نئی دہلی//زمینی ٹرانسپورٹ و شاہرائوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری اور مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے 2نو منظور شدہ شاہراہوں یعنی کہ 170 کلو میٹر بسوہلی۔ بھدرواہ۔ڈوڈہ شاہراہ بمع ٹنل اور ٹھاٹھری کالجگاسرکلہوتراںمنکن،چھچھول سے ہماچل پردیش شاہراہ بذریعہ ٹنل کی پیش رفت پر غور کیا جس سے سابقہ ضلع ڈوڈہ کو رابطہ فراہم ہو گا اورمرکزی و ریاستی حُکام پر ان دو اہم پروجیکٹوں پر کام میں سرعت لانے کو کہا۔اجلاس میں ایم ایل اے بھدرواہ دلیپ سنگھ پریہار بھی موجود تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ3500 کروڑ روپے کی لاگت والی بسوہلی۔بھدرواہ۔ڈوڈہ شاہراہ کو گذشتہ سال مرکزی سرکار نے ہری جھنڈی دی تھی۔ 6.2 کلو میٹر لمبی چھتر گلہ ٹنل کی تعمیر سے ڈوڈہ سے بسوہلی اور لکھن پور کے درمیان 26 کلو میٹرمسافت کم ہوجائے گی جس سے سفر میں دو گھنٹے کی بچت ہوگی،اتنا ہی نہیں بلکہ چھترگلہ ٹنل سے ہر موسم میں چلنے والی شاہراہ کے علاوہ متبادل شاہراہ بھی مہیا ہوگا۔دوسری قومی شاہراہ ٹھاٹھری۔ کالجگاسرکلہوتراںمنکن،چھچھول سے ہماچل پردیش شاہراہ کو سال رواں میں ہولی کے تہوار کے موقعہ پر ہری جھنڈی دی گئی تھی ،جس کا پورا خرچہ مرکزی سرکار برداشت کرے گی اور یہ شاہراہ ڈوڈہ اور ہماچل پردیش کے درمیان ایک آسان رابطہ ہوگا۔گڈکری نے ڈاکٹر جیتندر سنگھ کو یقین دلایا کہ وہ ان دو شاہرائوں کی بر وقت تکمیل میں مکمل تعاون دیں گے،جو نہ صرف ریاست کے لئے منفرد شاہراہیں ہونگی بلکہ ملک کے لئے بھی۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے لئے دیگر شاہرائوںبشمول زوجیلا درے پروجیکٹ کو بھجی ہری جھنڈی دی گئی ہے اور عنقریب ہی اس پر کام شروع ہوگا۔ڈاکٹر جیتندر سنگھ نیتن گڈکری کا ریاست میں نئی سڑکوں کی تعمیر کے لئے معاونت کرنے اور تعاون دینے کی سراہنا کی۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ حلقہ کے لئے سنٹرل روڈ فنڈذ اور پی ایم جی ایس وائی سڑکوںکی روکاوٹوں کو دور کیا گیا ہے تاہم سابقہ ضلع ڈوڈہ کی بیشتر سڑکوں کے لئے81 کروڑ روپے مالیت کے سنٹرل فنڈز کو واگُذار کرنے کے لئے تحریری طور مطالبہ پیش کیا گیا ۔