قارئین گذشتہ سات آٹھ برسوں میں جس طرح سے مشرق وسطیٰ میں انسانی جانوں کا زیاں ہوا ہے ایسا اس سے قبل کی جنگوں میں بیت کم دیکھا گیا ۔اس جنگ نے چنگیزی اور ہٹلر کے مظالم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔مشرق وسطیٰ کی عوام تاریخ کے ایک سنگین مظالم سے دوچار ہوئی اور ہورہی ہے ۔ان تمام مظالم کا ذمہ دار مغربی اور مشرقی دونوں ذمہ دار ہیں ۔ مغرب والے اپنی عیاری اور مکاری سے ان تمام ممالک کو لڑاتے اور اپنا مفا د پورا کرتے ہیں ۔اس پورے تاریخی المیہ کا سب سے ذیادہ متاثر ہونے والا خطہ شام ہے ،جہاں اب تک چھ لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور بیس لاکھ نیم مردہ ہیں ،اور تقریباًساٹھ لاکھ آبادی دوسرے ممالک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئی ۔ملک ِ شام میں لگی اس جنگ کی بہت ساری وجوہات ہیں ۔پہلی وجہ تو اس کی Arabspring دوسری وجہ Civil unrest تیسری وجہ مسلک اور چوتھی وجہProxy war ہے ۔جہاں تک پہلی وجہ Arabspring کا تعلق ہے تو یہ اس انقلاب کے لئے شروع ہوا تھا تا کہ افریقہ کے چند تا نا شاہوں کا خاتمہ کیا جا سکے ۔اس کے لئے مغربی ممالک ،بشمول عرب نے ان تمام باغی گروہوں کو ہتھیار مہیا کئے جو حاکم ِ وقت کے خلاف سر گرم تھے جیسے لیبیا،جارڈن میں وغیرہ ،لیکن جب یہ ہتھیار بشارا لا سد کے خلاف آزمایا گیا تو وہاں یہ کامیاب نہ ہو پایا جس کا نتیجہ آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔شام میں اس انقلاب کی ابتدا ء ۱۲۔۲۰۱۱ ء میں ہوئی جب وہاں کے اکثریتی طبقے کی عوام نے غریبی ،انسانی حقوق کی پائمالی ،سیاسی قیادت سے محرومی ،اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ اور قحط کے خلاف آواز بلند کی ۔حکمت ِ عملی سے اس مسئلے کو سلجھانے کے بجائے عسکری قوتوں کا استعمال کیا گیاجس سے عوام اور افواج کو مالی و جانی نقصان اُٹھانا پڑا ۔عوام کی بے جا اموات نے پورے ملک میں غم و غصّے کی لہر پھیلا دی ۔اسد نوازعسکری قوتوں نے عوام پہ ظلم و جبر کرنا شروع کر دیا ۔ملکی اختلافات حد سے تجاوزکر گئے ۔عرب اور دوسرے مسلم ممالک نے حق کی آواز اٹھانے والے گروؤں کوہتھیار مہیا کرائے جس سے ایک بڑی تباہی کا دور شروع ہوا ۔اسد کی افواج کا بیشتر حصّہ عوام کے ساتھ ہو گیا جس کی وجہ سے اسد ۲۰۱۵ء میں تخت سے ہٹنے کے لئے تیار ہو گیا لیکن عین اس وقت مغربی ممالک نے اسد کے خلاف تمام جماعتوں کو ہتھیار مہیا کرانے والے تما م ممالک کو تنبیہ کر دیا کہ یہ انتہا پسند گرو ہیں ،انھیں ہتھیار دینا بند کر دیں ۔مغربی ممالک کے اس فیصلے سے شامی حکومت کو نہ صرف حوصلہ بخشا بلکہ کھل کر تخریب کاری اور تشدد برپا کرنے کی بھی جلا بخشی ۔ایران اور روس بشر الاسد کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے اور فضائیہ حملو ں سے مسلح افراد اور ان کی بستیوں کو نشانہ بنا نہ شروع کر دیا ۔روسی افواج نے ہسپتال اور عوام کی آبادی والے علاقوں پہ مزائیل داغنے شروع کر دئے جس سے اموات کا سلسلہ دن بہ دن بڑھتا چلا گیا ،اور آج صورت ِ حال یہ بن چکی ہے کہ ہر گلی اور ہر کوچے میں لاشیں ہی لاشیں مل رہی ہیں ۔اس ظلم کے خلاف تمام مسلم ممالک کے رہنما مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔معصوم بچوں کی موتیں ،خواتین و مردو ں کی موتیں ،املاک کی بتاہی گوئی ایسا کوئی ظلم نہیں جو وہاں نہ برتا گیا ہو ۔ترکی اب تک تما مسلم ممالک میں پہلے نمبر پر ہے جس نے نہ صرف عالمی سطح پر اس کی مذمت کی ہے بلکہ وہاں سے ہجرت شدہ ستائیس لاکھ افراد کو رہائیش بھی دی ہیں ۔