عبید احمد آخون
یوں تو ہمارے نظروں کے سامنے بہت سے مشہور شعرا کی شاعری ،مثنوی، قصیدے، رباعی گزرتی ہیں، جو عشقیہ بھی ہوتی ہیں اور حقیقی بھی، ان میں اثر بھی ہوتا ہے ، لچک ہوتی ہےاور ایک گہرا رنگ بھی ہوتا ہے۔ شعرا کی شاعری سُن کر یا پڑھ کراُن کے کچھ اشعار ہمارے ذہنوں میں گڑھ جاتے ہیں اور انا اشعارکے شاعر ہمارے لئے پسندیدہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک روحانی شاعر علامہ سر محمد اقبالؒ کے اشعار میرے لیے آبِ حیات بن چُکے ہیں۔ علامہؒ کی شاعری میں خداوندی خوب جھلکتی ہے، جیسے:
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
علامہؒ کی شاعری کی اگر بات کی جائے تو انسان کو نصیحت بخشنے والی نظمیں اور غزلیں اپنی مثال آپ ہیں، جنہیں انسان تب تک یاد رکھے گا جب تک یہ دُنیاں قائم ہے، جیسے:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
تو اگر میرا نہ بن سکا نہ بن اپنا تو بن
علامہؒ ایک پہلودار شخصیت کے مالک ہیں، شاعر کے ساتھ ساتھ انہیں،مدبر مفکر فلسفی کا درجہ بھی حاصل ہے۔ جب علامہؒ نے شاعری کی ابتداء کی تو اُس وقت داغ ؔاور میرؔ جیسے قدآور شاعروں کے اثرات توموجود تھے، لیکن علامہؒ نے بعض بنیادی تبدیلیوں کو اپنا کر اُردو غزل کو اظہار کا وسیلہ بنایا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ صدی میں سب سے پہلے علامہؒ کے ہاتھوں اُردو غزل جدیدیت سے آشنا ہوئی۔
رسالہ مخزن کے سابق مدیر شیخ عبدالقادر، جنہوں نے سب سے پہلے علامہؒ کی شاعری کو منظر عام پر لایا، کلیات اقبالؒ کے دیباچہ میں علامہؒ کی عظمت میں یوں رقم طراز ہیں۔’’کسے خبر تھی کہ غالب مرحوم کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہوگا جو اُردو شاعری کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دے گا اور جس کی بدولت غالب کا بے نظیر تخیل اور نرالا انداز بیان پھر وجود میں آئے گا جو اُردو ادب کے فروغ کا باعث ہوگا، مگر زبان خوش اقبالی دیکھئے کہ اُس زمانے میں اقبالؒ جیسا شاعر ،اُسے نصیب ہوا جس کے کلام کا سکہ ہندوستان بھر کےاُردوداںِ دُنیاکی دلوں پر بیٹھا ہوا ہے اور جس کی شہرت روم و ایران بلکہ فرنگستان تک پہنچ گئی ہے۔
غالب اور اقبالؒ میں بہت سی باتیں مشترک ہیں، اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اللہ خان غالب کو اردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا ،اُس نے اُن کی روح کو عدم میں جاکر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کس جسدِ خاکی میں جلوہ افروز ہو کر شاعری کے چمن کی آبیاری کرے، اس نے پنجاب کے ایک گوشہ میں جسے سیالکوٹ کہتے ہیں،میں دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبالؒ نام پایا.۔جب شیخ محمد اقبالؒ کے والد بزرگوار اور اُن کی پیاری ماں اُن کا نام تجویز کر رہے ہوں گے تو قبولِ دُعاء کا وقت ہوگا کہ اُن کا دیا ہوا نام اپنے پورے معنوں میں صحیح ثابت ہوا اور اُن کا اقبال مند بیٹا ہندوستان میں تحصیلِ علم سے فارغ ہو کر انگلستان پہنچا۔ وہاں کیمبرج میں کامیابی سےحاصل کرکے جرمنی چلا گیا اور علمی دنیا کے اعلیٰ مدارج طے کر کے واپس آ یا۔ بقول اقبالؒ؎
