سرد جنگ میں دو عالمی کیمپوں سرمایہ داری اورکمیونزم میں نصف صدی تک منقسم رہنے والی دنیا کے عالمی نظام کا بت ایک مسلمان ملک افغانستان میں ٹوٹ گرا۔جب سوویت یونین نے اپنی افواج کے بل بوتے پر طویل المیعاد دفاعی مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف ایک ردعمل پھوٹتا چلا گیا۔ افغانستان میں سوویت یونین افواج کے بڑھتے قدم رکے ہی نہیں بلکہ خود سوویت یونین شکست کی و ریخت کا شکار ہو کر اپنا عالمی کردار اور مقام گنوا بیٹھا۔ افغانستان ک سرزمین اور دنیا بھر کے پر جوش مسلمان نوجوانوں کی افرادی مدد اور باوسیلہ مسلمان ملکوں کی مالی امداد سے جو جنگ لڑی گئی اس نے سوویت یونین کے بکھرے کی واحد وجہ یہی نہیں تھی مگر ایک اہم نفسیاتی وجہ یہ بھی تھی۔ افغانستان میں شکست نے عالمی سطح پر سوویت یونین کا دبدبہ ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس ماحول میں کئی ریاستوں نے حالات سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے آزادی کی راہوں پر چلنے کا فیصلہ کیا۔سوویت یونین کی کئی ریاستوں کے اس اعتماد کی وجہ افغان جنگ کے نتائج بھی بنے۔سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی دنیا کا دو قطبی نظام یک قطبی ہو کر رہ گیا اور امریکہ دنیا کی واحد سپر طاقت کے طور پر اْبھر کر سامنے آیا۔سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ امریکی مفکرین نے نئے ممکنہ خطرات اور چیلنجز پر غور کیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ اسلام ایک نئے خطرے کے طور پر سامنے آرہا ہے۔یوں دنیا کی واحد سپر طاقت کے قیام اور نئے عالمی منظر کی پہلی زد اس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والے مسلمانوں پر ہی پڑ ی اور وہ کم وبیش تین عشرے تک یونی پولر نظام میں خاطر غزنوی کے اس شعر کی تصویر بنے رہے ؎
کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتۂ شب بھی تھے ہم
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے
اب تین عشرے ہونے کو ہیں اور یک قطبی دنیا کے کثیر القطبی بننے کے آثار اور اسباب بھی ایک مسلمان ملک شام میں پیدا ہورہے ہیں،جہاں دنیا میں جاری امریکہ کی یک طرفہ کارروائیوں کے باعث روس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر چھلک پڑا ہے۔عرب سپرنگ کے نام سے عرب دنیا کے وقت گزیدہ اور مدتوں سے برسراقتدار چلے آنے والے حکمرانوں کوعوامی مظاہروں اور میڈیا کے وسعت پذیز کردار کی بنیاد پر منظر سے ہٹانے کا جو سلسلہ تیونس کے زین العابدین بن علی کی برطرفی سے شروع ہو ا تھا ،مصر کے تاحیات حکمران حسنی مبارک اور لیبیا کے مردِ آہن کرنل قذافی کے تخت گراتا تاج اْچھالتا جب شام میں پہنچا تو پر لگا کر اْڑنے والی تبدیلی چیونٹی کی چال چلنے لگی۔شام کے حکمران بشار الاسد نے عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کا راستہ اختیار کیا۔ایران بشار الاسد کی حمایت میں کھل کر سامنے آیا اور اس کے بعد روس نے پہلی بار کھل کر عالمی سیاست کے خیمے میں سر داخل کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ر وس کی حمایت کے باعث عرب سپرنگ کی تیز رفتار لہریں شام آکر جمود کا شکار ہو گئیں۔ ایک طرف امریکہ کی قیادت میں ایک اتحاد بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے لئے عرب سپرنگ کی مسلح حمایت میں آن ٹپکا تو دوسری طرف روس نے مخالفین کو کچلنے اور بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لئے مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا۔اس طرح شام دو بڑے عالمی اتحادوں کی الگ الگ کارروائیوں اور اہداف کا مرکز بن گیا۔دونوں کے مقاصد جدا اور نشانے الگ تھے۔حقیقت میں دونوں ایک دوسرے کے حریف تھے۔دو بڑی عالمی طاقتوں کی اپنے اتحادیوں کے ساتھ شام پر یلغار سے تنازعہ ختم تو نہ ہوسکا مگر اس کی شدت اور سنگینی بڑھتی چلی گئی۔
