اشرف چراغ
کپوارہ//شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں شدید گرمی اور طویل خشک سالی نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا اور پارہ 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔شدید گرمی، پانی کی قلت اور بارشوں کی عدم موجودگی کے باعث ضلع کے کئی علاقوں میں ندی نالے خشک ہونے لگے ہیں، جبکہ فصلیں بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔ کسانوں کے مطابق مئی اور جون کے دوران دھان کی پنیری لگائی گئی تھی، لیکن بارش نہ ہونے اور آبپاشی کے ذرائع میں کمی کے باعث ہرے بھرے کھیت سوکھ رہے ہیں۔ضلع کے کئی علاقوں میں تالاب، کنویں اور قدرتی چشموں کے پانی میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ماور، کہمیل، ہد، ہایہامہ اور پہرو جیسے معروف نالوں میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے۔خشک سالی نے نہ صرف انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ مویشیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ چارے اور پانی کی کمی کے باعث مال مویشی بھی پریشان ہیں۔علاقہ مکینوں نے حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور بارش کی اشد ضرورت ہے۔ مختلف علاقوں میں رحمتِ باراں کے لیے خصوصی دعاں کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