بانہال // تقریباً تین مہینے تک سردیوں کی چھٹیوں کیلئے بند رہنے کے بعد تمام تعلیمی اداروں دوبارہ کھولے جا چکے ہیں اور پچھلے سالوں کی طرح اس تعلیمی سیشن کے شروع ہونے کے بعد بھی سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم غریب بچوں اور اساتذہ کی مشکلات جوں کی توں ہیں اور سٹاف اور سکولی عمارتوں کی کمی اور دیگر مسائل پچھلے کئی سالوں کی طرح اس سال بھی سر اٹھائے کھڑے ہیں اور حکام سے نظام تعلیم کے معاملات حل کرنے کی دہائی دے رہے ہیں۔ ضلع رام بن کے کھڑی تعلیمی زون کا علاقہ بھاری برفباری کی وجہ سے باقی دنیا سے کئی کئی ماہ تک منقطع رہتا ہے اور اس زون کے پہاڑوں پر قائم درجنوں سرکاری سکولوں میں نظام تعلیم آخری ہچکولے لے رہا ہے۔ اس تعلیمی زون میں سرکاری سکولوں میں اساتذہ اور سکولی عمارتوں کی کمی نے غریب بچوں سے بھرے پڑے سکولوں کا حال بے حال کرکے رکھا ہے اور یہ سلسلہ بہتر ہونے کے بجائے دن بہ دن مزید خراب ہورہا ہے۔ پورے تعلیمی زون میں رہبر تعلیم ٹیچر تعینات ہیں اور ماسٹروں اور ٹیچروں کی ایک سو کے قریب اسامیاں خالی پڑی ہیں۔تعلیمی زون کھڑی کے پرائمری سکول بڑ درمن ، منگت میں 75 بچے زیر تعلیم ہیں جن میں تیس لڑکیاں شامل ہیں۔ اس سکول میں محض ایک رہبر تعلیم ٹیچر تعینات ہے اور ایک اسامی برسوں سے خالی پڑی ہے جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں دو اسامیاں موجود ہیں لیکن سکول کے قیام سے ابتک یہاں ایک ہی ٹیچر تعینات ہے جبکہ سکول میں نسار احمد نامی ایک پرائیویٹ ٹیچر کو سیزنل بنیادوں پر تین چار مہینے کیلئے تعینات کیا جاتاہے جبکہ مستقل آسامی مسلسل خالی پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کی چھت پچھلے سال کی برفباری میں بھی دب گئی تھی اور مقامی لوگوں نے اسے خود ٹھیک کیا تھا لیکن اس سال کی برفباری کی وجہ سے چھت کو ا یک بار پھر زبردست نقصان پہنچا ہے اور دو کمروں کی یہ سکول عمارت یہاں زیر تعلیم بچوں کیلئے غیر محفوظ اور ناقابل استعمال بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف سے چھت اندر کی طرف مکمل طور دھنس گئی ہے اور اس کے نیچے بچوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کھلنے کے بعد بچوں کو پرائمری سکول بڑ درمن کے نزدیکی ایک مکان کی چھت پر تعلیم دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کا پانی سکول کے اندر اتا ہے اور نظام تعلیم کا سلسلہ سکول کھلنے کے بعد سے ابتک کئی بار باشوں کے دوران منقطع رہا ہے۔ انہوں نے تعلیمی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ کھڑی ، مہو منگت کے علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں پچھلی دو دہائیوں سے تباہ حال نظام تعلیم کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات کریں تاکہ یہاں زیر تعلیم ہزاروں غریب بچوں کے مستقبل کو محکمہ تعلیم کی لاپرواہی، اساتذہ اور سکولی عمارتوں کی کمی کی وجہ سے قربان نہ کیا جائے۔اس سلسلے میں زونل ایجوکیشن افسر کھڑی محمد امین ڈینگ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کھڑی زون میں 2014 کے سیلاب سے اب تک تین درجن سے زائد سکولی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور پچھلے سال اور اس سال کی برفباری اور تیز ہوا کی وجہ سے ایک دس سرکاری سکولوں کی چھتوں کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کھڑی زون میں قائم 105 پرا ئمری ، مڈل اور ہائی سکولوں میں ماسٹروں اور ٹیچروں کی 80 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال اپ گریڈ کئے گئے مڈل سکول منڈکباس اور مڈل سکول ڈب وگن میں دو ، دو ٹیچر ہی تعینات ہیں جس کی وجہ سے بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھڑی زون میں سٹاف کی شدید قلت اور سکولی عمارتوں کو پہنچے نقصانات کی اطلاعات اعلی حکام کی نوٹس میں ہے لیکن ابھی تک سٹاف کی کمی کو پورا کرنے اور سکولی عمارتوں کی تجدید مرمت کی طرف کوئی کارروائی محکمہ کی طرف سے عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو اضافی بوجھ کا سامنا ہے اور بچوں کے ساتھ بھی انصاف نہیں ہوپارہا ہے۔