میر امتیاز آفریں
کشمیر نہ صرف اپنے دلکش نظاروں، سر سبز و شاداب وادیوں، فلک بوس کوہ ساروں، تیز رفتار و شفاف دریاؤں ، پر بہار و سایہ دار پیڑ پودوں کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے بلکہ ساتھ ہی غیر معمولی اوصاف سے متصف علمی و روحانی شخصیات کے لئے بھی پورے عالم میں اپنی ایک منفرد شان رکھتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیر اعلیٰ پایہ کے ریشیوں، منیوں اور اربابِ علم و ہنر کا ایک گہوارہ رہ چکا ہے۔ غیر معمولی اوصاف سے متصف عبقری شخصیات کی اس کہکشاں میں پندرہویں صدی کی نامور عارفہ اور شاعرہ لل دید اپنی منفرد شان کے ساتھ ضوفشانی کرتی نظر آتی ہے۔ اس کی شخصیت کے ساتھ جڑے حالات و واقعات کشمیری لوک ادب اور اجتماعی لاشعور collective unconscious میں آج بھی ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ کشمیری زبان کے معروف نقاد شفیع شوق کے مطابق لل دید کشمیری شاعری کی بانی( The Founder of Kashmiri Poetry)
تصور کی جاتی ہے اور اس کی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کو اعلیٰ علمی و ادبی حلقوں میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ رچرڈ ٹیمپل، گریئرسن اور فرتھجوف شان جیسی ادب شناس شخصیات نے لل دید کی شاعرانہ صلاحیتوں کی سراہنا کی ہے اور عصر حاضر میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اگرچہ ہمعصر مورخین مثلا ً جون راج، شری در اور یودھ بھٹ نے اپنی تاریخوں میں لل دید کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے لیکن بعد میں آنے والے مورخین نے ان کا ذکر بڑے احترام سے کیا ہے۔ خواجہ اعظم دیدہ مری اسے “عارفہ کاملہ لل مجذوبہ”، بیربل کاچرو “عفیفہ خدا پرست”، اور حسن کھویہامی “بی بی لل عارفہ کاملہ ثانی رابعہ ” جیسے گرانقدر القاب سے یاد کرتے ہیں۔ تاریخ حسن میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں برادریوں کے لوگ لل دید کو خود میں سے مانتے ہیں لیکن درحقیقت وہ خاصانِ خدا میں سے ہے۔بہرحال مسلمانوں کے لئے وہ لل دید یا لل عارفہ ہے تو ہندوؤں کے لئے للیشوری۔ حضرت بابا نصیب الدین غازی ؒ نے نور نامہ میں آپ کی روحانی عظمت کو ظاہر کرتے ہوئے آپ کو مجذوب الحق اور بی بی رابعہ ثانی کے القاب سے یاد کیا ہے۔ کتب تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے محمد یوسف بابا لکھتے ہیں:”نو سال کی عمر میں حضرت عبد الرحمٰن بلبل شاہ ؒ کی خدمت میں اپنے والدین کے ہمراہ آئیں۔ آپؒ اس کو اپنی بچی گردانتے تھے اور اس کی روحانی تربیت فرمائی۔اور آپ نے فرمایا کہ لل دیدی خدا کی مرضی سے عارفاتِ کاملات میں شامل ہوگئی ہے۔” ( محسن کشمیر: ص90)
دیگر تذکرہ نگاروں کے مطابق لل دید اصل میں کشمیری شومت کی پیروکار ایک صوفی شاعرہ تھیں جو اپنے کلام کے ذریعے بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ان کے کلام کو ’واکھ‘ کہا جاتا ہے جس کا لفظی معنی ’تقریر‘ کے ہیں۔ ان کی شاعری کشمیری زبان کی قدیم ترین نمونوں میں سے ہے اور اس وجہ سے کشمیری ادب کی تاریخ میں زبردست اہمیت کی حامل ہے۔ لل دید فنی و تخلیقی لحاظ سے انتہائی باصلاحیت اور پختہ شاعرہ ہیں اور انہوں نے اپنی داخلی کیفیات و واردات کا اظہار انتہائی خوبصورت اور والہانہ انداز میں کیا ہے۔تذکرہ نگاروں کے مطابق لل دید کی پیدائش پندریٹھن میں ہوئی جو سرینگر سے تقریباً نو کلومیٹر دور ہے۔ اس کی شادی بارہ سال کی عمر میں ہوئی لیکن یہ شادی اس کے لئے ناخوشگوار ثابت ہوئی اور اس کے قلب و باطن میں عشقِ حقیقی کی آگ شعلے مارنے لگی ۔کچھ عرصہ تک تو اس نے خفیہ طور پر ایک اضطرابی کیفیت کے ساتھ زندگی بسر کی اور اس کے اس باطنی انقلاب کا علم کسی کو نہ ہوسکا۔ اسی اثنا میں جذبہ الٰہی شدت پکڑتا گیا اور اس نے 24 سال کی عمر میں گھربار چھوڑ دیا اور سماجی و خانگی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو کر صحرائے جنوں کا رخ کیا اور عریان و گریاں، برف و باران میں، کچھ کھائے پئے بغیر اور دلِ بےتاب و چشمِ پُر آب کے ساتھ، بیابانوں میں گھومنے پھرنے لگی۔
