ڈاکٹر عریف جامعی
دنیا میں انسانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس مخمصے کا شکار رہی ہے کہ عالم رنگ و بو کو کیونکر حقیقت اعلیٰ کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف انسانوں کی ایک وافر تعداد نے مادے کو دھوکہ یا ’’مایا‘‘ سمجھ کر صرف شعور کو اصل حقیقت تسلیم کیا، جبکہ انسانیت کی ایک جماعت نے مادے کو ہی سب کچھ جان کر شعور کی حقیقت سے انکار کیا۔ ظاہر ہے کہ مادہ بالفعل موجود ہونے کی وجہ سے اولالذکر گروہ کو اس تاویل سے کام چلانا پڑا کہ مادہ فقط شعور کا پیراہن ہے۔ اسی طرح آخرالذکر جماعت کو اس بات پر تکیہ کرنا پڑا کہ حقیقت مان لینے کی صورت میں بھی شعور اتنا ناپائیدار ہے کہ اسے اظہار کے لئے مادے ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
تاہم دنیا میں ایک ایسا ذہین، فطین اور حساس طبقہ بھی موجود رہا ہے جس نے شعور اور مادے، دونوں کی حقیقت کو مان تو لیا، لیکن ان کی معنویت کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ان کی دوئی کو مرکزی اہمیت دی۔ تاہم ’’دویتا‘‘ (ڈویلزم) کے اس فلسفے کو کشمیر میں کچھ خاص پذیرائی نہیں ملی۔ یہاں پر اس کے برعکس ’’ادویتا‘‘ (مانزم) کا وہ فلسفہ مشہور و مقبول ہوا جس کی ترویج شیومت کے زیر سایہ ہوئی۔ اس کے مطابق شعور (کانشیسنیس) ہی دراصل کائنات کی حقیقت ہے، جبکہ مادہ (جسم) اس لامحدود قوت کو مجسم کرکے مقید اور محدود کرتا ہے۔ فلسفہ نوافلاطونیت (نیوپلوٹنزم) سے ملتی جلتی یہ فکر انسان کی شعوری یا روحانی پرواز اور ترقی میں جسم یا مادہ کو ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھتی رہی ہے۔ اس طرح شعور کی ترقی کے لئے یہ فکر جسم یا مادے سے چھٹکارا حاصل کرنا لازمی قرار دیتی ہے۔
ظاہر ہے کہ شیخ نورالدینؒ نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی اور اس لئے ان کا اس فکر سے متاثر ہونا کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ تاہم ادویتا (مانزم) کی یہ فلسفیانہ روایت ابھینو گپت کے ہاتھوں ایک اعلی جمالیاتی فکر کا رنگ اختیار کرچکی تھی۔ یہ بات بڑی ہی حیران کن ہے کہ صرف ایک صدی کے زمانی بعد کے باوجود کلہن جیسے بڑے مورخ نے اپنی راج ترنگنی میں ابھینو گپت کو جگہ نہیں دی ہے۔ خیر مانزم کا یہی فلسفہ لل دید کے ذریعے عوام میں مقبول ہوا اور صوفیاء کرام کے ہاں رائج مانزم کے ساتھ گھل مل (اوورلیپ کر) گیا۔ لل دید کے کلام (واکھ) میں اس فکر کے وافر اشارے ملتے ہیں۔ ’’اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی‘‘ یا ’’من عرف نفسہ فقد عرف ربہ‘‘ کی طرز پر لل دید فرماتی ہیں:
للی للی کران لالہ وزنووم
یعنی ’’میں نے خود کو آواز دے دے کر (یعنی اپنے اندر جھانک کر) اپنے محبوب کو جگایا (یا اپنی طرف متوجہ کیا یا پایا)۔‘‘
اپنی ذات کا یہ عرفان شاید اس حیرانگی کا برجستہ جواب تھا جس سے لل دید ہوکے آئی تھیں۔ وہ اپنے استاد یا گرو سے پوچھ پوچھ کے تھک ہار چکی تھیں کہ:
گورس پرژھوم ساسہ لٹے
یس نہ کینہ ونان تئمس کیا ناو
یعنی ’’میں نے اپنے گرو سے بار بار پوچھا کہ جس کا کوئی نام نہیں، اسے کیا کہتے ہیں؟‘‘
ایسا لگتا ہے کہ جاہلیہ عرب کے حنفاء کی طرح لل دید ممکت دل کی راجدھانی میں ایک محکم قلعہ تعمیر کرنے کے لئے کسی ماہر کاریگر (ہادی، مرشد) کی تلاش میں بھی تھیں اور معرفت سے پر اپنے دکان دل کے لئے ایک تالے (محافظ) کے لئے بھی سرگرداں تھیں۔ ساتھ ساتھ وہ ایک ایسی پاک و منزہ سمت (ڈائریکشن) کو بھی ڈھونڈ رہی تھیں ،جس کی طرف وہ رُخ کرکے راز و نیاز کرکے عقیدتوں کے پھول نچھاور کرسکے۔ اس لئے وہ فرماتی ہیں:
