ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہوا علامہ اقبال کو منوں مٹی تلے سوتے ہوئے لیکن اپنے بیش قیمت افکار وخیالات اور نظریات کی بنا پر وہ آج بھی ہمارے درمیان زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ مجھے تو کشمیری زبان کا یہ شعر ان پر بالکل صادق نظر آتا ہے ؎
گُلشن نَس پٹھ راج کرنُک حق چھُ تِمن بُلبُلن
گٹہِ منز یِم گاش ہاوان ال پننن زال زال)
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ علامہ اقبالؔ کی شاعری، فکر و فلسفہ کے اعتبار سے آفاقی نوعیت کی حامل ہے۔انہوں نے بیک وقت فلسفہ عرب و عجم کا گہرا اور عمیق مطالعہ کرکے اسے اپنی شاعری میں کچھ اس طرح پیش کیا کہ ایک طرف جہاں اردو شاعری کا موضوعاتی کینواس وسیع ہوگیا وہیں دوسری طرف آنے والے شاعروں نے بھی اس فکر و فلسفہ سے اپنی قندیلیں روشن کیں۔اپنی شاعری میں فلسفۂ حیات و ممات پیش کرنے میں جہاں انہوںنے مختلف فلسفیوں اور دانشوروں کو پیش نظر رکھا وہیں انہوں نے اس معاملے میں قرآن و سنت سے بھی بہت حد تک اکتساب فیض حاصل کیا۔
قرآن و سنت نے حیات و ممات کا جو فلسفہ پیش کیا تقریباً اس کی من وعن صدائے بازگشت علامہ اقبالؔ کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ مثلاً یہ کہ قرآن نے حیات و ممات کی خلقت کایہ فلسفہ پیش کیا کہ اللہ نے اسے یہ جاننے کے لیے پیدا کیا تاکہ وہ آزمائے کہ کون اعمالِ احسن انجام دے گا جیسے کہ سورہ تبار الذی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:{اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنَ عَمَلََا}
تو اس معاملے میں علامہ کے یہاں بھی حیات و ممات کا یہی تصور ابھرتا ہوا نظر آتا ہے وہ بھی دنیاوی زندگی کو آزمائش اور امتحان گاہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اپنی شہرہ آفاق نظم ’’خضر راہ‘‘ ، جسے آل احمد سرور نے عہد نامہ جدید قرار دیا ہے، میں انہوں نے اسی حقیقت کو الفاظ کا جامہ یوں پہنایا ہے ؎
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
قلزم ہستی میں تو ابھرا ہے مانندِ حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحان ہے زندگی
فلسفہ حیات کے تعلق سے انہوںنے اُن تمام متقدمین شعراء کے خیالات و نظریات سے بہت حد تک کنارہ کشی اختیار کی، جن شعرا کے یہاںتصورِ زندگی بہت محدود اور کسی حد تک جمود اور اضمحلال کا شکار ہے۔ جیسے کہ بہادر شاہ ظفر نے دنیاوی زندگی کو محاورۃََ محض’’ چار دن کی زندگی‘‘ قرار دیا ہے۔
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں!
اسی طرح علامہ سے پہلے دیگر شعرا نے جو زندگی کا تصور پیش کیا تھا وہ محدود یت ہونے کے ساتھ مجبوریت کا بھی عندیہ پیش کرتا ہے
ناحق ہم مجبوروں پہ یہ تہمت ہے خود مختاری کی
چاہیے سو جو آپ کرے ہم کو عبث بدنام کیا
بلکہ بعض شعرا نے تو قنوتیت کا دامن تھام کر زندگی کو محض قید خانہ یا غم و الم کی آماجگاہ قرار دیا ۔ اس معاملے میں اردو کے بلند پایہ اور مایہ ناز شاعر مرازا اسد اللہ خان غالبؔ بھی پیچھے نہیں رہے ؎
قید و حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہے
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
اس کے برعکس علامہ کے یہاںجو زندگی کا تصورابھرتا ہے وہ متحرک، فعال اور تابناک ہے ؎
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی
ڈاکٹر اسرارؒ نے بیان القران میں علامہ اقبال کے اس فعال اور متحرک تصورِ زندگی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:’’اگر انسان اس دنیا میں طویل طبعی عمر بھی پائے تو اس کا ایک حصہ بچپن کی ناسمجھی اور کھیل کود میں ضائع ہو جاتا ہے۔ شعور اور جوانی کی عمر کا تھوڑا سا وقفہ اس کے لیے کار آمد ہوتا ہے۔ اس کے بعد جلد ہی بڑھاپا اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے { لِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمِِ شَیْعاََ} (سورۃ النحل: ۷۰)کی جیتی جاگتی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ تو کیا انسانی زندگی کی حقیقت بس یہی ہے؟ اور کیا اتنی سی زندگی کے لیے ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا جاتا ہے؟ انسان غور کرے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ انسانی زندگی محض ہمارے سامنے کے چند ماہ و سال کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نام ہے۔ علامہ اقبالؔ کے بقول ؎
