صداقت اور راست بازی صحافت کی وہ بنیادی خصوصیات ہیں جو معاشرے میں اس کی اہمیت کے غماز ہیں۔ صحافت انسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے۔ عوام کے جذبات اور احساسات کی پیامبر ہوتی ہے۔ صحا فت کا شعبہ زندگی کے تمام شعبوں سے نہ صرف یکسر مختلف بلکہ انتہائی اہم بھی ہے۔ صحا فت کے ذریعے کوئی بھی صحافی معاشرتی، سماجی، معاشی برائیوں کا خاتمہ اور کرپشن کو بے نقاب کرتا ہے، حق کا ساتھ دیتے ہوئے باطل کو غلط ثابت کرتا ہے۔ صحافی ایک مقصد کیلئے لڑتے ہیں پیسے کیلئے نہیں۔
صحافی کسی مخصوص جماعت، فرقے، قبیلے اور قوم کا نہیں بلکہ ہمیشہ جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر لکھتا ہے یا تجزیہ کرتا ہے لیکن آج کل صحافت کا پیشہ کسی حد تک اب غیر جانبدار نہیں رہا ہے ۔اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ صحافی جانبداری اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے حقائق کو بری طرح مسخ کر کے سامنے لاتے ہیں اور لوگوں میں نفرتوں کا بیج بونے کی کوشش کرتے ہیں۔ عرف عام میں ایسے صحافیوں کو زرد صحافت یا لفافہ صحافت کا علم بردار کہا جاتا ہے۔اس وقت فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں صحافی مرد مجاہد بن کر میدان میں اترے ہیں اور صحافتی خدمات انجام دینے کا دعویٰ کررہے ہیں۔
21ویں صدی میں میڈیا کی آزادی یا پھر اپنے جذبات اور احساسات کو دوسروں تک پہنچنا نے کا یہ طریقہ برا ہے یا اچھا یہ بات اپنی جگہ تاہم آزادی صحافت کی آڑ میں توہین آمیز اور اخلاقیات کے خلاف بیان بازی نے معاشرے کو بے حس کر دیا ہے۔اسے ہم صلاحیت کی کمی کہیں یا منفی رویہ، سسٹم کی ناکامی کا نام دیں یا پھر قانون کی کمزوری، جن لوگوں پر صحافت کا بھوت سوار ہے وہ بغیر کسی تعلیم، تجربے اور مشاہدے کے ایک مائیک ہاتھ میں تھامے ہوئے دھڑا دھڑ سوالات پوچھ رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل نے تصویر اتارنے، ویڈیو بنانے ،آواز ریکارڈکرنے اور پھر انہیں لوگوں تک پہنچانے کی سہولت مہیا کی لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بچے، جوان،لڑکے اور لڑکیاں اپنی زندگی کا اصل اور بنیادی مقصد چھوڑ کر اس کے دیوانے ہو جائیں۔
آج کے اس برق رفتار عہد میں صحافت کی اہمیت و افادیت سے کسی بھی صورت میں انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور حساس پیشہ ہے اور صحافی کا معاشرے میں ایک اہم کردار ہوتا ہے جو معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں اور خرابیوں کے علاوہ ظلم و ناانصافی کو اپنے قلم کے ذریعے اجاگر کرتا ہے ، معاشرے کی اصلاح کرتا ہے اور پسے ہوئے طبقات کی آواز ہوتا ہے۔
میڈیا کو جو حیثیت حاصل ہے وہ انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔ اسے جمہوریت کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں میڈیا کی اس بھر مار نے صحا فت جیسے حساس موضوع کو مزید نازک بنایا ہے ۔ سوشل میڈیا پر صحا فتی یلغار نے تمیز ہی ختم کر دی ہے ۔ بریکینگ نیوز کے چکر میں تمام تر اخلاقی، مذہبی اور روایتی اقدار پامال ہو رہی ہیں۔ صحافت سے بے خبر ’صحافی‘ صحا فتی انداز سے سوالات پوچھنے والے عام لوگوں سے کسی قسم کے اوٹ پٹانگ اور غیر مہذب سوالات پوچھ کر انسان، انسانیت اور اخلاقیا ت کا جنازہ نکال رہے ہیں، موبائل فون کے اندر لگے ہوئے کیمرے کسی بھی لمحے کو کسی کیلئے حسین اور کسی کیلئے اذیت ناک اور تباہ کن بنا رہے ہیں۔ کچھ لوگ صحافتی اقدار کو پامال کرتے ہوئے ویڈیوز میں ایڈیٹنگ کرکے اخلاق سوزانداز میں بزرگوں، خواتین اور مذہبی و سیاسی رہنمائوں سمیت معاشرے کے دوسرے لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ایسے میں صحافت دوسروں کا مذاق اڑانے کیلئے آلہ بن گیا ہے جس میں استحصال کرنا اب ایک فن بن چکا ہے۔