چلی ہے لے کر گھر کے نگار خانے سے
شرابِ عِلم کی لذت کُشا کُشا مجھ کو
شیخ محمد اقبالؒ نے یورپ کے قیام کے زمانے میں بہت سی فارس کتابوں کا مطالعہ کیا اور اس مطالعہ کا خلاصہ ایک محققانہ کتاب کی صورت میں شائع کیا، جسے فلسفہ ایران کی مختصر تاریخ کہنا چاہیے، اس کتاب کو دیکھ کر جرمنی والوں نے شیخ محمد اقبالؒ کو ڈاکٹر کا علمی درجہ دیا۔
علامہ اور احترامِ اُستاد :
1923 میی جب برطانوی حکومت کی جانب سے علامہ اقبالؒ کو Sirکا خطاب دیا جانے لگا، تو فرمانبردار اور استاد پرست علامہ اقبالؒ نے مطالبہ کیا کہ اُن کے استاد ’مولوی میر حسن‘ کو بھی شمس العماء کا خطاب دیا جاے۔ دوسری صورت وہ (Sir) کا خطاب قبول نہیں کریں گے، مگر انگریز سرکار مُصِر تھے کہ انہوں نے ہنوز کوئی کتاب تصنیف نہیں کی ہے ،جس کےپیش نظر انہیں متذکرہ خطاب نہیں دیا جاسکتا ۔ تب علامہ اقبال نے جو تاریخی جملے دُہرائے، اُن کی نظیر نہیں ملتی۔ علامہ اقبال نےکہا’’میں بذاتِ خود اُن کی تصنیف ہوں‘‘۔ اس جواب پر برطانوی حکومت کو مولوی میر حسن کو شمس العلماءکا خطاب دینا ہی پڑا ۔ اب وہ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کے نام سے مشہور ہیں۔ علامہ ؒ کے والد شیخ نور محمد کے متعلق ماہرین اقبالیات کا یہ خیال ہے کہ آپ کشمیری ’’سپرو‘‘ برہمنوں کے خاندان سے تھے، چنانچہ ‘ زبور عجم‘ کے ایک شعر میں اقبالؒ نے اپنی برہمن زادگی کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ مولانا رومی اور شمس تبریزی سے اپنے تعلق خاطر کا اظہار یوں کیا ہے؎
مرا بنگر کہ در ہندوستان آخر نمی بینی
برہمن زادہ رمز آشنائے روم و تبریذ است
علامہ ؔکے آباء و اجداد نے اورنگ زیب کے زمانے میں حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر قبولِ اسلام کیا، اس بات کی تائید اقبالؓ کے خط سے بھی ہوتی ہے۔
علامہؒ نے میونخ یونیورسٹی میں اپنے تحقیقی مقالہ جو The Development of Metaphysics in Persia کے عنوان سے تحریر کیا تھا پیش کیا۔ چنانچہ میونخ یونیورسٹی نے اس مقالے پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی اور ١٩٠٨ء میں مقالہ پہلی بار لندن سے شائع ہوا۔علامہؒ روز مرہ کی زندگی میں پنجابی میں بات کرتے تھے لیکن علمی اور ادبی موضات پر اُردو میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ فارسی، انگریزی، جرمن اور عربی زبانوں پر اچھی دسترس رکھتے تھے۔ – مضامین میں تاریخ، تصوف، علم الکلام، فلسفہ، اسلامیات اور عُمرانی علوم سے انہیں گہری دلچسپی تھی ۔
ترانہ ہندی جب علامہ ؒ نے لکھا، وہ علامہؒ کی شاعری کا ابتدائی دور کہلاتا ہے۔ بعد میں جب ذہن میں پختگی آئی تو اقبالؒ کی وطنی قومیت اور وحتُ الوجود کی طرف میلان ِگریز میں بدلنے لگا، خاص طور وطنی قومیت کے نظریے کے تو وہ اس قدر خلاف ہوگئے کہ اسے ملت اسلامیہ کے لئے تباہ کن سمجھنے لگے۔ چنانچہ بعد میں ترانہ ملی میں علامہؒ نے اس بات کا بر ملا اظہار بھی کیا:
چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آسان نہیں مٹانا نام و نشان ہمارا
