بانہال // ضلع رام بن کے تعلیمی زون بانہال ، کھڑ ی، اکڑال پوگل پرستان ، گول ، رام بن اور بٹوت کے درجنوں دیہی علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں نظام تعلیم کی ابتر صورتحال نے ہزاروں غریب بچوں کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان لگائے دیئے ہیں اور سرکاری دعووں کے باوجود دو دہائیوں سے بگڑے نظام تعلیم میں سدھار کے آثار مستقبل قریب میں بھی بہت ہی کم دکھائی دے رہے ہیں۔ اساتذہ اور سکولی عمارتوں کی کمی کی وجہ سے ہزارون بچوں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا ہے۔ سابقہ ضلع ڈوڈہ سے سنہ 2007 عیسوی میں الگ کرکے بنائے گئے پہاڑی ضلع رام بن میں 21 ہائر سیکنڈری اور 68 ہائی سکولوں کے علاوہ 872 دیگر سرکاری سکولوں میں ساٹھ ہزار سے زائید طالب علموں نے اب تک داخلہ لے رکھا ہے۔رام بن ضلع میں سرکاری طور جاری کئے گئے تدریسی عملے کی کمی کے اعداد و شمار انتہائی چونکا دینے والے ہیں اور لیکچراروں کی 50 فیصدی جبکہ ماسٹروں کی ستر فیصدی اسامیاں مسلسل خالی ہیں جبکہ انتظامی افسروں اور کلرکل سٹاف کی آسامیاں بھی نا کے برابر ہے۔اس کے علاوہ سرکاری سکولی عمارتوں کی خستہ حالی نے نظام تعلیم کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔رام بن کے سلدھار علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں قائم پرائمری سکول سلدھار سرکاری عدم توجہی کا شکار ہے اور سکول کی خستہ حالی سے سے والدین ، اساتذہ اور سکولی بچے پریشان ہیں۔ مقامی سماجی کارکن ریشی گوریا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پرائمری سکول سلدھار وارڈ نمبر چار کی عمارت بہت پرانی ہے اور بارشوں کا پانی ٹپکنے کی وجہ سے اب اس کی حالت مزید خستہ حال ہوئی ہے اور سکولی دیواروں کا سارا پلسٹر اکھڑ چکا ہے ، سکول کی چھت اور کھڑکی اور شیشے ٹوٹ کر ختم ہوچکے ہیں اوربارشوں کے پانی سے سکول کے در و بام کمزور ہوگئے ہیں مگر محکمہ تعلیم چپی سادھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام بن کے دور دراز کے علاقوں میں آباد لوگوں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے اور یہاں زیر تعلیم بچوں کا نظام تعلیم متاثر ہے اور عمارت کی حالت سے بچوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الالسلام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرائمری سکول سلدھار کی تجدید و مرمت کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں اور محکمہ تعلیم رام بن کو پرائمری سکول سلدھار کی عمارت کو فوری طور پر تعمیر کرنے کے احکامات دیئے جائیں تاکہ غریب بچوں کا تعلیم سلسلہ بھی جاری رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ضلع رام بن میں نظام تعلیم تباہ حال ہوا ہے اور ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں خواب غفلت میں سوئے ہوئے ہیں اور سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں غریب بچوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