جدید دور میں صحافت مکمل طور پر نیا رخ اختیار کرچکی ہے۔ عوام کا بڑے پیمانے پر خبروں کے حصول کے لئے صحافت پر اعتماد اس کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اب ا خباروں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ،ٹیلی ویڑن اور ریڈیو بھی عوامی مواصلاحات کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں ذرائع ابلاغ نے جس تیزی سے ترقی کی ہے، شاید ہی کسی اور شعبے میں اتنی تیزی دیکھی گئی ہو۔ اب میڈیا ایک صنعت بن چکا ہے، جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہر چیز کا استعمال مثبت بھی ہوتا ہے اور منفی بھی۔ یہ تو استعمال کرنے والے پر ہے کہ وہ اس چیز کا صحیح استعمال کر رہا ہے کہ غلط؟بالکل اسی طرح میڈیا بھی بذات خود اچھی چیز ہے جس سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور بروقت معلومات ملتی ہیں لیکن کچھ عوامل نے صرف اور صرف اس کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ چاہے وہ بحیثیت مجموعی ابلاغی ادارہ ہو یا پھر کوئی صحافی ، جس نے کمائی کو ہی اولین مقصد سمجھا ہے، وہ پھر قوم کا فائدہ نہیں دیکھتا ہے۔
اب چونکہ بلیک میلنگ میں تو طرح طرح کے خطرات بھی موجود ہوتے ہیں اسلئے ہمارے بہت سارے’’ذہین‘‘ صحافیوں اور لکھاریوں نے بھی سیاست سیکھ لی ہے ۔ وہ صرف اور صرف بڑے بڑے کاروباری اشخاص ، نامی گرامی سیاستدانوں اور سرکاری عہدیداروں کے ساتھ اٹھنابیٹھنا پسند کرتے ہیں کہ ایک تیر سے دو شکار یعنی نہ تو جان کی فکر اور نہ ہی فکرِ معاش۔ ایک کہاوت مشہور ہے کہ ’’ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنایا جا سکتا ہے‘‘ تو یقیناً بہت سارے بڑے لوگ یہی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ نہ تو ضرورتیں پوری ہونی ہیں اور نہ ہی گدھوں نے ختم ہونا ہے۔ یہاں پیسوں سے کچھ بھی حاصل کیا سکتا ہے، اپنی تعریف سے لے کر دوسروں کے سکینڈل بے نقاب کرنے تک ہر قسم کا کام باآسانی اور کم قیمت پر کرایا جا سکتا ہے۔اس اندھے پن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب صحافت کو ایک معزز پیشہ نہیں سمجھا جاتا ہے بلکہ صحافی کا نام سننے کے ساتھ ہی عام آدمی کے ذہن میں پہلا خیال یہی آتاہے کہ اس کے پاس ’’بڑا مال‘‘ ہو گا۔ یعنی کہ اب صحافت کو صرف اور صرف کمائی کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ ہر نوجوان خواہ لڑکی ہو یا لڑکا، میڈیا کی رعنائیوں سے اس قدر متاثر ہے کہ اسے نہ تو اپنے پیسے کی فکر ہے اور نہ ہی اپنی عزت کی، اسے فکر ہے تو صرف اور صرف ٹی وی اسکرین کی زینت بننے کی چاہے اسے جو بھی قربانی دینی پڑے۔اس پیشہ سے جڑے کچھ ہی افراد ہوں گے جو اس کی روح کوسمجھ پارہے ہیں۔
ماضی کے مقابلے میں اب بروقت خبروں کی ترسیل نے صحافت کا معیار کافی بلند کردیا ہے جو تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ دوسرا پہلو ہمیں بتاتا ہے کہ اخبارات کے صفحات اور ٹی وی چینلوںسے سنجیدگی و متانت رخصت ہو رہی ہے۔ صحافت کے میدان میں اخبارنویسوں کی ایسی فوج داخل ہوگئی جو اپنی معلومات کے بیجا مظاہرے یاخود کو مقبول بنانے کی کوشش میں سنسنی خیزی ہی نہیں کردار کشی تک اُتر آتے ہیں۔ و ہ سیاہ کو سفید اور سفید کوسیاہ بناکر پیش کرنے میں بھی یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے واضح مثال تحقیقاتی صحافت ہے جس کو اپناکر افراد کی نجی زندگی میں جھانکا جارہا ہے اور ان کے خانگی معاملات کو بڑھا چڑھاکر اخبارات یا ٹیلی ویژن چینلوںکی زینت بنا یاجارہا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ ہمارا معاشرہ آج جن اعلیٰ اقدار پر ناز کرتا ہے ان میں سے بیشتر قدروں کیلئے بھی صحافیوں نے ہی سب سے پہلے آواز اٹھائی اور ان کو سماج میں اعتبار سے ہم کنار کرنے کیلئے قربانیاں دی ہیں ، لیکن آج صحافیوں میں ایسے عناصر کا غلبہ ہورہا ہے جو اپنے قلم یا مائیک کی طاقت قوم کی تعمیر اور اخلاق سنوارنے کے بجائے انہیں نقصان پہنچانے میں صرف کررہے ہیں ، لہذا ضرورت ہے کہ آج کے صحافی کو یہ یاد دلایا جائے کہ وہ سماج کا سب سے ذمہ دار فرد ہے ، اس کا قلم بکاؤ نہیں ہونا چاہئے، اسے ہر حال میں اپنے قلم کے ہتھیار کا دیانت داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ اسی طرح وہ تعمیرانسانیت میں اپنی گوناگوں خدمات انجام دے سکتا ہے۔