اقبالؒ کی آمدنی اوسط درجے کی تھی لیکن زندگی میں وہ کبھی، حرص و ہوس، یا احساس کمتری میں مبتلا نہیں رہے ۔وہ اپنی آمدنی ہی میں گزر بسر کرتے اور مطمئن رہتے تھے ،تو کل و قناعت کے ساتھ خوداری اور غیرت مندی ان کے مزاج میں ایسی تھی کہ بلا ضرورت کسی قسم کی مالی امداد طلب کرنا پسند نہ کرتے تھے۔ – زندگی کے آخری برسوں میں علالت کے سبب ذرائع آمدنی مفقود ہوگئے تھے، اسلئے نواب بھوپال سے پانچ سو روپے ماہانہ کا وظیفہ قبول کر لیا تھا، لیکن ریاست حیدرآباد کے وزیر اعظم سر اکبر حیدری نے توشہ خانے سے علامہ اقبالؒ کو ایک ہزار روپے کا چیک بطور امداد بھیجا، تو اقبالؒ نےواپس کر دیا، اس لئے کہ جس فنڈ سے یہ رقم بھیجی گئی تھی اسے ان کی غیرت مند اور خودار شخصیت ہرگز قبول نہیں کرسکتی تھی۔ علامہؒ نے چیک کے ساتھ کچھ اشعار بھی تحریر کئے، جس کا آخری اشعار یوں ہے؎
غیرت فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول
جب کہا اس نے یہ ہے میرے خدائی کی زکات
علامہ کی شاعری کا آغازیوں تو شعر و شاعری سے ان کی مناسبت بچپن ہی سے ظاہر تھی ،کبھی کبھار شعر موزون کر لیا کرتے تھے مگر اس سلسلے میں زیادہ سنجیدہ نہیں تھے1885میںاقبال نے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ 1898ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال ایم اے(فلسفہ ) میں داخلہ لیا ،چنانچہ 1899ء میں فلسفے کے امتحان میں پنجاب بھر میں اول آئے، اس دوران بھی شاعری کا سلسلہ قائم رہا مگر مشاعروں میں نہیں جاتے تھے۔نومبر 1899ء کی ایک شام کو کچھ بے تکلف ہم جماعت انہیں حکیم امتیاز الدین کے مکان پر ایک محفل مشاعرہ میں کھینچ لے گئے۔بڑے بڑے اساتذہ شُعراء جمع تھے، اقبال بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پکارا گیا –۔ اقباؒل نے غزل پڑھنی شُروع کی، جب اس شعر پر پہنچے:
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے
محفل میں موجود مرزا ارشد گورگانی اُچھل پڑے، بے اختیار ہو کر داد دینے لگے، یہاں سے اقبالؒ کی بحیثیت شاعر شہرت و مقبولیت کا آغاز ہوا۔
عظمت ِاقبالؒ پر ماہرین کی آراء :
اقبالؒ کی تعریف میں ڈاکٹر حُسین قریشی لکھتے ہیں۔’’ تاریخ میں بہت کم ایسے شاعر ہوئے ہیں جنہوں نے اتنا گہرا اثر ڈالا ہو جتنا اقبالؒ نے بر صغیر کے مسلمانوں پر ڈالا ہے۔‘‘ اور یہ اثر زیادہ تر ان کی شاعری کی مرہون منت ہے، اقبالؒ کی شاعری نفاست اور سلیقے سے تراشا ہوا ایک ایسا نگینہ ہے جو ایک کم پڑھے لکھے شخص سے لے کر ایک عالم بے بدل متکلم فلسفی تک کی نگاہوں کو خیرہ کرتا ہے، – نظریاتی اعتبار سے اقبالؒ کے مخالفین کو بھی ان کی عظمت پر ایمان لاتے ہی بنتی ہے اور یہ محض شعرِ اقبالؒ کا اعجاز ہے۔
بقولِ پروفیسر رفیع الدین ہاشمی اپنی بے مثال فنی مہارت اور منفرد و فکری عظمت کی بنا پر علامہ اقبالؒ کو اردو شعر و ادب کی آبرو کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ مقصد و فن کا ایسا متوازن اور حسین و جمیل امتزاج عالمی ادب میں بھی مشکل سے ہی ملے گا۔اقبال نامہ’’ مرتبہ چراغ حسن حسرت ص 26 میں‘‘ علامہ اقبال کی شاعری میں یوں رقم طراز ہے :