جنگ طویل ہو جائے تو انسانی الیمے جنم لینے لگتے ہیں۔ دلدوز کہانیاں اور مناظر سامنے آتے ہیں۔ انسانیت کا دامن تار تار ہونے لگتا ہے۔ شام میں نہ بغاوت اور مزاحمت کلی غلبہ حاصل کرسکی نہ حکومت طاقت یا سیاسی مفاہمت سے حالات پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکی ہے۔ دراز ہوتے ہوئے تنازعے کی صلیب پر شام او اس کے عوام جھول رہے ہیں۔ کبھی ترکی کے ساحلوں پر پڑی ننھے ایلان کردی کی لاش انسانی ضمیر کو کچو کے لگاتی ہے اور کبھی حلب کی تاریخی شہر کے کھنڈرات دنیا کو دل گرفتہ کرتے ہیں۔ مساجد کے شکستہ مینار اور خاک و خون میں لتھڑے بدن اپنا قصور پوچھ رہے ہیں۔ شام کا المیہ یہ ہے کہ اس کے مسیحا ہی اس کے قاتل ہیں، وہ جسے درد کا درماں سمجھ رہے ہیں حقیقت میں تریاق نہیں زہرے جسے شامی قطرہ قطرہ پینے پر مجبور ہیں۔اب کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگا کر امریکہ نے شام کے فضائی اڈے پر کروز میزائلوں کی بارش کردی۔روس نے امریکی حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اوراس حد تک آگے بڑھ گیا کہ جب امریکہ نے اس انداز کے مزید حملے کرنے کا اعلان کیا تو روس نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکہ کو ایسی صورت میںپہلے ہمارا سامنا کرنا ہوگا۔گویاکہ روس امریکہ اور شام کے درمیان سد راہ او ر حصار کی مانند کھڑا ہونے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ وتیار ہے۔روس کے اس بیان کی مزید تشریح کی جائے تو شام پر امریکہ کا اس نوعیت کا کوئی اور حملہ درحقیقت روس پر حملہ تصور ہوگا اور روس اس کا اسی انداز میں جواب دے گا۔شاید حالات اس انتہا تک نہ جائیں مگر روس ڈھائی عشرے بعد حالات اور ذات کی کینچلی سے باہر نکل کر یک قطبی عالمی نظام کو دوبار ہ تواز ن کی راہ پر لانے کے لئے تیار ہو چکا ہے۔یوںجس طرح ڈھائی عشرے قبل افغانستان میں ڈائی پولر عالمی نظام کا سورج غروب ہوا تھا، بالکل اسی انداز میں سرزمین ِ شام میں یونی پولر نظام کی شام ہو نے کے واضح آثار دکھائی دے رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی دنیا میں نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابل روس اور چین کی شکل میں ایک نیا توازن قائم ہورہا ہے بلکہ دنیا ایک بار پھر ان دو کیمپوں میں تقسیم ہو تی چلی جا رہی ہے۔یہ توازن شام میں ہی قائم نہیں ہو رہا بلکہ افغانستان میں بھی تیزی سے اس کے خدوخال اْبھر رہے ہیں اور گزشتہ دنوں افغانستان کے حوالے سے روسی صدر ولادی میرپوٹن کے خصوصی نمائندے ضمیر قابلوف کا ماسکو کے بلوم برگ ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو اسی جانب اشارہ کرگیا تھا،جس میں روس نے افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے طالبان کے مطالبے کی حمایت ہی نہیں کی تھی بلکہ یہ کہہ کر طالبا ن کی کھلی وکالت بھی کی تھی کہ وہ اب گلوبل جہاد کا نظریہ ترک کرکے قومی فورس میں ڈھل چکے ہیں۔عالمی نظام کو گرانے اور بنانے میںافغانستان کے بعد شام کے عوام اسی طرح ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس طرح دوسری عالمگیر جنگ میں ہیرو شیما اور ناگاساکی فضا ء سے گرائے جانے والے ایٹم بموں کے ذریعے نئے عالمی نظام کی بنا ڈالی جارہی تھی۔جاپانیوں کو اس قیمت پر طویل امن تو میسر آگیا تھا مگر خدشہ ہے کہ ڈائی پولر عالمی نظام کو یونی پولر اور اب یونی پولر نظام کو ڈائی پولر بنانے کے لئے استعمال ہونے والے مسلمان دوسری بار بھی خالی ہاتھ بلکہ ہاتھ ملتے نہ رہ جائیں۔