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی
اور اقبال ہی نے اس سلسلے میں انسانی ناسمجھی اور کم ظرفی کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے ؎
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیٔ داماں بھی ہے!‘‘
علامہ زندگی کو چار دن کی چاندنی سمجھنے کے بجائے اسے ایک وسیع تناظر میں دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ انسانی زندگی کو جہدِ مسلسل ، کوشش پیہم اور تسخیر کائنات سے مشروط ٹھہراتے ہیں۔
زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیں
ٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیں
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ سنگِ گراں ہے زندگی
وہ اُس زندگی کو موت کے مانند تصور کرتے ہیں جس میں تحرک، تغیر اور انقلاب کا فقدان ہو۔بلکہ وہ پوری امت کی حیات کا روح اسی انقلاب ہی کو گردانتے ہیں ؎
موت ہے وہ زندگی جس میں نہ ہو انقلاب
روح اممم کی حیات کشمکشِ انقلاب
علامہ اقبالؔ کا تصور زندگی جہد مسلسل کے ساتھ ساتھ عمل کرنے سے بھی عبارت ہے۔ وہ انسانی زندگی کے بننے اور بگڑنے میں عمل کو ایک ایک مقام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ انسان کی ذاتی فلاح اور بقا کے لیے اعمال الصالحات کو اہم بلکہ بنیادہ ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ زندگی کے حسین نقشے کو تعمیر کرنے کے لیے جہاں کوشش پیہم کو اہمیت دیتے ہیں وہاں بہترین اعمال انجام دینے کو بھی اس کا ایک اہم ذریعہ جانتے ہیں ان کا دعوی ہے ؎
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
یہاں ایک بار پھر علامہ اقبال کاؔ فلسفۂ زندگی قرآنی آیات کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آتاہے۔ قرآن ایک انسان کو حسین ترین زندگی گزارنے کے لیے اعمال الصالحات کا ہی درس دیتا ہے۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ نے تذکیر و تانیث کی فرق کیے بغیر ہر ایک فرد سے اعمال الصالحات کا مطالبہ کرکے حیات طیبہ گزارسے نوازنے کا اعلان کیا ہے:جس کسی نے بھی نیک عمل کیا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن تو ہم اسے (دنیا میں) ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔ (سورۃ النحل:آیت۹۷)
علامہ اقبالؔ کا فلسفۂ حیات اتنا محکم اور مضبوط ہے کہ وہ اسے ایک جہانِ نو خلق کرنے کی ایک عظیم قوت تصور کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی کو انسان کے لیے تسخیر کائنات کا ایک بہترین آلہ کار سمجھتے ہیں۔ وہ زندگی کو محض دنوں اور راتوں کے اُلٹ پھیر تک محدود رکھتے ہوئے واویلااور افسوس نہیں کرتے بلکہ اس کی عظمت کے ترانے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں ؎
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم ہے
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
وہ زندگی کو مجبوریت اور محکومیت کی شبیہ بنا کر پیش نہیں کرتے ہیں ، جیسے کہ اُن سے پہلے بہت سارے شعرا نے کیا تھا، بلکہ وہ اسے تدبیریت اور تقدیر سازی کا ایک بیش قیمت ذریعہ بنا کر پیش کرتے ہیں ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
بالکل اسی طرح ان کے یہاں موت کا تصور متقدمین شعراء سے قدرے مختلف اور جدت کا حامل ہے۔وہ موت کو سب کچھ فنا کرنے والی قوت کے روپ میں بیان کرکے یاس اور قنوطیت کی فضا قائم کرنے نہیں دیتے بلکہ وہ اس کے جلو میں ایک نئی زندگی اور ایک نئی صبح کا روشن عندیہ دے کر رجائیت کا پیغام دیتے ہیں ؎
موت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیات
عام اس کو یوں نہ کردیتا نظامِ کائنات
ہے اگر ارزاں تو سمجھو اجل کچھ بھی نہیں
جس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیں
آہ! غافل موت کا رازِ نہاں کچھ اور ہے
نقش کی ناپایداری سے عیاں کچھ اور ہے
رابطہ ۔ہیف شرمال شوپیان ،ریسرچ سسکالر شعبۂ اُردو سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر
فون نمبر۔9541690559
ای میل۔ [email protected]