’’شعر کہتے وقت ڈاکٹر صاحب کی عجیب کیفیت ہوتی تھی، بیٹھے بیٹھے لیٹ جاتے، بار بار پہلو بدلتے، کبھی چہرے پر اضطراب ہوتا تھا کبھی بشاشت۔ – ان کے پلنگ کے نیچے ایک میز ہوتی تھی، اس پر ایک کاپی پڑی رہتی تھی، – جب شعر کہنے کو طبیعت چاہتی تھی لکھنا شروع کردیتے تھے، – کبھی کبھی کوئی ملنے کو آجاتا تھا تو اسے شعر لکھوا دیتے تھے۔‘‘
(نقشِ اقبال۔ ص136)علامہ کی شاعری کی مناسبت سے کچھ ان الفاظ میں تعریف کی گئی ہے:
’’علامہؒ کی شعر گوئی کا کوئی وقت متعین نہ تھا، – جب ان کی موج آجاتی، مجھ کو آواز دیتے اور کہتے، بیاض لے آو اور کلام مجید بھی – ،جب بھی علامہؒ دن میں فکرِ سخن کرتے تو کلامِ مجید ضرور پاس رکھتے تھے، – کبھی کچہری سے واپسی پر علامہؒ کرسی پر بیٹھ جاتے اور مشقِ سخن کر دیتے مگر اکثر کلام رات کی تنہائی میں ہی مرتب ہوتا تھا۔
اپنی شاعری پر علامہ اقبالؒ کی آراء :
’’میں شعر کہنے کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتا اور عموماً یہ ہوتا ہے کہ کو ئی خیال دماغ میں ہے ،جس کا اظہار مفید معلوم ہوتا ہے۔ – یہ خیال دماغ میں چکر لگاتا رہتا ہے – پھر کس وقت بغیر ارادے کے نظم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ – اکثر ایسا ہوا ہے کہ بیک وقت پوری رباعی یا نظم موزوں ہوگی، گویا کسی نے لکھوا دی ہے –۔ بعض وقت تو شعر اس تیزی سے نظم ہوتےہیں کہ ان کا لکھنا دشوار ہوجاتا ہے، – اس کے بعد پھر کئی کئی روز تک ایک شعر بھی موزوں نہیں ہوتا، – کوشش اور ارادہ بھی ناکام ثابت ہوتا ہے۔‘‘( مخزن۔ اپریل 1949)
مشرق و مغرب علامہ کی افکار میں :
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حُزر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
اس شعر کو اگر ہم لے کر چلے تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر مشرق مغرب سے کنارہ کش کرنے سے ہمیں روکتے ہیں۔ علامہ نے بہت سی جگہوں پر مغرب کی تعریف بھی کی ہے اور یہاں تک لکھا کہ مغرب کے دانشوروں نے میرے علم میں اضافہ کیا اور بہت سے مغربی مفکروں پر اشعار بھی لکھے ،مگر جب مشرق کے بارے میں دیکھے تو علامہ کا یہ شعر اُن سب ناقدین پر بھاری پڑ گیا جو یہ سوچتے تھے کہ علامہ مغرب کے ہی ہو کر رہیں گے، شعر کچھ یوں ہے۔؎
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
علامہ اقبالؒ اور مولانا محمد علی جوہر، دو ایسے نام ہیں جو مغرب کی دانش گاہوں سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے، لیکن ان دو سے بڑھ کر کسی نے مغرب پر اتنی زوردار تنقید نہیں کی۔
مے خانے یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر
جاپان کے وہ دوشہر (ہیروشیما اور ناگاساکی ) جو عالمی جنگ کیوجہ سے آج بھی اپنی داستان بیان کرتےہیں۔ جب بھی ذہن میں گردش کرتے ہیں تو میرے منہ سے علامہ اقبالؒ کے اشعار بےجھُجک نکلتے ہیں:
دیار مغرب میں رہنے والو خُدا کی بستی دکان نہیں ہے
کھرا تم جسے سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجرسے آپ خودکُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا
علامہ کے کلام میں عشقِ کا مقام :
علامہ کا دور وہ تھا ،جب حالی مقدمہ شعرو شاعری لکھ چُکے تھے اردو شاعری پر تنقید عروج پر تھی، یہاں تک کہ ناقدین نے اسے نیم وحشی صنف کےالقاب سے بھی نوازا تھا ۔اُردو شاعری کے دو دبستان، دبستانِ دلی اور دبستانِ لکھنو ی وجود میں آچکے تھے، علامہ نے اسی دور میں شاعری کا آغاز کیا۔ –علامہ نے عشق کا دائرہ جو گُل و بُلبل، وجودِ زن سے آگے نہیں بڑھ پایا تھا ،کے معنی ہی بدل دیئے۔ اقبالؒ کے عشقِ میں عورت سوار نہیں ہے بلکہ اُن کا عشق، عشقِ حقیقی کے اعلیٰ مقام عبور کرنے کی جستجو میں محو ہے ۔
صدقِ خلیل بھی ہے عشق، عزمِ حُسین بھی ہے عِشق
معرکہ وجود میں بدر و حُنین بھی ہے عشق
علامہ عشقِ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دین ِ حق کی شرط اول مانتےہیں اور یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر نبی پاکؐ کا عشق نہ ہو تو شرع و دین بُت کدہ تصورات کے سِوا کچھ بھی نہیں ۔
پروفیسر جگن ناتھ آزاد کے بقول اگر اقبال اردو اور فارس شاعری کو اس موڈ سے آشنا نہ کرتے تو آج جوش ملیح آبادی مجاز، احسان دانش اور سردار جعفری کی شاعری کا اندازہ یقیناً مختلف ہوتا ۔جوش کو شاعرِ انقلاب بنانے میں اس ماحول کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جس کی تخلیق اقبال کے تفکر نے کی۔ – اگر اقبال غزل کی صنف میں ایسا انقلاب برپا نہ کرتے تو فیض اور روش صدیقی کی شاعری کو پروان چڑھنے میں ایک صدی اور لگ جاتی۔
اقبالؒؒ کا شاہین اور مردِ مومن :
علامہ کی شاعری میں مردِ مومن وہی ہے جو صاحبِ لولاک ہے ۔مرد مومن میں ایک نئی اور انوکھی شان پائی جاتی ہے ، اس کے گفتار اور کردار میں اللہ ہی کی بُرہان نظر آتی ہے۔ یعنی مرد مومن وہی ہے جو خود کو اُس رنگ میں ڈال دیتا ہے جس رنگ میں رَبُ العزت اسے رازی ہوجائے ،یعنی جس کو ربّ پر یقین محکم اور جو عمل میں پیہم ہو اور وہی خُدا کا مجاہد کہلاتا ہے۔بقولِ اقبال؎
الفاظ و معنی میں تفاوت نہیں لیکن
مُلاء کی ازان اور مجاہد کی ازان اور
اقبالؒ کے کلام میں شاہین کا بھی ذکر بہت اہمیت کا حامل ہے، اس کے ذریعے علامہ اُمتِ مسلمہ کے لے یہ سبق یاد دلانے کی کوشش کر رہےہیں کہ یہ دنیا عاجزی ہے ،یہاں ہم عارضی طور پر زندگانی گزارنے آئے ہیںاور ہمیں اس دنیا میں قناعت والی زندگی بسر کرنے پر خود کو آمادہ کرنا چاہیے۔
علامہ کی نوجوانوں کی تعلیم پر تنقید:
خوش تو ہیں ہم جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خاندان سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
علامہ دور جدید کی مادہ پرستانہ تعلیم و تربیت سے اُمتِ مسلمہ کو دور رہنے اور اُنہیں سچی روحانی تعلیم و تربیت کی طرف راغب کرنے کی زبردست کوشش کر رہے ہیں تاکہ اُمتِ مسلمہ مغرب کی چمک دمک سے اور بے حیائی سے اپنے ایمان کو بچا سکے۔
علامہ کی تصانیف :
فارسی زبان میں علامہ اقبالؒ کے آٹھ مجموعے شائع ہو چکے ہیں جو حسبِ ذیل ہیں:
اسرارِخودی، رموزِ بے خودی، پیامِ مشرق، زبورِ عجم، جاوید نامہ، مسافر، پس چہ باید کرداے اقوامِ مشرق، ارمغان حجاز(فارسی )
