محمد وقار صدیقی
دانش گاہ علم و فن ضلع امروہہ مدت مدید سے علم و ادب کا سر چشمہ رہا ہے ۔یہاں کے علما ء وادبا ء اور شعرا نے اس زرخیز علاقے کی نمائندگی عالمی پیمانے پر کی ہے اور آج بھی یہ خطہ ادب نوازی اور سخن فہمی میں عالمِ ادب پر اپنی فضائے بسیط قائم کئے ہوئے ہے ۔اسی سرزمین پر ایک ایسی عدیم النظیرشخصیت نے جنم لیاجس نے اپنی تربیت یافتہ علاقے کی نمائندگی نہ صرف کسی ایک خطے میں کی بلکہ ہندوستان کی مختلف دانشگاہوں کے طلباء کی علمی تشنگی کو سیراب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ادبی گلستان میں جب قدم رکھا توادبی پروانوں نے موصوف کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور یہاں کی بادِ بہاری کوخزاںرسیدہ چمن کا خوف ہمیشہ کے لئے نیستی کر گیا ۔وہ شخصیت پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی کی ہے ۔جن کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اول حضرت سیدناابو بکر صدیق سے ملتا ہے۔
پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی ہندوستان کی بیشترشہرت یافتہ دانشگاہوںکے ادبی حلقوں کی جھرمٹ میںماہِ کامل بن کر تشنگانِ علم کوسیراب کرتے رہیں۔ ان شہرت یافتہ دانشگاہوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ(نئی دہلی)پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ،اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی نئی دہلی،مرہٹواڑہ یونیورسٹی( اورنگ آباد)جیسی شاہکار دانشگاہوں میں اپنی فکرووفن کے نئے چراغ روشن کئے ہیں۔اس کے بعد موصوف کو یونین پبلک سروس کمیشن سے بھی سرفراز کیا گیا۔اس کے علاوہ سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لیگویجز حکومت ِ ہندکے تحقیقی اور تدریسی ادارے اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سینٹرہماچل پردیش میںدرس وتدریس سے منسلک رہے ۔موصوف کی خدمات یہیں پر تمام نہیں ہوتیں بلکہ سرسید کالج(اورنگ آباد)میںبھی پرنسپل کے عہدے پر مامور ہوکرشعبۂ اردو کے ادبی پروانوں کوشمعِ علم سے مستفیض بھی کیا ہے۔
پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی کوجب سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گلستا نِ ادب کی باغبانی کا شرف حاصل ہوا ہے تب سے اردو نے ایک انقلابی شکل ، منفرد نظریہ، نیا آہنگ ،نئی فکر اور جدید ارتقائے خیال کی بلند پروازی سے آگے اعجازی سفر کی منزلیں بھی طے کی ہیں ۔
اپنے نام کی مناسبت سے ضیائے رحمانی کی جوشعائیں بکھیری ہیں اس سے غنچۂ ادب کی عقدہ کشائی میں لمحوں کی تاخیر بھی نہیں ہوتی ۔کسی بھی ادبی مسئلے کی کیسی بھی پیچید گیاں ہوں ضیاء الرحمن صدیقی اپنی مفکرانہ اور دانشورانہ نظروں سے حال کے ساتھ مستقبل کی نشاندہی بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے صرف اردو ادب کی جہتیں اور مختلف سمتیں متعین ہی نہیں کیں بلکہ ان پر چل کر راہِ مفقود سے منزلِ مقصود پرخیمہ زن ہو کر علم ظفر کو بلند بھی کیا ہے ۔اس طرح کے اوصاف کے واحد مستحق ضیاء الرحمن صدیقی کی ہی شخصیت ہے ۔ ان کے قلم سے نکلنے والے ہر لفظ میں ماضی کی روشنی سے حال کی ترجمانی اور مستقبل کی پیشین گوئی بھی ملتی ہے اور ایسی ہی علمی شخصیتوں پر جاکر ادب کی عمدہ تعمیر بھی ہوتی ہے ۔ بحرالعلوم کا درجہ رکھنے والی اس شخصیت نے تقریباًادب کے ہر اصناف پر اپنی علمی بصیرت کی روشنی ڈالی ہے جس سے ادب کے تاریک گوشوں میں بھی ضیائے رحمانی کی چمک نے مرکزِ ادب کو تابندہ کردیا ہے ۔
