آج کی ترقی یافتہ دنیا نے اگرچہ جسم وجاں کی خواہشات و مطالبات کی تکمیل کا سارا سامان مہیا کرلیا ہے، یہاں تک کہ زمین و آسمان کو مسخر کرلیا ہے اور ستاروں پر کمندیں ڈال دی ہیں لیکن انسان اپنے اندر کی بہیمیت پر قابو نہیں پاسکا ہے۔ ہمارے سماجی رویئے ہمارے لئے وبالِ جان بن چکے ہیں۔ رواداری، اخلاص، برداشت، صبر، مساوات، عفو و درگزراور عدل اور انصاف جیسی صفات جو معاشروں کی فلاح اور خیر کی ضامن ہیں، عنقا ہوتی جارہی ہیں۔ اقوام ہوں یا افرادطاقت بنیادی اصول بن چکاہے۔ کمزوروں کے خلاف طاقت کی وہی زبان استعمال کی جارہی ہے جو کبھی جاہلیت کا طرّہ امتیاز تھی۔ انسانی معاشروں میں عدم برداشت کا رجحان فروغ پارہاہے جو ہمارے سماجی مسائل کا ایک بنیادی سبب ہے۔
برداشت وہ صفت ہے جس سے انسان میں ایک ایسی قوت پیدا ہوتی ہے جس کے سبب وہ جوش، اشتعال اور جذبۂ انتقام کے باوجود عفو و درگزر سے کام لیتا ہے اور اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے جبکہ عدم برداشت سے مراد وہ منفی رویہ ہے کہ جب کسی کی رائے، سوچ، رویئے یا نقطہ نظر سے آپ متفق نہ ہوں اور فکرو نظر کے اس اختلاف کو برداشت نہ کرپائیں اور نامناسب ردعمل کا اظہار کریں۔عفو و درگزر سے کام لینا کمزوری یا بزدلی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے؛
’’اور وہ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔‘‘القرآن
معاشرے کی عمارت اخلاقیات، برداشت اور محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ جب یہ خصوصیات سماج سے رخصت ہوجائیں تو وہ تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہوجاتا ہے۔ میانہ روی ، رواداری، صبروتحمل ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہو تی ہے وہاں بے چینی ، غصہ، تشدد،شدت پسندی اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں۔ہمارے معاشرے کو آج یہی صورتحال درپیش ہے ۔ عدم برداشت کا رجحان سرعت سے فروغ پارہا ہے ۔ لوگوں میں ذرا بھی برداشت نہیں، محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر تشدد سے گریز نہیں کرتے۔ معاشرے میں جس طرف نگاہ دوڑائی جائے ہر ایک خود غرضی کا خول چڑھائے مشینی طرز زندگی گزارتا نظر آتا ہے۔ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آرہاہے۔یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ لوگوں میں قوت برداشت ختم ہوچکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفت معاشرے سے مفقود ہو چکی ہے۔
عدم برداشت معاشرے کے بیشتر مسائل کی جڑ ہے۔ آج اگر کوئی ہمیں ایک بات کہے تو ہم اسے چار باتیں سناتے ہیں، اینٹ کا جواب پتھرسے نہ دینے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ذرا سی بات پر ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔معاشرے میں نمود و نمائش، فیشن پرستی، رشوت اور سفارش کا دور دورہ، نشہ آور اشیاء کا کھلے عام استعمال اور ایسے دوسرے کئی پہلو ہیں جو اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار نہ صرف یکسر بدل گئی ہیں بلکہ مذہبی اقدار کا بھی دیوالیہ نکل چکا ہے۔
ماضی قریب میںہمارے معاشرے میں جو باتیںہنسی مذاق میں اْڑا ئی جاتی تھیں آج دلوں کو تکلیف پہنچانے لگی ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کا حال دیکھ لیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی صورتحال دیکھ لیں۔ ہر جگہ نفسا نفسی کا عالم نظر آئے گا۔ٹریفک سگنل کو ہی لے لیں ، وہاں پر کھڑا ہر فرد دوسرے سے جلدی میں دکھائی دیتا ہے خاص طور پر موٹر سائیکل سوار تو اشارہ کھلنے کا بھی انتظار نہیں کرتے، سگنل سبز ہونے کا انتظار کرنے سے پہلے ہی موٹرسائیکل بھگا لے جاتے ہیں اور اگر سگنل پر ٹریفک اہلکار موجود نہ ہو تو پھر سگنل کی طرف دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے۔ افراتفری کے عالم میں چوراہے کو پار کرتے ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے اور کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور نتیجتاًمعاملہ پولیس اسٹیشن یاعدالت چلا جاتا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے اور وہ کھلے دل سے اسے تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لے تو یقینا ً دوسرے کو بھی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کرنا پڑے گا اور معاملہ وہیں رفع دفع ہو جائے گا، مگر بدقسمتی سے ہمارا چلن بالکل بدل چکا ہے، بات کو ختم کرنے کے بجائے بڑھاوا ہی دیا جاتا ہے۔شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو، جب آپ دوران سفر ایسا کوئی منظر نہ دیکھیں۔ کبھی کبھارتو بیچ سڑک پر رک کر تہذیب کا جنازہ ہی نکالا جاتا ہے۔اسی طرح مختلف خدمات فراہم کرنے والے دفاتر کا رخ کریں۔اکثر مقامات پر عملے کی جانب سے جس رویہ کا اظہار کیا جاتا ہے وہ کسی طرح بھی ایک شائستہ اور مہذب قوم ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ ریستوران اور ہوٹلوںمیں خدمات انجام دینے والے افراد ہوں یا کسی ورکشاپ میں کام کرنے والا نوجوان، کوئی سکیورٹی گارڈ ہو یا سیلز مین، ان میں سے ہر شخص روزانہ کئی بار اپنے معاشرے کے نام نہاد مہذب افراد کے برے رویہ کو سہتے ہیں جو یقینا ان کے اندر منفی جذبات کو جنم دیتا ہے۔
انسان کی اصل طاقت کا اندازہ اس کی قوتِ برداشت سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس انسان میں تکالیف اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے وہ دنیا میں بڑی قوت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتا ہے ۔کسی شخص کی کامیابی اور بلندی کا راز یہ ہے کہ انتہائی جذباتی مواقع پر عقل و دانش سے فیصلہ کرے۔ انفرادی زندگی میں تحمل اور صبر و ضبط کی ضرورت تو ہے ہی لیکن اس کی اہمیت اجتماعی جگہوں میں مزید بڑ جاتی ہے۔ اگر صبر و ضبط سے کام نہ لیا جائے توزندگی گزارنامشکل ہوجائے۔ اپنی شخصیت کو نکھارنے، مسائل سے نجات پانے اور خوشگوار زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھا جائے۔
بلاشبہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل نہیں۔ اس لحاظ سے عدم برداشت کے رجحان پر بھی قابو پانا ممکن ہے، لیکن یہ کسی ایک کے کرنے سے نہیں ہوسکتا۔ اس کیلئے اجتماعی کوششوںکی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں شاید سنہرا ماضی لوٹ آئے کہ جب سماج اعلیٰ اخلاقی اقدار، محبت، برداشت اور رواداری کی خصوصیات سے مزّین تھا۔ لوگ ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھا جاتا تھا۔ لڑائی جھگڑوں کا تصور ہی نہ تھا۔ وہ سنہرا دور واپس آسکتا ہے لیکن اس کیلئے ہر مکتبہ فکر کے افراد کو ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اس دوعملی روئیے کو بھی ترک کرنا ہوگا کہ دوسرا عدم برداشت کا مظاہرہ کرے اور تشدد پر اْتر آئے تو ہم اس کو لعن طعن کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور جب خود ایسا کر گزرتے ہیں تو اس کیلئے طرح طرح کے جواز گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ اگرہم اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرلیں تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ صرف برداشت پیدا کرنے سے ہی معاشرے کا امن و چین لوٹ سکتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیاجائے۔ ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور انسانیت کا درس دیاجائے۔
����������