ہیچو ہآرنجہ پئژیو کان گوم
ابکھ چھان پیوم یتھ رازدانے
منزباگ بازرس قلفہ روس وان گوم
تیرتھ روس پان گوم کس مالہ زانے
یعنی ’’مجھے لکڑی کی کمان کے لئے گھاس کا تیر ملا، قصر کی تعمیر کے لئے ایک نااہل کاریگر ملا، میری حالت بیچ بازار میں بغیر تالے کی دکان کی سی ہوگئی، یہ کوئی نہیں جانتا (یا یہ میں ہی جانتی ہوں) کہ مجھ سے اب سمت سفر کا تعین ہو نہیں پارہا!‘‘
یہی وجہ ہے کہ اپنے ہمعصر مورخین، جیسے جون راج، شری ور اور یودھ بھٹ کے نظرانداز کیے جانے کے باوجود لل دید کو صوفیانہ عقیدتی ادب (ہیوگرافیکل لٹریچر) میں ایک اعلیٰ مقیم حاصل ہوا۔ ان ادباء نے اس بات کو بڑے ہی اعتماد کے ساتھ لل دید کی طرف منسوب کیا کہ انہوں نے میر سید علی ہمدانیؒ کو (حقیقی) مرد تسلیم کیا!
ظاہر ہے کہ شیخ نورالدین رحمتہ اللہ علیہ کشمیر کی روایت زہد کی تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے تھے جہاں ایک طرف مقامی روایت میں ایسی لچک پیدا ہوچکی تھی جس نے اسے ہر دلعزیز بناکر قبول عام عطا کیا تھا، تو دوسری طرف غیر مقامی صوفیاء کرام نے اسلام کی روایت زہد کو متعارف کراکے طبقہ عوام کے لئے بے نفسی (الٹروزم) کے ایسے نمونے رکھے تھے جنہیں ہر کوئی قابل عمل پارہا تھا۔ تاہم طبقہ خواص اس نئی زاہدانہ روایت کو تشکیک کی نظر سے دیکھ رہا تھا اور اس ثقافتی دھچکے (کلچرل شاک) سے نڈھال ہورہا تھا۔ شیخ نورالدین رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت نے اسی دھچکے کے لئے ایک جاذب (شاک ابزاربر) کا کام کیا۔ اس لئے دونوں روایتوں کو ایک دوسرے کے لئے مطابقت پذیر بنانے کے لئے (یا سنکرونائز کرنے کے لئے) شیخ صاحبؒ نے پہلے مقامی زاہدوں (رشیوں) کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں آپ نے مختلف رشیوں کا ذکر کیا ہے۔ زلکا رشی کے بارے میں شیخ ؒ نے فرمایا:
’’دندک ون کے زلکا رشی نے جنگلی جھاڑیوں کے میوے پر زندگی بسر کی۔ وہ ایک پکے عقیدت مند تھے، اس لئے فلاح پائی۔ الہٰی! مجھ پر بھی ایسا ہی کرم فرما۔‘‘
میران رشی کے بارے میں شیخ صاحبؒ فرماتے ہیں:
’’رشی ون کے میران رشی ایک ہزار قمری ماہ تک اس دنیا میں رہے۔ معرفت الہٰی کا فیض پاکر وہ خدا سے جا ملے۔ الہٰی! مجھ پر بھی ایسا ہی فیضان فرما۔‘‘
اسی طرح لل دید کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’پدمان پور (پانپور) کی لل (دید) نے معرفت کا آب حیات خوب نوش کیا۔ وہ ہماری محبوب رہبر ہیں۔ الہی! ہمیں بھی ایسا ہی فیض عطا فرما۔‘‘
معرفت کی اسی قدیم مقامی روایت کے زیر اثر حضرت شیخ نور الدینؒ کچھ مدت کے لئے زندگی سے کنارہ کش ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود شیخ ؒ اپنے ارادے پر ڈٹے رہے اور گوشہ نشین ہوگئے۔ تاہم بہت جلد شیخ ؒ نے یہ محسوس کیا کہ دنیا سے دوری اختیار کرکے کسی حد تک انفرادی نجات کا سامان تو کیا جاسکتا ہے، لیکن اس صورت میں انسان اولاد آدم کو ہر اعتبار سے سسکتا اور بلکتا ہوا چھوڑ کر ایک طرح سے خود غرض بن جاتا ہے۔ یہاں پر یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ بودھمت میں بھی ’’ارہٹ‘‘ اور ’’بودھی ستوا‘‘ کے درمیان یہی فرق بتایا جاتا ہے کہ اولالذکر صرف اپنی نجات کا سامان کرتا ہے، جبکہ آخرالذکر اپنے ساتھ دوسروں کے بیڑے بھی پار لگانے کے لئے تگ و دو کرتا ہے۔ بہرحال شیخ نورالدین رحمتہ اللہ علیہ صوفیاء کرام کے زیر اثر غار سے باہر آتے ہیں اور اپنے ہم وطنوں کو اسلام کا آفاقی روحانی پیغام پہنچانا شروع کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں میر سید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند، میر سید محمد ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حضرت شیخ ؒ کے کلام سے ہمیں صاف دکھتا ہے کہ آپ ترک دنیا کے مرحلے کو خیرباد کہہ رہے ہیں اور ایک بھر پور معاشرتی زندگی کی طرف رخ کررہے ہیں۔ اس ضمن میں شیخ نور الدین ؒ اپنے خلیفہ، بابا نصر سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:
نصر بابہ جنگل کھسن گیم خآمی
مہ دوپ یہ آسہ بڑی عبادت
وچھ تہ یہ آسی بڑی بدنآمی
سر آسی کرنی کنی کتھ
’’اے بابا نصر! میرا جنگل میں جانا ایک خطا تھی۔ ہم نے یہ خیال کیا تھا کہ یہی بڑی عبادت ہے۔ اس سے تو (ایم قسم کی) بدنامی ہی ہوئی۔ (دراصل) ہمیں ایک ہی بات (حقیقت) کی تلاش تھی!‘‘
یہاں پر کم سے کم یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شیخ صاحبؒ کا غار گزیں ہونا اپنے اندر ایک مقصد رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحبؒ نے بے وجہ یا شوقیہ ترک دنیا کی واشگاف الفاظ میں مذمت کی ہے۔ شیخ کا ماننا ہے کہ:
ونن پئنزی تہ واندر آسن
گگر گوپھن پرن واس
یم پانژن وقتن اگہ مل کاسن
نشہ آسن بآژن تمی چھ خاص
مطلب یہ کہ ’’جنگل اصل میں بندروں اور بن مانسوں کا ٹھکانہ ہے۔ اسی طرح بل اور غار چوہوں اور نیولوں کے لئے خاص ہیں۔ خاص (لوگ، انسان) وہ ہیں جو پانچ وقت وضو اور نماز سے اپنا میل (خطائیں) معاف کروائیں اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ زندگی بسر کریں۔‘‘
شیخ نور الدینؒ اپنے زمانے میں زہد کا ایک نمونہ بن کر قدیم اور جدید روایات زہد کا ایک ایسا امتزاج پیش کرتے ہیں کہ عوام اور خواص، دونوں اس نئی روایت کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ اس کو آگے لیجانے کی سعی و جہد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی روایت سے وہ ایک طرف اویس قرنی، منصور الحلاج اور مولانا رومی کا فکر و عمل پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف خلفاء راشدین ؓ کے ساتھ ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے عظیم اخلاق میں سے اس عنصر کو پیش کرتے ہیں جس میں زہد اور بے نفسی ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شیخ رحمتہ اللہ علیہ اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کی کچھ اس انداز سے تشریح و توضیح فرماتے ہیں کہ یہ عقائد ایک عامی اور مفکر، دونوں کے لئے قابل فہم بن جاتے ہیں۔ شیخ ؒ اس طرح زندگی کی ایک ایسی مجموعی (ہولسٹک) تصویر پیش کرتے ہیں کہ نہ صرف شعور اور جسم (مادہ) کی مساوی اہمیت ابھر آتی ہے بلکہ شیخ نور الدینؒ ’’عہد الست‘‘ کا ذکر کرکے زمینی حیات (ٹرسٹیل لائف) آسمانی یا آفاقی حیات (سیلسٹیل لائف) کے ساتھ مل کر حیات اصلی کا ایک تکمیلی خاکہ بھی سامنے لے آتے ہیں۔ حیات کا یہ تصور پیش کرنے میں حضرت شیخ نورالدین رحمتہ اللہ علیہ بیشک اپنے زمانے سے بہت آگے تھے۔ انسان کے تحیر کی کوئی انتہا نہیں رہتی جب شیخ ؒ ایک طرف کامیاب معاشرتی زندگی کا ایک عملی نمونہ پیش فرماتے ہیں اور دوسری طرف ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لئے عوام و خواص میں بیداری پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اپنے اس فکری اور عملی کام کو آگے بڑھانے کے لئے صفت زہد سے سرشار زاہدوں (رشیوں) کی ایک بڑی جمعیت تیار کرتے ہیں۔
(رابطہ 9858471965)
[email protected]