ہندوستان کی مختلف زبانوں پر عبور حاصل کرنا اور اس کواپنی زبان کا حصہ بنالینا ایک مشکل کا م ہے ۔مگر موصوف نے اپنی بسیار علمی کی دلیل دیتے ہوئے صرف اس زبان کو ہی نہیں سیکھا بلکہ اس زبان کے ترجمے اپنی زبان میں کرکے اپنی قادرالکلامی کا ثبوت بھی دیا ہے ۔جیسے رسکن بونڈ کی انگریزی کہانیوں کا اردوترجمہ ’’جنم دن ‘‘ کے نام سے کیا ہے اور اس کتاب کی پذیرائی اور اہمیت کا ندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کو ساہتیہ اکادمی نئی دہلی نے شائع کیا اور این سی ای آرٹی (NCERT) نئی دہلی نے اس کو بارہویں جماعت کی درسی کتاب ’ خیابانِ اردو‘ میں بھی شامل کرکے اردو کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ موصوف کی کچھ کتابیں پنجاب یونیورسٹی(چندی گڑھ) اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر مرہٹواڑا یونیورسٹی کے بی اے اور ایم اے کے نصاب میں شامل ہیں۔مذکورہ کتابوں کے نصابوں میں شمولیت کی وجہ سے پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی کی علمی بصیرت کی اہمیت دوبالا ہو جاتی ہے۔
آج کے دور میں جب اردو زبان کو ہر دروازے سے ٹھکرایا جارہا ہو تو ایسے پر آشوب حالات میں اردو کو کسی درسی نصاب میںشامل کراناضیاؤالرحمن صدیقی کی تعین قدر کی اعلیٰ نظیرہے۔انگریزی زبان کے ترجمے کے بعد ’’اردو ہندی ڈکشنری‘‘ ان کی مختلف زبانوں پر قدرتِ کاملہ کی امین ہیں اور اردو کے ساتھ ہندی کو اپنی زندگی کے سفر میں محبوب رکھ کر اردو ادب کی گھنیری زلفوںکی چھاؤں میں ہندی زبان کو محبوب ِاردو کاخوبصورت ترجمان بنایا ہے ۔جہاں سے قاری کو نہ صرف ایک منزل کا راستہ ملتا ہے بلکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق دوسرا راستہ بھی اختیا ر کرسکتا ہے ۔اگر اردو آنکھ ہے تو ہندی اس کی روشنی ہے ان سارے مسائل کو سامنے رکھ کرپروفیسر ضیا ء الرحمن صدیقی نے بڑی حکمت ودانائی سے کا م لیا ہے اورایسے کاموں کے لئے عرصۂ دراز درکار ہوتے ہیں اور یہ وہی شخص انجام دے سکتا ہے جس کو اپنی زندگی سے زیادہ ادبی زندگی عزیزہو ۔
دیکھا جائے تو اردو نثر کی خدمات کا جو فریضہ ادا کیا ہے
اس کے لئے بھی زندگی کا بڑا حصہ صرف کیا ہے ۔مختلف اصنا ف پر اپنی رشحات قلم کو جنبش دینا ہر کس وناکس کی دستِ قدرت سے باہر ہے۔ موصوف کی علمی ادبی ،تحقیقی وتنقیدی مضامین موجودہ دورمیں اپنی طلسمی کاوشوں کے ساتھ کئی مسائل کو حل کرنے کا ہنر بھی رکھتی ہیں۔ بادی النظر میں ان کی نثری خدمات کی کاوشیں کچھ اس طرح اپنی معنویت کا اظہار کراتی ہیں۔