لل دید کے بارے میں بہت سے اساطیری نوعیت کے واقعات لوگوں کی زبانوں پر ہیں۔ مثلاً یہ کہ کس طرح اس نے لباس کے عام رواجوں کو نظر انداز کرکے مست ہوکر برسرعام عریاں گھومنے کا انتخاب کیا۔ جزب و مستی میں نیم عریاں گھومنے پھرنے کا خاتمہ اس وقت ہوا جب ان کا سامنا ہمعصر مبلغِ اسلام شاہ ہمدان میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اس لئے برہنہ گھومتی تھیں کیونکہ انہیں پوری زندگی میں صحیح معنوں میں ایک بھی “مرد” دیکھنے کو نہیں ملا حتیٰ کہ آپ کی ملاقات حضرت شاہ ہمدانؒ سے ہوئی۔ نسل در نسل پہنچی ہوئی روایات کے مطابق حضرت شاہ ہمدانؒ پر پہلی نظر پڑتے ہی لل دید پکار اٹھیں کہ “آج میں نے ایک (حقیقی) مرد کو دیکھا ہے” اور شرم سے پلٹ کر بھاگ گئیں۔ قریب ہی ایک نانبائی کی دکان دیکھ کر وہ بھڑکتے ہوئے تندور میں کود کر بظاہر جل کر راکھ ہو گئیں۔ حضرت شاہ ہمدانؒ نے اس کا پیچھا کیا اور دریافت کیا کہ کیا اس طرف کوئی عورت آئی ہے، لیکن نانبائی کی بیوی نے ڈر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ اسی اثناء میں دیکھا گیا کہ لل دید اچانک سبز لباس میں ملبوس تنور سے نکل آئیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ ہمدان کی شخصیت سے انتہائی متاثر ہوکر اس نے اسلام قبول کیا اور اسلامی تصوف میں حضرت رابعہ بصریہؒ کی طرح اعلیٰ مقام و مرتبہ حاصل کیا۔حالانکہ کچھ مورخین جیسے صاحبِ “واقعاتِ کشمیر ” نے شاہ ہمدان اور لل دید کی ملاقات پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔خواجہ محمد اعظم دیدہ مری لکھتے ہیں:” اربابِ تحقیق کے نزدیک حضرت شاہ ہمدانؒ کے ایامِ نزول میں اس کی موجودگی کا قصہ ثابت نہیں ہوا۔” (واقعاتِ کشمیر ترجمہ خواجہ حمید یزدانی ص74)
لیکن کشمیر کے کچھ تذکرہ نگاروں اور نسل در نسل پہنچی ہوئی روایات کے مطابق ان کی نہ صرف آپس میں ملاقات ہوئی بلکہ کچھ روحانی امور کے حوالے سے ان کے درمیان گفت و شنید بھی ہوئی اور لل دید نے شاہ ہمدان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ جیا لال کول لکھتے ہیں:”حضرت امیر کبیر 1380-1379 سے 1386-1385 تک کشمیر میں مقیم رہے۔کہتے ہیں اس عرصے میں لل دید کی ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔” (لل دید: ص35)
لل دید کے اشعار میں صوفیانہ افکار و نظریات جیسے ترکِ دنیا، جزب و مستی، وحدت الوجود، کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے اور وہ بت پرستی، رسم پرستی اور شخصیت پرستی کی کھل کر تنقید کرتی ہے۔ کچھ محققین ان افکار و نظریات کا انتساب ترکا شومت کے ساتھ کرتے ہیں مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دراصل لل دید نے شاہِ ہمدانؒ اور دیگر صوفیاء سے اثر قبول کرتے ہوئے ان افکار و نظریات کو اپنا لیا تھا۔تاریخی تضادات اور اختلافات سے قطع نظر جو بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمعصر ہونے کی وجہ سے ایسا بالکل ممکن ہے کہ ان دو عظیم اساطینِ ولایت کے درمیان ملاقات ہوئی ہو اور انہوں نے روحانی مسائل پر مکالمہ کیا ہو اور لل دید پر بطور خاص ان روحانی مکالمات ( Spiritual Discourses) نے اس قدر گہرے اثرات مرتسم کئے ہوں کہ انہوں نے متاثر ہو کر آغوشِ اسلام میں پناہ لی ہو اور شاید یہی وجہ ہے کہ نسل در نسل منتقل روایات نے اس واقعے کو ریکارڈ کرکے ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا اور اسے آنے والی نسلوں تک بطور امانت پہنچا دیا۔
(بڈگام ،کشمیر([email protected]