آج سے لگ بھگ 30سال قبل سوویت یونین (موجودہ روس) کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کے بعد امریکہ دنیاکا واحد سپر پاور ملک بن کر ابھرا جس نے اپنی فوجی اور معاشی طاقت کی بنیاد پر نہ صرف پوری دنیا پر اپنے احکامات پر عمل کروایا بلکہ اپنی مخالف حکومتوں بالخصوص مسلم مملکتوں کو ایک ایک کرکے تہس نہس کردیا اور ایک حاکم کواقتدار سے ہٹاکر اس کی جگہ دوسرے کو بٹھادیا۔امریکہ دنیا میں جمہوریت کا فریبی علم لیکر سامنے آیاتھا لیکن اس نے جمہوریت کے قیام سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دی اور یہی وجہ رہی کہ اس نے کہیں جمہوریت کا تختہ پلٹ کر آمریت کی حوصلہ افزائی کی توکہیں جمہوریت کے نام پر خانہ جنگی کا بیج بویا۔جہاں ضرورت پڑی وہاں بادشاہت کا بھی دفاع کیا اور جہاں ضرورت پڑی وہاں جمہوری طرز پر بن کر آنیوالی حکومت کا تختہ ہی پلٹ دیا۔
سوویت یونین کا شیرازہ بکھرجانے کے بعد امریکہ کو اس کے مقاصد کے حصول میں کسی قسم کی کوئی بڑی مشکل پیش نہ آئی۔چاہے افغانستان میں نظام حکومت تبدیل کرنے کیلئے جنگ ہو،یاپھر عراق میں صدام حسین کے اقتدار کا خاتمہ،لیبیامیں معمر قدافی کو خانہ جنگی کاشکار بناکر ہلاک کرواناہویاپھر مصر میں مرسی حکومت کاسقوط۔امریکہ نے ایک ایک کرکے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائیں اوراسے پوچھنے کی جرأت کرنے والوں میں بھی کوئی نہ تھا۔یہ سب اقدامات اس نے اپنے عالمی ایمپائر کے خواب کو پورا کرنے کی خاطر کئے جس میں اسے کافی حد تک کامیابی بھی ملی۔جیساکہ معلوم ہوناچاہئے کہ امریکہ کسی بھی عالمی قوانین کی پاسداری نہیں کرتااور اقوام متحدہ سمیت کئی دیگر عالمی ادارے اس کے کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔امریکہ کا یہ نظریہ ہے کہ پوری دنیا اس کی ملکیت ہے اورعالمی اقوام پر وہ حکومت کرتاہے۔اسی لئے امریکہ وہ واحد ملک ہے جس کے ہاں خارجہ امور کیلئے وزیر خارجہ نہیں ہوتابلکہ اسے سیکریٹری آف سٹیٹ کانام دیاگیاہے،یعنی دنیا بھر کی ریاستوں کا سیکریٹری۔امریکہ نے دنیا بھر میں اپنے فوجی اڈے قائم کررکھے ہیں اور ہر ایک خطے میں ایک فوجی جنرل کو تعینات کیاہواہے جو کئی ممالک پر ایک گورنر کی مانند ہوتاہے۔
امریکہ صرف ایک ملک کی حکومت نہیں بلکہ عالمی ایمپائر بنناچاہتاہے مگر اس کی راہ میں ایک رکاوٹ ایران ہے جس نے انقلاب برپا ہونے کے ساتھ ہی امریکی تسلط پسندی کو مستر د کردیا اور اسے سپر پاور تسلیم کرنے کے بجائے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو سپر پاور قراردیا۔یہ بات امریکہ کو گوارانہ ہوئی اوراس نے ایران میں انقلاب کو کچلنے اور نظام حکومت تبدیل کرنے کیلئے پہلے تو صدام کوحمایت دے کرعراق اورایران میں جنگ کروائی لیکن جب روس سمیت پوری دنیا کی فوجی و سیاسی حمایت کے باوجود بھی صدام کو پسپا ہوناپڑاتوپھر ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے ظالمانہ پابندیوں کا سلسلہ شروع کیاگیاجو آج اپنے عروج پر ہے۔ٹرمپ کی صورت میں ایک غیر مستقل مزاج صدر کے وائٹ ہائوس میں آنے کے بعد ایران کا قافیہ حیات تنگ کرنے کی کوششوں میں تیزی لائی گئی اور پابندیوں کی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔نیوکلیئرمعاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کردیاگیاہے اور پابندیوں کا نیا سلسلہ چل پڑا۔حتیٰ کہ ایرانی تیل کی برآمدات کوصفر درجہ پہ لیجانے کے منصوبے پر کام شروع کیاگیا اور دنیا کے لگ بھگ سبھی ممالک نے امریکہ کو اس معاملے میں بھرپور ساتھ بھی دیا جن میں سے کچھ نے پابندیوں توکچھ نے تعلقات متاثر ہونے کے ڈر سے ایرانی تیل خریدنے سے صاف انکار کردیا۔