(۱)شہباز امروہوی ،فن اور شخصیت(تحقیق)(۲)ہیون سانگ کا سفرِ ہندوستان(ترجمہ)(۳) معروضات تحقیق وتنقید(۴) تحریکِ آزادی اور اردو نثر(تحقیق)(۵) جنگ آزادی کے مسلم مجاہدین(ترتیب و تحقیق)(۶)جدید اردو ریڈر،اردو رسم الخط(۷)آسان اردو گرامر(۸)جوش کی تیرہ نظمیں (انتخاب)(۹)تحریک آزادی میں اردو صحافت کا حصہ(تحقیق)(۱۰) اقبال سہیل کا فن تحقیق و تنقید(۱۱)دون کا سبزہ(ترجمہ )ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی(۱۲)فریڈم مومنٹ اینڈ اردو پروز(انگیریزی زبان میں)(۱۳)اردو کافاصلاتی نظام ِ تعلیم۔۔۔تخلیق کار پبلشرز نئی دہلی(۱۴)شہیدانِ جنگِ آزادی(۱۵)اسالیب فکر ۔۔۔تخلیق کار پبلشرز نئی دہلی(۱۶)بنگالی کہانیاں (ترجمہ) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ(۱۷)اردو ادب کی تاریخ۔۔۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ نئی دہلی(۱۸)جنم دن (ترجمہ) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(۱۹) اردو ہندی ڈکشنری علی گڑھ(۲۰) زیر طبع کتابوں میں دہلی کے اردو ادارے ارمغان تحقیق شامل ہے۔ اپنی مصروفیات کے سبب اتنی کتابوں کواپنی قلم کی روشنائی سے ادب کی سنگلاخ وادیوں کوسبزو شاداب کرنا جوئے شیر لانے جیسا ہے اور کوہکنی کایہ ہنر اپنے اندر پیدا کر کے اس کو انجام تک پہونچانا پروفیسر ضیا ء الرحمن صدیقی کی اعلیٰ صفات میں شامل ہیں۔ان کی تحریریں پرلطف اور دلآویز ہیں ان کے یہاںہر جگہ بلکہ ہر لفظ میںتازگی اور نئے پن کا احساس ہوتا ہے ۔ان کی تحریریں سادگی کاپیکر ہیںان کی تحریروں کا مطالعہ کرنے سے معنویت اورعلامت کی کئی تہیں منکشف ہوتی ہیں جو اپنی اپنی انفرادی معانی بھی بیان کرتی ہیں۔
زمانے کے اعتبار سے اپنی تحریروں میں شفافیت اور نظافت کاپورا خیال رکھا ہے۔ کہیں بھی تعقیدی یا غیر مانوس لفظوں کوبالکل استعمال نہیںکیا ہے جس سے صحت متن مجروح ہو جائے اور تحریر کا لطف جاتا رہے، جس طرح سے شاہ حاتم نے جب ایہام سے اجتناب کیا تو تازہ گوئی کو رواج بخشاجس سے شعر کی جمالیات اور حسنِ معنی میں ندرت پیدا ہوگئی ،بالکل اسی روایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے نثر میں تازہ گوئی کی روایتوں کو زندگی دی ہے ۔ان کی نثرمیں پانی جیسا بہاؤ تسلسل اور تواتر ہے۔کہیں بھی لکنتِ زبان کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ان کی نثری تحریرکا ایک اقتباس ’’جنم دن ‘‘سے دیکھئے جوسادگی وسلاست کی بہترین عکاس ہے:
’’میں نے اسے یقین دلایا کہ میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔میں پیپل کے پیڑ کے نیچے اکیلے سوجاتا ۔رات کو بپن میرے پاس آکر لیٹ جاتا اور ہم دونوں اس طرح رہتے رہے ۔ وہ اپنے وعدے پر قائم رہا ۔ میرے پاس پیسے آنے شروع ہو گئے اور اتنے پیسے آگئے کہ میں نے بہت سی زمین اور مویشی خرید لئے لیکن اس راز کا کسی کو پتہ نہیں تھا ۔ ظاہر ہے کہ میرے دوستوں اور رشتہ داروں کو حیرت تھی کی میرے پاس اتنا پیسہ اچانک کہاں سے آگیا۔ادھر میری بیوی بھی کچھ مایوس تھی کہ رات میں،میں اس سے الگ کیوں سوتا ہوں ۔ اس لئے کہ میں اپنی بیوی کو ایک بھوت کے ساتھ نہیں سلا سکتا تھا۔ بپن پابندی سے میرے ساتھ سوتا تھا۔ پہلے تو میں نے اپنی بیوی سے یہ بہانا کیا کہ رات کو مویشیوں کی دیکھ بھال کے لئے انہیں کے ساتھ سونا پڑتا ہے ۔ لیکن حقیقت میں مویشی خانے میں تو میںبپن کے سوتا تھا۔‘‘ ۱؎ (جنم دن ،ص۵۸ (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
[email protected]>