شام کی تباہی پوری امتِ مسلمہ کی تباہی کے مترادف ہے ۔مسلمانوں کے اندر سے وہ جذبہ ختم ہو چکا ہے جو کسی ظلم کے خلا ف اُٹھتا تھا ۔آج جس طرح شام میں امت ِ مسلمہ کے بیٹے ،بیٹیاں اور بچے اپنی جانیں دے رہے ہیں اس سے ایک بات تو صاف ظاہر ہے کہ مسلکی جنگ نے نہ صرف انسانیت کو ختم کر دیا ہے بلکہ ہماری قیادت سے وہ سب کچھ چھین لیا ہے جس سے ہم خود مختارانہ فیصلے لے سکیں اور ان کے بچاؤ کے لئے سامنے آسکیں ۔اس لئے میری تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ تمام مسلک ،ذات ،رنگ و نسل سے اُپر اٹھ کر اس انسانی بحران کے خلاف آواز بلند کی جائے تاکہ کل قیامت کے دن ہمیں اللہ اور اس کے نبی کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔آج پوری دنیا کی قومیں مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں ،لیکن صرف مسلمان ہی ہیں کہ ایک خدا اور نبی کو ماننے کے باوجود غیر اللہ کی اطاعت واِتباع کر رہے ہیں جس کی وجہ سے خصارے میں ہیں ۔ہمیں عالمی سطح پر درندانہ صفت اسد کے خلاف آواز اٹھانی ہے تاکہ اس کی دیکھا دیکھی کوئی اور اس طرح کے مظالم نہ ڈھائے ۔تمام مسلم ممالک کی خاموشی شام میں تباہی کا سبب بن رہی ہے ۔عیش و آرام کی زندگی نے قوم کے ان رہنماؤں سے عزت و وقار چھین لیا ہے اور ان کے اندر سے منصفانہ خوبیاں زائل کر دی ہیں ۔
ڈاکٹر محمد ذاکر …8713091356
تحصیل تھنہ منڈی،ضلع راجوری
ایک پیغام سر زمینِ شام کے نام!
سر زمین شام کے معصوم شہیدو تمہیں سلام۔ہمیں اپنی بے غیرت بے بسی پر ندامت ہے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ ہم اتنے کمزور اوربے بس ہو چکے ہیں کہ جب انٹر نیٹ پر تمہارے احوال دیکھتے ہیں تو ہماریپاس صرف بے بسی کے آنسوں ہی موجودہوتے ہیں جو ہم خراج عقیدت کے طور پر تمہاری خدمت میں پیش کر دیتے ہیں۔ہم اتنے سیاہ کار ہیں کہ جب اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اْٹھاتے ہیں تو ہماری دعائیں بھی ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے فضامیں معلق ہو کررہ جاتی ہیں۔ ہم میں سے اقلیت کا یہ حال ہے کہ وہ تمہارے احوال کو دیکھ کر بے بسی کے ا?نسوں بہانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔ اور ہم میں سے اکثریت تو ایسی ہے جسے تمہارے حالات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔وہ اپنی ہی دنیا میں گْم ہے۔ اور اپنی گاڑی، کوٹھیاں اور بنگلے کے سواا ْن کے ذہن میں کچھ بھی نہیں۔ مختصر یہ کہ ہم میں سے اقلیت خاموش ہے اسلئے مجرم ہے اور کثریت کو کوئی خبر ہی نہیں اسلئے مجرم ہے۔ اور اسطرح ہم سب آپ کے مجرم ہیں۔ بس اب زندگی سے بے رغبتی سی ہوتی جا رہی ہے اور اپنے وجود سے گھِن سی محسوس ہو رہی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ ہم انسان نما درندے ہیں کہ جنہیں اپنے نفس کے سوا کسی کی کوئی خبر نہیں۔ہمارے روزانہ کے وہی معمولات و مصروفیات ہیں۔ہم ہر دن صبح سورج طلوع ہونے کے بعد اْٹھتے ہیں اور رزق پر بھوکے درندے کی طرح یلغار کر دیتے ہیں پھر اپنی عارضی دنیا کی آرائیش کے سامان جمع کرنے میں لگ جاتیہیں۔ جب دوپہر کا وقت ہوتا ہے توحسب معمول پھر سے اللہ عزوجل کی نعمتوں پر ایک یلغار ہوتی ہے۔ اور پھر دنیا داری میں لگ جاتے ہیں اسی طرح سورج غروب ہو جاتا ہے اور ہم ایک بار پھر یلغار کے فراق میں ہوتے ہیں۔ جب میدان فتح ہو جاتا ہے تو ہم مگر مچھ کی طرح سو جاتے ہیں۔ہمیں تمہارے حالات سے کیا سروکار۔