مہور//ضلع ریاسی میں بجلی کا نظام کچھ اس طرح سے ہے کہ بجلی کی ترسیلی تاریں کھمبوں کے بجائے پیڑوں کے ساتھ لگائی ہوئی ہیں۔لوگوں کے مطابق محکمہ بجلی کے اعلیٰ ا فسران تک یہ بات پہنچائی گئی لیکن پھر بھی محکمہ کو ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ضلع کے الگ الگ مقامات سے اس طرح کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔اگر یہاں جمسلان،چچی،سجرو،ہاڑی والہ سے بجلی کے نظام کو دیکھا جائے تو یہ پوری طرح سے متاثر ہے۔ان علاقاجات سے لوگوں کو بجلی کو لے سب سے زیادہ مشکل صرف یہ ہے محکمہ کی جانب سے بجلی کی تاریں پیڑوں پر لگائی ہوئی ہے جو سخت افسوس ناک ہے کیوں کہ اس سے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔یہاں چچی جمسلان کے لوگوں نے کشمیر اعظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے اپنے پیسوں سے تاریں خریدیں ہیں اور اپنے پول لگائے ہوئے ہیں لیکن محکمہ پھر بھی ان سے کرایہ وصول کرتا ہے ان لوگوں کا محکمہ سے سوال ہے اگر وہ لکڑی کے کھمبے اور تاریں اپنے پیسوں سے خریدتے ہے لیکن پھر محکمہ کیوں کرایہ لیتا ہے۔ لوگوں کا مزید کہنا ہے اگر چہ محکمہ کی طرف سے کھنمبے آتے ہیں لیکن وہ غریب عوام کے بجائے با رسوخ لوگوں کو دئے جاتے ہے۔اسی طرح بٹھوئی،بگا گنڈی اور تحصیل چسانہ میں لوگ اس طرح کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔بجلی کے کھمبوں کو لے کر پہلے بھی لوگوں نے مہور کے الگ الگ مقامات پر مظاہرے کئے۔لوگوں کا کہنا ہے محکمہ بجلی کی اس لاپرواہی سے کئی انسانوں کی قمیتی جانیں ضائع ہونے کا امکان ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کچھ ماہ قبل سجرو میں ایک حادثہ پیش آیا تھا جس میں نو عمر بچے کی موت واقع ہوئی تھی جو کی بجلی کی تار پیڑ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی جس کے چھو جانے سے اس کی موت ہوگئی تھی۔اسی طرح ایک اور حادثہ ساڑھ میں پیش آیا تھا۔