مغرب اور دنیائے اسلام کی مخاصمت صدیوں پر محیط ہے۔ اگر ہم صلیبی جنگوں کی دوسو سالہ تاریخ پر ہی نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیائے عیسائیت کا اسلام اور مسلمانوں کے تئیں رویہ خاصا منفی رہا ہے۔ ان جنگوں کی ابتداء بھی متحدہ یورپ نے کی۔ جب صلیبیوں کی مشرق وسطیٰ پر یورش ہوئی تو انہوں تیروتفنگ کی جارحیت کے ساتھ ساتھ اپنے مذہبی تعصب کو اسلامی شعائر خاص کر سیدالانبیاءؐ کی ذات اقدس کے خلاف مغلظات کی صورت میں ظاہر کیا۔ ایک صلیبی کمانڈر Chattalion Renigald اپنی توہین آمیز زبان کے لئے خاصا مشہور تھا۔ ویسے صلیبی عام طور پر اتنے ناخواندہ تھے کہ وہ مسلمانوں کو اکثر یہ طعنہ دیتے تھے کہ وہ "کسی Mohamet کی عبادت کرتے ہیں!" تاہم جب صلاح الدین ایوبی ؒ نے اسے شکست دیکر گرفتار کیا تو صرف اس کو سزا دی۔ اگر وہ طیش میں آتے تو تمام قیدیوں کو قتل کردیتے۔ اور جب بیت المقدس پر صلیبیوں نے قبضہ کیا تو انہوں نے مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا۔ Poole Laneکے مطابق صلیبیوں کے گھوڑے سموں تک خون میں لت پت تھے۔ بچوں تک کو ٹانگوں سے پکڑ پکڑ کر دیواروں سے پٹھک کر ہلاک کیا گیا۔ صلیبیوں نے یہودیوں کا بھی قتل عام کیا۔ جی ہاں انہی یہودیوں کا جن کو آگے چل کر Holocaust کے مداوے کے طور پر اہل کلیسا نے مسلمانوں کے سینوں پر سوار کیا۔ اور جب صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو ستاسی سال بعد فتح کیا تو لین پول کے مطابق راہبوں، خواتین، بزرگوں، بچوں اور معذوروں کو بلا فدیہ رہا کیا۔ اور جن کو فدیہ حاصل کرکے آزاد کیا گیا ان میں مفلسین کا فدیہ صلاح الدین اور ان کے بھائی نے اپنے ذاتی سرمائے سے ادا کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جارج ڈبلیو بش نے عراق پر چڑھائی کو صلیبی جنگ (Crusade) کا نام دیا تھا اور جب امریکی فوجیوں کا ایک خاص دستہ تقریط پہنچا تھا تو صلاح الدین ایوبی ؒکے مزار کے سامنے فخریہ انداز میں کہا تھا:Sladin, We are back!
حالانکہ صلیبی جنگوں کے بعد مغرب میں جو تاریخی ناول لکھے گئے تھے ان میں صلاح الدین ایوبیؒ کو ایک طلسماتی Hero کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔یہاں ہمارا مدعا "گھڑے مردے اکھاڑنا" نہیں ہے تاہم یہ تاریخی تقابل اس لئے ضروری ہے کیوں کہ جب 1492 ء میں دنیائے کلیسا سات سو سالہ اسپینی مسلم تہذیب کو تاخت و تاراج کرتا ہے تو اس کو ازابیلہ اور فردنند کی دلیری قرار دیکر Reconquesta کا نام دیا جاتا ہے اور جب افغانی متحدہ مغرب کا مقابلہ کرتے ہیں تو انہیں دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے۔
مغرب کے آزادیٔ رائے کے پیمانے بھی بڑے عجیب ہیں! مسلمان خاتون حجاب پہننے تو خواتین کے حقوق پر یلغار ہوتی ہے اور جب عیسائی راہبہ "مکمل پردہ" کرتی ہے تو اسے روحانی دنیا کا ترجمان تصور کیا جاتا ہے۔ مسلمان کی داڑھی بنیاد پرستی کی علامت ہے جبکہ یہودی کی داڑھی یہودی شناخت کی حفاظت ہے۔ اب تو کئی داڑھیاں "سیاسی بلوغت" کی علامت بھی بن گئی ہیں! مسلمان ملکوں میں سے کوئی شریعت کی بات کرے تو مغرب ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کرتا ہے کہ انسانی حقوق، حقوق نسواں، ہم جنس پرستوں کے حقوق، اور نہ جانے کون کون سے حقوق ضائع ہونے کا احتمال ہے۔ اور جب اسرائیل کی ناجائز ریاست قائم کی جاتی ہے تو اس کے لئے کوئی دستور وضع نہیں کیا جاتا کیوں کہ یہودیوں کو "تلمود" کے ہوتے ہوئے کسی آئین کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اسرائیل کے بانی ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ چند برسوں میں انہیں اس علاقے (فلسطین) میں ایک "تہذیب" قائم کرنا ہے جہاں کوئی تہذیب نہیں ہے! اور تو اور اسرائیل وہ واحد ریاست ہے جس کا کوئی واضح نقشہ نہیں ہے اور اس کا نیوکلیائی پروگرام بھی خفیہ ہے! اس ناجائز ریاست کو دوام اور استحکام بخشنے کے لئے پہلے Holocaust کو نازیوں کے کھاتے میں ڈال کر عیسائیت سے الگ کیا جاتا ہے اور پھر اس کو ایک ایسی مسلمہ حقیقت ( Fact Universal) بنایا جاتا ہے کہ اس کی تکذیب تو درکنار اس کی تصغیر کرنا بھی گناہ عظیم قرار دیا جاتا ہے۔ ہولوکاسٹ کو ایسی تقدیس بخشی گئی ہے کہ کسی اہل علم یا سیاستدان میں اس کے خلاف بولنے کا یارا نہیں ہے۔ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد شاید پہلے سیاسی راہنما تھے جنہوں نے کئی سال تک اس کی تشکیک کی تھی اور اس پر سوال اٹھائے تھے۔ مغرب میں ہولوکاسٹ کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حال ہی میں لسانیات کے مشہور عالم Chomsky Noamنے صدر ٹرمپ کو ہٹلر کے ساتھ مشابہت دی تو ہولوکاسٹ کے بہت سارے نام نہاد ماہرین اور مورخین اس کے خلاف میدان میں آگئے۔ اور جب ایک بار ایڈورڈ سعید کئی فرانسیسی فلاسفہ، جن میں جین پال ساترے بھی شامل تھے، کی دعوت پر فرانس میں مشرق وسطیٰ پر منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کے سلسلے میں فرانس وارد ہوئے تو ان کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب کانفرنس میں فلسطین کی جدوجہد آزادی ایجنڈے میں شامل ہی نہ تھی۔ ان کو بعد میں پتا چلا کہ یہودی لابی نے کانفرنس کو یرغمال بنایا تھا۔
فرانس جیسے مغرب کے ترجمان کو ہی لیں جو دور جدید میں جمہوریت اور سیکولرازم کا ترجمان بنا پھر رہا ہے اور بڑی بے باکی سے عالم اسلام کی نہیں بلکہ اسلام کی حالت کو ہیجان خیز ( Crisis In ) قرار دیا ہے۔ فرانس کی بے چینی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سیکولرازم کا پورا ڈھانچہ Crisis میں ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ فرانس میں اسلام تمام تر قدغنوں کے باوجود ترقی کررہا ہے۔ حال ہی میں جب ایک فرانسیسی خاتون، جو مالے میں چار سال تک مغوی تھی، رہا ہوئی تو فرانسیسی صدر میکرون خود اس کے استقبال کے لئے ایئرپرٹ پہنچا۔ تاہم جب مذکورہ خاتون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا نام، جو پہلے صوفی پٹرونن تھا، مریم پٹرونن کے طور پر متعارف کرایا تو فرانسیسی صدر ورطہ حیرت میں آگیا۔ ساتھ ساتھ اس خاتون نے مالے کے مفلس مسلمانوں کے اخلاق اور روحانیت کی خوب تعریف کی۔ ظاہر سی بات ہے کہ "دہشت گردوں کا مذہب" کوئی سمجھدار انسان کیسے قبول کر سکتا ہے!