اردو زبان میں علامہ کی تصانیف میں بانگِ درا، بالِ جبریل؛ ضربِ کلیم؛ ارمغان حجاز شامل ہیں۔
علامہ کی شاعری پڑھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علامہ ایک حقیقی اور خُدا پرست شاعر گزر چکے ہیں۔
علامہ اقبالؒ کے مکاتیب کو اُردو ادب میں وہی مقام حاصل ہے جو مکاتیب غالب کو حاصل ہے۔ الطاف حسین حالی نے’’یادگارِ غالب‘‘میں 1850 ء کو اردو خط و کتابت کا آغاز قرار دیا ہے۔
علامہ اقبالؒ کی نثری تصنیف’’ علم الا قتصاد‘‘ اردو ادب میں اقتصادیات کی پہلی تصنیف تسلیم کی جاتی ہے، علامہ کی شاعری سے ان کے افکار و خیالات اور نظریات و تصورات کے علاوہ ان کی شخصیت کا جو خاکہ ہمارے ذہنوں پر مرتب ہیں، اس میں اُن کے مکتوبات کے مطالعے سے رنگ بھرے جا سکتے ہیں۔ – علامہ کے مکتوبات جو انہوں نے اپنے دور کے مختلف علماء فضلاء اور شعراء کے نام وقتاً فوقتاً رقم کیے، ایک عہد کی داستان، تواریخ، علامہ کا مفکرانہ انداز، کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین اقبالیات کے مطابق، اُن کے مکاتیب کی تعداد ، جو اب تک شایع ہوگئے ہیں تیرہ سو سے تجاوز کرتی ہے۔معروف ماہر اقبالیات اور تنقید نگار مرحوم پروفیسر آل احمد سرور نے علامہ کے مکاتیب کو کلامِ اقبالؒ کی اچھی شرح قرار دیا ہے۔سید نذیر نیازی مرحوم کو علامہ اقبال نے سب سے زیادہ خط لکھے جو قبل از مرگ انہوں نے’’مکتوبات اقبال‘‘ کے نام سے 1957 میں اقبالؒ اکادمی لاہور کے ذریعہ شایع کرائے –۔
مرحوم سید نیازی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے علامہ اقبالؒ کی اجازت سے اُن کی انگریزی خطبات’’The” Reconstruction of of Islamic thoughts in islam‘‘کا پہلا ترجمہ’’الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا –۔
خطبات اقبالؒ میں علامہ بحیثیت ایک مفکر نظر آتےہیں، افکار میں نظریات اسلامی کی تشکیل جدید کے سلسلے میں کوئی بھی اہل علم ان خطبات کی اہمیت کو ہرگز نظر انداز نہیں کرسکتا –، علامہ اقبالؒ کے فرزند جسٹس جاوید اقبال علامہ کے خطبات کی قدرو قیمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’ دنیائے اسلام کے بعض مدبر اہلِ علم حضرات جن سے مجھے کبھی ترکی میں اور دمشق میں یا قاہرہ میں ملنے کا اتفاق ہوتا رہا ہے، وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ خطبات اس قدر اہم ہیں کہ گزشتہ تین سو سال میں ایسی کتاب نہیں لکھی گئی ہے اور اس کتاب کی اہمیت روز بہ روز دنیائے اسلام میں بڑھتی جا رہی ہے۔خود علامہ اقبالؒ کی اپنے مشہور چھ خطبات کے بارے میں رائے دیتے ہوے لکھتے ہیں کہ اگر یہ کتاب خلیفہ مامون الرشید کے دور میں شایع ہوتی تو یقیناً اسلامی دنیامیں ایک انقلاب برپا کرنے کا ذریعہ بنتی۔ – علامہ کے خطوط اور خطبات علامہ کی دین ِ اسلام کے ساتھ وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
٢١ اپریل ١٩٣٨ ء کو علامہ اقبالؒ اس دار فانی سے رحلت کر گئے اور اقبالؒ کو شاہی مسجد کے مُتصل آسودہ خاک کیا گیا۔ بقول اقبالؒ؎
زیارت گاہ اہلِ عظم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندیا
[email protected]