ہمارے پاس تو آرائش و زیبائش دنیا کے سارے سامان موجود ہیں۔ ہم نے تو بڑی محنتوں سے دنیا کی یہ آسائشیں بنائی ہیں اور انہیں کھونا نہیں چاہتے۔کیا کریں یہ دنیا ہماری کمزوری بن چکی ہے۔پچھلے دنوں برما کے حالات دیکھ کر بھی ہم نے یہی مجرمانہ خاموشی قائم رکھی تھی کیونکہ ہم کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ ہم اس دنیا کو کھونا نہیں چاہتے کیونکہ اس کے عشرت کرے فانی ہیں۔ نہ جانے کب زوال پذیر ہو جائیں اسلئے جب تک موجود ہیں تب تک ان سے مستفیض ہو لیں۔ہماری ملت کے سبھی طبقات اپنی اپنی حیثیت کے مطابق مصروف ہیں اسلئے آپ کے لئے وقت نکالنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ ہمارے لیڈران تو بہت مصروف ہیں۔ کیا کریں جو صاحبِ اقتدار ہیں ان کو روز مرہ کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ اگروہ اس بار اچھا پرفارم (Perform) نہیں کریں گے تو اگلے الیکشن میں جیت مشکل ہو جائیگی۔ اورساتھ ہی ساتھ حکومت کے اعلیٰ اداروں سے آنے والی مراعات میں ان کا حصہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسلئے وہ اپنی ہی دنیا میں اس قدر مصروف ہیں کہ آپ کے حق میں ایک لفظ بھی بو لنا ان کے بس میں نہیں ہے۔جو اقتدار میں نہیں ہیں ان کے لئے اگلے الیکشن میں جیت سب سے بڑا عزم اور ہدف ہے۔اسلئے وہ بھی مصروف ہیں۔ اور ساتھ ساتھ پارٹی کے منشور، قواعد و ضوابط ان کے پاؤں میں زنجیر کی طرح پیوست ہیں۔جہاں تک ہمارے علماء کی بات ہے تو وہ بھی بے حد مصروف ہیں کیونکہ نماز پنجگانہ کا بوجھ ہی کافی تھا۔ اب تو انکے پاس اور بھی کافی اہم کام ہیں جن میں ایک دوسرے پرکفر کے فتوے جاری کرنا سب سے اہم کام ہے۔کیا کریں ان کے پاس وقت کی سخت قلت ہے۔ایک دوسرے کی تردید و تنقید میں اتنے محو ہیں کہ آپ کے بارے میں سوچنے اور آواز اٹھانے کیلئے وقت نہیں ہے۔ رہی بات اہلیان تصوف و خانقاہ کی تو ان کے پاس تعویز تقسیم کرنے اور نذرو نیاز جمع کرنے کے علاوہ اپنی خانقاہ کے نظام کا خیال رکھنے کی بھی اہم ذمہ داریاں ہیں۔ اسلئے وہ بھی آپ کے بارے میں غور و فکر کرنے سے قاصر ہیں۔ہمارے پڑھے لکھے عوام میں سے جو صاحب روزگار ہیں ان کو تو اپنی ڈیوٹی سے ہی فراغت نہیں ہے۔ اورساتھ ہی ساتھ ان کے لئے خاموش رہنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ اگر وہ آپکے حق میں آواز اْٹھائیں گے تو ان کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔جہاں تک ہمارے نوجوان کا سوال ہے تو ان میں کچھ کے سامنے تو کیرئیر اور مستقبل کے خواب ہیں جو انہیں اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہیں۔ان کے بہت سے ارمان اورخواہشات ہیں جن میں اچھا کیرئیر، اچھی گاڑی، کوٹھی اورخوبصورت سی بیوی اہم ہیں وہ ان عزائم کی تکمیل میں برسر پیکار ہیں اور آپ کے بارے میں سوچنا ان کے بس میں نہیں ہے۔ہماری مائیں بہنیں بھی بہت مصروف ہیں۔ ان کے پاس بھی وقت نہیں ہے کیونکہ وہ گھریلو کام کاج میں سخت مصروف ہیں اور جب فارغ ہو جاتی ہیں تو لوگوں کیعیب و ثواب پرتحقیق کرنے کیلئے وقت نکالنا ضروری ہوتاہے۔ اب وہ مائیں بہنیں نایاب ہیں جن کی عصمت و عفت کے وسیلیسے دعائیں قبول ہوا کرتی تھیں اب تو ہماری ماؤں بہنوں کی دنیا ہی بدل چکی ہے اور وہ اس عارضی دنیا کی تکمیل کے لئے مردوں سے بھی دو قدم آگے بڑھ چکی ہیں۔ان کو آپ سے کیا سروکار ان کے تو شوہر بھائی بچے سب ان کے آس پاس موجود ہیں۔ ان کے مہنگے سوٹ، میک اپ اور بناؤ سنگار کے سبھی سامان موجو دہیں۔ مختصر یہی کہ ہماری مائیں بہنیں بھی سخت مصروف ہیں ان کے پاس بھی آپ کے لئے دعا کرنے کیلئے وقت نہیں ہے۔ہمارے نوجوانوں میں تو اکثر اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے فیس بْک، وہٹس اپ اورانسٹاگرام ہر وقت آن لائن ہی نظر آتے ہیں۔ان کے لئے Save Syria, Save Humanity کا ایک پوسٹ ہی کافی ہو کر رہ جاتا ہے،ہاں اس کے بعد Likes اور Comments کتنے ملے اس کا بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ ہمارینوجوانوں میں سے ایک بڑی تعداد ہے جسے اپنی گرل فرینڈز کی کال آپ سے زیادہ عزیز ہے۔ اس کے علاوہ سوٹ، بوٹ، سگریٹ اور دوسری مصروفیات ہیں جو آپ کے لئے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتیں۔ مختصر یہ کہ ملت کے سبھی طبقات بہت مصروف ہیں اورآپ سے اتنی ہی گذارش ہے کہ آپ اسی طرح کٹتے اور مرتے رہئے اور ہم سے اگر کوئی امید وابستہ ہے بھی تو اْسے ختم کردیجئے کیونکہ ہماری قوم اب بہت ناکارہ ہو چْکی ہے۔ اس کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ اس کے سبھی طبقات امیر و غریب ،علما ء و مشائیخ لیڈران و سیاستدان، طلبا? و طالبات ،مرد و عورت سب اس فانی دنیا میں گْم ہیں۔ اب وہ مائیں مر چکی ہیں جن کی کوکھ سے صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، طار ق بن زیادہ اور قتیبہ بن مْسلم باہلی جیسے غیرت مند و جاں نثار نوجوان پیدا ہوا کرتے تھے اب تو شاہ رخ خان، سلمان خان اور دوسرے اداکار اور کرکٹر ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اب تو زندگی کے اصول اور اقدار ہی بدل چکے ہیں یہاں توبیحیائی کا نام فیشن ہو گیا ہے، رشوت اور سود کا نام انعام اور تحفہ رکھ دیا گیا ہے۔بزدلی کا نام مصلحت،بے شرمی و بے غیرتی کا نام حکمت اور دنیا پرستی، نفس پرستی، ہوس پرستی کا نام ، دور اندیشی ہے۔یہاں مظلوم کو دبانے والے زیادہ ہیں اور ظالم کو ظالم کہنے والے بہت کم ہیں، یہاںمظلوم کو خاموش کردیا جاتا ہے اور ظالم کو بہادر و شجاع کا نام دے کر اس کے تلوے چاٹے جاتے ہیں۔ اب تو ہمارے دلوں پر دھن یعنی دنیا سے محبت اور موت سے نفرت غالب آ چکی ہے۔ جس کی پیشن گوئی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔مختصر یہی کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے وہ اہل درد و دل اب نہیں رہے جن کی صدائیں عرش ِ عظیم کو بھی متزلزل کر دیا کرتی تھیں۔ اب تو بے حیائی، ناچ گانے فیشن اور فلموں کے شیدائی ہی بچ گئے ہیں جن سے خاطر خواہ توقع رکھنا حماقت ہے۔ اسلئے آپ سے یہی گذارش ہے کہ ہم سے جوامیدیں وابستہ ہیں وہ ختم کردیجئے۔ کیونکہ جب امیدبرنہیں آتی تو دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ ہاں ایک بات کا یہاں واضح کرنا ضروری ہے کہ اس ہجوم میں ایک چھوٹی سی تعداد ہے جس کو احساس ہے آپ کا جوا ٓپ کے بارے میں سوچتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ عزوجل کے حضور دعائیں اور التجائیں کرتے ہیں۔ تمہارے بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دِل بے قرار ہو جاتے ہیں اور آہ و بقاء کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ بس یہی لوگ اس اندھیرے میں امید کی ایک کرن ہیں۔ آپ سے التجا ہے کہ جب اللہ عزوجل کے حضور حاضر ہوں تو ہماری بد بختی کی شکایت بھی ضرورکردینا۔ اور امت کے کھوئے ہوئے وقار کے مرثیئے بھی پڑھ دینا اور خالد بن ولید، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کی واپسی کی گذارش بھی کر دینا۔
دعا گو و طالب ِ دعا
شاہین پونچھی