ملائشا کے سابق وزیر اعظم مہاتر محمد کے بیان میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو فرانسیسیوں سے، ان مظالم کی وجہ سے جو انہوں نے مسلمانوں پر استعماری دور میں ڈھائے ہیں، بدلہ لینے کا حق ہے۔ ایک تو انہوں نے عیسائیوں کے بجائے فرانسیسیوں کا لفظ استعمال کیا اور دوسرا یہ بھی کہا کہ "مسلمان ایسا نہیں کریں گے" یعنی بدلہ نہیں لیں گے۔ لہٰذا فرانس کو بھی بدلے کی نفسیات سے باہر آنا چاہئے۔ مہاتر محمد کے بیان کی صداقت کو صرف الجزائر کی تحریک آزادی کے جانبازوں کی داستان شہادت اور ان پر ڈھائے جانے والے فرانسیسی مظالم میں دیکھا جاسکتا ہے۔ فرانسیسی فوج نے درجنوں مجاہدین کی شہادت کے بعد ان کے سروں کو فرانس بھیجا۔ ماہرین کے مطابق اس بہادری' جو تاریخ میں صرف منگولوں نے انجام دی ہے، کے تین مقاصد ہوتے تھے۔ پہلا مقصد یہ ہوتا تھا کہ مفتوح قوم پر ہیبت طاری کی جائے۔ دوسرا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اپنی قوم کو فتح کی نوید سنائی جائے۔ تیسرا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان قوموں کی نفسیات کا سائنسی مطالعہ کیا جائے جنہوں نے کسی صورت فاتحین کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ہو۔ الجزائری تحریک آزادی کے درجنوں عمائدین کے سروں میں سے چوبیس سر پچھلے سال واپس کئے گئے جب الجزائر نے اس کے ئے ایک دستخطی مہم چلاکر اٹھارہ ہزار دستخط جمع کئے۔
یہ بات صحیح ہے کہ مسلمانوں کے پاس مواد (Stuff) ہے لیکن ان کے پاس شاید انداز (Style) نہیں ہے۔ یا عام زبان میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان "گھر کی مرغی دال برابر" کی نفسیات کے شکار ہیں۔ جہاں جمہوریتوں نے اپنے نسلی تفاخر اور چھوت چھات کی نفسیات سے مغلوب ہوکر مسلمانوں کوکووڈ ۔انیس کی پہلی لہر کا ذمہ دار ٹھہراکر ذلت آمیز عتاب کا شکار بنایا وہیں کسی بھی مسلمان ملک سے اس معاملے میں غیر مسلموں کے ساتھ کسی امتیازی رویے کی کوئی خبر نہیں آئی۔ مسلمان ملکوں میں تو اس معاملے میں بالکل برعکس صورتحال دیکھنے کو ملی۔ کئی مسلمان ملکوں میں ان ہی مذہبی جماعتوں نے، جنہیں مغرب رجعت پسند، شدت پسند، انتہا پسند اور بنیاد پرست کے خطابات سے نوازتا آیا ہے، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو بھی Sanitize کیا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روز ہوئے لوگوں کی بلالحاظ مذہب و ملت خبر گیری کی۔
اس تمام تر تقابل کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان اپنی بنیادی اخلاقیات سے دستبردار ہوجائیں۔ ایک ابدی،آفاقی اور عالمگیر دین کے حامیوں کو یہ قطعا" زیب نہیں دیتا کہ وہ صرف رد عمل کی نفسیات میں جئیں۔ مسلمانوں کو اللہ تعا لیٰ نے اس سے بھی روک لیا ہے کہ وہ ان جھوٹے خدائوں کو برا بھلا کہیں جو لوگوں نے خود گھڑ لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ توہین تو درکنار کئی ایک مسلمان اہل علم نے کئی مذاہب کے بانیان کا نبی ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ جیسے سید مناظر احسن گیلانی مرحوم نے قرآنی اصطلاح "ذی الکفل" کا ترجمہ "کپل وستو والے" کرکے گوتم بدھ کا اسی انداز میں ذکر کیا ہے۔بے شک Hebdo Charlieجیسے جریدوں کی اسلام کی مسلمات اور مسلمانوں کی مقدسات خصوصا" شان رسالت کے بارے میں دہائیوں پر مبنی رویہ ناصرف قابل افسوس ہے بلکہ اس سے ایک مومن صادق کا خون کھول جانا بالکل لازمی ہے، لیکن مسلمانوں کے لئے یہ بھی ایک موقعہ ہے کہ جواباً سیدالانبیاءؐ کی شان رحمت کو اجاگر کیا جائے۔ یہاں پر ہمیں عمر ابن عبدالعزیز ؒ کا اپنے گورنروں کو دیا ہوا وہ جواب یاد آتا ہے جو انہوں نے اس وقت دیا تھا جب ان کے سامنے ذمیوں کے اسلام لانے کے سبب آمدنی میں کمی کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان کا تاریخی جواب تھا کہ "محمدؐ کو ہادی برحق بناکر بھیجا گیا تھا نہ کہ تحصیل دار ( Collector Tax) بناکر!" اس تناظر میں ملائشا کی وزارت خارجہ کا فرانس کے سفیر کو دیا گیا "شمائل ترمذی" کا تحفہ، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی روحانی،جسمانی اور اخلاقی صفات کو پیش کیا گیا ہے، زیادہ موزوں اور بروقت معلوم ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے مسلمانوں کو مطمئن رہنا چاہئے اسلام میں آزادء اظہار رائے کا اپنا ایک مقام ہے جس کے لئے قرآن نے ببانگ دہل اعلان کیا ہے کہ "لا اکراہ فی الدین" اور "اما شاکرا واما کفورا!" ساتھ ساتھ انہیں اللہ تعا لیٰ کی تسبیح و تحمید بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعا لیٰ نے خود نبیؐکا رتبہ بلند فرمایا ہے اور یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ آپؐ شان ہمیشہ بلند رہے گی۔ (ورفعنا لک ذکرک، صلی اللہ علیہ و سلم )
( مضمون نویس ڈگری کالج کوکرناگ میں اسلامک سٹیڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں )
ای میل۔ [email protected]
فون نمبر۔9858471965