے اور 2006میں مدثر علی سے پہلی ملاقات سے لیکر آج تک کا فلیش بیک میری آنکھوں کے سامنے آگیا ۔ مدثر واقعی اس دنیا سے رحلت کر گئے ہیں، ابھی بھی اس بات پر یقین نہیں ہوتا۔ مدثر علی سے میری پہلی ملاقات چرار شریف میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ہوئی۔ میں اُن دنوں روزنامہ عقاب کیساتھ منسلک تھا۔جونہی میں نے مدثر کو بتایا کہ میں اخباری دنیا سے تعلق رکھتا ہوں تو اُنہوںنے میرے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کیاجو کافی دیر تک جار ی رہا۔ اُنہوں نے اخبارات کے بارے میں مختلف سوالات پوچھے اور جب میں نے اُن کی دلچسپی کا راز دریافت کیا تو اُنہوں نے کہا کہ وہ کشمیر یونیورسٹی سے Mass Comکررہے ہیں۔ ستمبر 2006میں، میں کشمیر عظمیٰ کیساتھ منسلک ہوگیا اور چند ماہ بعد مدثر علی کیساتھ دوسری ملاقات اپنے دفتر میں ہوئی جب انہوں نے گریٹر کشمیر کیساتھ Internshipشروع کی۔انٹرن شپ سے لیکر سینئر ایڈیٹر کے سفرمیں مدثر نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ ابتدائی برسوں کے دوران ہمیں ساتھ میں کام کرنے کا موقع ملا۔
2008میں اوڑی میں آر پار تجارت کی شروعات کے موقعہ پر دفتر کی طرف سے کوریج کیلئے بھیجی گئی ٹیم میں ہم دونوں شامل تھے۔ امرناتھ شرائن بورڈ ایجی ٹیشن کے بعد ہوئے اقتصادی ناکہ بندی کے بعد سرینگر مظفر آباد روڈ سے تجارت کی شروعات ایک جذباتی موقعہ تھا اور ہم دونوں ایک ساتھ تھے۔جب اُس پار سے گاڑیاں مال لے کر اِس پار آئیں تو ہم نے پیازوں سے بھری ایک گاڑی سے ایک ایک پیاز نکالا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ ایسے ہی کئی بار ہمیں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات اور دیگر مواقع پر ایک ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا۔ میں مدثرکی رپورٹنگ پرکوئی تاثر پیش کرے کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی سٹوریز ہمیشہ منفرد اور معلومات سے بھر پور ہوا کرتی تھیں، وہ ایک منجھے ہوئے صحافی تھے اور کام کرنے کا اُن کا جنون کبھی بھی کم نہیں ہواجبکہ جائے وقوعہ سے رپورٹ کرنا اُن کی عادت تھی۔ 2016میں حزب کمانڈر برہان وانی کے انکائونٹر میں جاں بحق ہونے کے وقت جب ہر کوئی اپنے اپنے گھر پہنچنے کی تگ و دو میں لگ گیا، مدثر علی اُن حالات میں بھی بائک پر سوار ہوکر ترال پہنچے اور پوری رات برہان وانی کے گھر آنگن میں گزاری اور اگلے روز نمازِ جنازہ اور آخری رسومات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرکے واپس آئے جس کے بعدہی اپنی سٹوری فائل کی۔
مدثر ایک سنجیدہ اور جذباتی انسان ہونے کے علاوہ ایک سچی شخصیت کے مالک تھے ۔اُنہیں ناانصافی ذرا بھی برداشت نہیں ہوتی تھی۔آپ کی زبان اور قلم میں ظلم اور ظالم کیخلاف زہر تھا اور مظلوم و محکوم کیلئے آپ کا قلم اور آپ کا دل ہمیشہ ہمدردی سے سرشار رہتا تھا۔ آپ کی شخصیت میں خنجر کی تیزی اور تلوار کی سی کاٹ تھی اور وہ ہمیشہ حاضر جواب ہوتے تھے اور کھرا سچ سنانے میں کبھی بھی ہچکچا تے نہیں تھے۔
مدثر کو کرکٹ کیساتھ بھی بہت لگائو تھااور اُن کی یہ دلچسپی 2007ورلڈکپ کے دوران ہی دیکھنے کو ملی۔وہ اکثر کشمیر عظمیٰ کے نیوز روم میں میچ دیکھنے آتے تھے۔ یہ سلسلہ 2014کے تباہ کن سیلاب تک جاری تھا۔ جب بھی ہماری پسندیدہ ٹیم ہار جاتی تو ہمیں بہت مایوسی ہوتی تھی اور مدثر ہر بار مجھ سے یہی کہا کرتے تھے کہ ’’ان لوگوں نے ہمیں شرمندہ کردیا‘‘۔ مدثر صرف کرکٹ دیکھنے کے ہی شوقین نہیں تھے بلکہ انہیں عملی طور پر کرکٹ کھیلنے کا جنون بھی تھا۔ گریٹر کشمیر کی ٹیم میں ہم نے ساتھ مل کر بہت سارے میچ کھیلے ہیں۔
مدثر اگرچہ سالہاسال سے سرینگر میں ہی قیام پذیرتھے لیکن امسال کے اوائل سے ہی اُنہوں نے کام ختم کرکے گھر جانا شروع کیا اور کبھی کبھی کام کرتے کرتے رات کے 12بھی بج جاتے تھے۔ ابتدائی دنوں میں اگرچہ وہ گاڑی میں سفر کرتے تھے لیکن بعد میں اُنہوں نے بائک پر جانا شروع کردیا اور دفتر کے ہر ساتھی کی طرح مجھے بھی اُن کے رات کے اندھیرے میں بائک پر اتنا دور سفر کرنے پر اعتراض تھا۔جب بھی بارش ہوتی تھی تو وہ بائک کی سیٹ خشک کرنے کیلئے کاغذ کی تلاش میں میری ڈیسک تک آپہنچتے اور میں ہمیشہ اُنہیں بائک پر گھر جانے اجتناب کرنے کیلئے کہتا اور وہ ہربار یہی کہتے تھے کہ بس اب کچھ دن اور۔مدثر سے آخری ملاقات بھی اُس وقت ہوئی جب وہ گھر جانے کیلئے بائک Startکررہے تھے اور اس بار بھی میں نے بائک نہ چلانے کی صلاح دی اور اُنہوں نے کہا کہ اب سردیاں آگئیں ، بس اب بائک بالکل بند کرکے آئوں گا۔
بھائی مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ اس طرح بائک بند کریں گے کہ ہم سے دوبارہ ملنے نہیں آئیںگے… کل بارش ہوئی اور میں اسی انتظار میں تھا کہ آپ بائک کی سیٹ خشک کرنے کیلئے کاغذ ڈھونڈنے آئیںگے… لیکن آپ نہیں آئے… میرے ڈیسک پر بہت کاغذات جمع ہوگئے ہیں…یقین نہیں ہوتا کہ آپ اب دوبارہ کبھی نہیں آئیں گے… دفتر کے کئی کمروں میں آپ کی تصویر لگائی گئی ہے …میں ان کمروں میں جانے کی ہمت نہیں کر پاتا… جب بھی آپ کا ذکر ہوتا ہے دفتر کی ہر آنکھ نم ہوجاتی ہے… ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ آپ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ (آمین)