بنی //طلباء نے ایک بار پھر بنی بسوہلی سڑک کو بیکن کے مقام پر بس کے مطالبہ کو لے کر سڑک کو بند کر کے بنی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی ۔طلباء نے نبی انتظامیہ پر نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا – واضح رہے کہ اس دوران انتظامیہ کی جانب سے ان طلباء کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ طلبہ کے اسکولی بس کے مطالبہ کو جلد ہی حل کیا جائے گا تاہم سوموار کو طلباء نے صبح 9 بجے سے لے کر 12 بجے تک بنی بسوہلی سڑک کو بند رکھا ۔اس دوران اس سڑک پر گاڑیوں کی آمد رفت بھی معطل ہوکر رہ گئی اور عام راہگیروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔اسکولی طلبہ کا مزید کہنا تھا کہ نبی انتظامیہ کے جانب سے اسکولی بچوں کے ساتھ سْوتیلی ماں کی طرح سْلوک کر رہی ہے جب کہ اسکولی بچوں نے گزشتہ ہفتہ بھی دو مرتبہ اسکولی بس کے مطالبے کو لے کر احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ بنی میں گاڑیوں کے ڈرائیور اسکولی بچوں کے ساتھ من مانی کرتے ہیں لیکن طلبہ کو انتظامیہ کے جانب سے یقین دہانی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا اور انہوں نے کہاکہ اگر انتظامیہ ہمارے مطالبات کو جلد از جلد تسلیم نہیں کرتی تو طلباء احتجاج کا گڑا رُخ اختیار کریں گے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ۔