اب ایران نے اگرکسی دوست ملک کو تیل فروخت کرنے کی کوشش بھی کی تو دھونس اور دھمکیوں سے کام لیاگیااور یہاں تک ڈرایاگیاکہ ایران کے تیل ٹینکروں کو آگے جانے ہی نہیں دیاجائے گا۔امریکی کی یہ دھمکی واقعی ایران کی خود مختاری اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کی برقراری کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا اور دنیا کی نظریں ایران پر تھیں کہ امریکہ کے خلاف اس کا جوابی اقدام کیاہوگا؟۔کیا وہ ہار مان جائے گااور اپنے تیل کے ٹینکروں کو کسی بھی ملک بھیجنے سے گریز کرے گایاپھر ٹینکر روانہ کرکے امریکہ سے جنگ کا خطرہ مول لے گا۔تاہم ہر بار کی طرح اس بار بھی ایران نے امریکی حاکمیت تسلیم کرنے کے بجائے اپنی جائز تجارت شروع کرنے کافیصلہ لیا اور بغیر کسی خوف و ڈر کے لگ بھگ دوماہ قبل اپنے تیل کے ٹینکر جغرافیائی طور پر امریکہ کے نزدیک واقع ملک وینزویلا کی طرف روانہ کردیئے جوخود امریکی ناکہ بندی کاشکار ہے۔اس بیچ امریکی صدر سمیت عہدیداروں کی طرف سے ٹینکروں کو سمندری راستے میں روکنے یا انہیں نقصان پہنچانے کی دھمکیوں میں تیزی آئی مگر ایران نے انکی پرواہ نہ کرتے ہوئے کسی بھی مہم جوئی کا سخت جواب دینے کا انتباہ دیا۔نتیجہ کے طور پر امریکہ کو پسپا ہوناپڑااور اس نے ایران کے تیل ٹینکروں کی راہ میں رکاوٹ بننے سے گریز کیاکیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر اس نے کوئی ایسا فعل انجام دیاتو یقینی طورپر اس کا رد عمل سامنے آئے گا۔ایران کا وینزویلا ٹینکر بھیجنا صرف ایک تجارتی عمل نہیں تھابلکہ یہ عزت نفس کا مسئلہ بھی بن گیاتھااورایران نے وہی کام کیا جواس کا اخلاقی فریضہ تھا۔امریکہ کا ایرانی تیل ٹینکروں کونہ روکنا بھی اس کی شکست ہے اور اگر وہ ایسی کوئی کارروائی کرتا توبھی یہ اس کی اخلاقی پستی شمار ہوتی جس کا یقینی طور پر ایران کی طرف سے بحر عمان یا خلیج فارس میں سخت جواب دیاجائے گاجہاں ایرانی بحریہ امریکہ کے خلاف مضبوط پوزیشن میں ہے۔
امریکہ نے ایران کوگھیرنے کیلئے اس کے چاروں اطراف اپنے بری و بحری فوجی اڈے بنارکھے ہیں تاکہ اسے اپنے ہی ملک کی سرحدوں کے اندر قید کیاجاسکے لیکن مزاحمتی قیادت نے امریکی تسلط پسندی کے خلاف اپنے پائوں صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ امریکی براعظم تک پھیلاکر یہ ثابت کردیاہے کہ متکبرقوتوں سے انہی کی زبان میں بات کی جاتی ہے۔ایرانی تیل پر عائد پابندی کاتعطل ٹوٹ جانے پر امریکہ تلملا اٹھاہے اوراس نے مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیاہے جس کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ آنیوالے وقت میں ایران کے خلاف امریکی اقدامات میں مزید تیزی آئے گی اوررہے سہے تمام تر غیر اخلاقی ہتھکنڈے بھی اپنائے جائیں گے لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ وہ ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگااورہر حال میں ہر ایک میدان میں اسے شکست ہوگی۔گوکہ ایران کی معاشی حالت اس وقت کافی کمزور ہے اور کورونا وائرس نے اسے مزید دھچکا پہنچایاہے مگرماضی کی طرح یہ پابندیاں بھی خود انحصاری کا جذبہ پیدا کرکے ایران کیلئے سائنس سے لیکر فوجی ترقی کا باعث بنیں گی۔