جموں//عالمی بینک نے جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کے پروجیکٹ منیجمنٹ یونٹ کیلئے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا ۔یہ پروجیکٹ جموںوکشمیر میں عالمی بینک کے تعاون سے چلایا جارہا ہے ۔ ورکشاپ کے اِنعقاد کا مقصد شرکا کو کووِڈ19 کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اِس بیماری کے عالمی بینک کے تعاون سے عملائے جانے والے پروجیکٹوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں جانکاری دینا تھا ۔ماہر قانون انینیا کمار نے شرکا کو ہنگا می حالات میں مختلف قسم کی صورتحال سے نمٹنے اور ملک کے قانونی نظام کے بارے میں جانکاری دی ۔اُنہوں نے انڈین کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کے دفعات 32 اور 56 پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ کنٹریکٹ منیجمنٹ ایکسپیٹ اور این آئی سی ایم اے آر پونے کے سابق ڈین ڈاکٹر اجیت پٹوردن نے تعمیراتی سیکٹر پر کووِڈ۔19کے پڑنے والے ممکنہ نقصان دہ اثرات کے بارے میں تفصیل جانکاری دی۔اُنہوں نے ان نقصانات کو کم سے کم حد تک رکھنے کے لئے تجاویز دیں۔پبلک پالیسی اینڈ گورننس ایکسپیٹ پروفیسر سی ایل بنسل نے فریقین کے مابین کسی بھی معاملے پر نااتفاقی کی صورت میں ڈسپیوٹ ریزولیوشن بورڈ اینڈ آر بی ٹریٹر کے رول پر تبادلہ خیال کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کووِڈ۔19 کے خاتمے کے بعد ٹھیکوں کو حقیقی نظر سے دیکھنا ہوگا۔جے کے اِرأ / جے ٹی ایف آر پی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر سید عابد رشید شاہ جنہوںنے ورچیول ورکشاپ کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی نے یہ ورکشاپ منعقد کرانے کے لئے عالمی بینک کی سراہنا کی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورکشاپ کے نتیجے میں جے ٹی ایف آر پی کے پروجیکٹ منیجمنٹ یونٹ کو مزید استحکام ملے گا۔ورکشاپ میں ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ کاڈی نیشن جے ٹی ایف آر پی افتخار حسین ، ڈائریکٹر ٹیکنیکل افتخار احمد ککرو اور دیگر عہدہ داروں نے ورچیول موڑ کے ذریعے شرکت کی۔ورچیول ورکشاپ کا انعقاد عالمی بینک نے اے آئی ایم اے کے اشتراک سے کیا تھا۔