شبیر احمد شبیر
عصرِ رواں میں وادی ٔکشمیر کے اردو شعری ادب سے متعارف ہونے والے جواں شعرا میں ایک نام ہے احمد منظور ۔ قصبہ بارہمولہ کی حوالی میں واقع چندسُمہ نامی گاؤں کا باشندہ احمد منظور پیشے سے معالج ہیں ۔ ڈاکٹری سے متعلق مصروفیات سے استغالِ شعر کے تئیں چند لمحات کا حصول بعید از قیاس ہے ۔ لیکن شاعرانہ مذاق سے سرشار احمد منظور کی طبیعت نے اس قیاس کو متحیّر کردیا ۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہیں کہ طبیبانہ مہارت کے حامل احمد منظور نے پیشہ ورانہ حقیقی نبض شناس کے متوازی شاعرانہ صورت میں مجازی سطح پر بھی نبض سنجی کا ہنر ورانہ انداز آشکار کرنے میں بقدرِ ظرف انہماک کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس دو پرتی نبض شناسانہ عمل میں احمد منظور کے شاعرانہ ذوق کے تعلق سے مجھے مفتی
کفیل الرحمان نشاط کا شعر یاد آتا ہے جس کا متن ہے ۔ ؎
کم ہی ملتے ہیں بھلے شعر کے نبّاض نشاط
یوں تو کہنے کو بہت لوگ سخنور ٹھہرے
احمد منظور کے شاعرانہ ذوق و صلاحیت کی غمّازی کے تئیں حال ہی میں ’’ شاخِ خزاں پر ملول پرندے ‘‘ نام سے انکا غزلیہ مجموعہ منظرِ عام پر آیا ۔ اس غزلیہ مجموعے کے نام کا ماخذ اسی مجموعے میں شامل ایک غزل کا مطلع ہے جس کی تحریری صورت یوں ہے ۔ ؎
شکست و ریخت یوں کرکے قبول بیٹھے ہیں
پرندے شاخِ خزاں پر ملول بیٹھے ہیں
غزل کے اس مطلعی شعر اور اس جیسے کئی اشعار میں احمد منظور نے جن غم نما جذبات کا پٹارا کھولا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ احمد منظو کی شاعرانہ داخلیت زیادہ نہ سہی مگرقدرے اور کسی حد تک ضرور غمزدہ رہی ہے ۔ یہی محدود غمزدگی منظور کی خارجیت میں وارد ہوکر متونِ اشعار کی صورت میں اُجاگر ہوتی رہی ہے۔ غمگساروں سے ملنے والی غم انگیز سوغات کی تلخی احمد منظور اپنے اشعار سے عبارت سُریلے الفاظ میں بھی محسوس کرتا ہے ۔ ؎
تلخیوں کے باب ہی کُھلتے رہے
لفظ جتنے بھی سُریلے ہوگئے
یہاں نامور مغربی شاعر وناقد شیلے کا وہ قول قابلِ ذکر ہے جسکی رُوسےشاعرانہ عمل کی بہتر صورت غموں کی ترجمانی ہے ۔احمد منظور کی تخیّلی فراست نے شاید اسی حقیقت کو بھانپ کرکئی غزلیہ اشعار کو اپنےجذبات و احساسات پراثر انداز غموں کا ترجمان بنایا ہے ۔احمد منظور کی شاعرانہ زبان سلاست کے سانچے میں استعاری ہے ۔ اگرچہ استعاروں کی صورت عامیہ ہے تاہم احمد منظور نے ان عام استعاروں میں اپنے اظہارِ بیان سے جان ڈالنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے ۔ استعاروں کی اس شعری زبان کا آغاز کتاب کے نام سے منسوب شعری مصرع سے ہی ہوتا ہے ۔ یعنی ’’ شاخِ خزاں پر ملول پرندے ‘‘ ۔ ترکیب اضافی کی صورت میں ’شاخ‘ مضاف اور ’خزاں ‘ مضاف الیہ بناکر جہاں احمدمنظور نے ترکیب سازی حُسن و نُدرت پیدا کیا ہے وہیں اس ترکیب سے ’ ملول پرندے ‘ بھی صفت موصوف کی صورت میں استعاری انداز کے حامل بن گئے ہیں ۔ احمد منظور نے کئی اشعار میں لفظوں کی استعاری صورت میں معنوی سطح پر تغیّرانہ انداز آشکار کرنے کی بقدرِ استعداد کوشش کی ہے ۔ یہ کوشش کئی اشعار میں نقدونظر کی سطح پر دعوتِ فکر دیتی ہے ۔
احمد منظور نے غزلیہ مجموعے کی ترتیب میں روایت کی پاسداری کرکے ابتدا میں حمدیہ نظم رقم کرکے اس کے بعد نعت لکھی ہے ۔ اسلوبی سلاست اور ابہام و اغلاق سے مبرّا حمدیہ نظم احمد منظور کی امکانی شاعرانہ صلاحیت کی غمّاز ہے ۔ معنوی ترسیل مقتضاےِ حال کے عین مطابق ہونے کی بدولت یہ حمدیہ نظم ایسی جملہ شرائط کی حامل ہے جنکی بناپر اسکو ادبِ اطفال میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ البتہ نظم کے مقطع میں شاعر سے فنی سطح کی ہلکی سی لغزش سرزدہوئی ہے ۔ وہ یہ کہ شاعر نے اپنا تخلص مقطع میں معنوی صورت میں استعمال کیا ہے ۔ اساتذہ فن کے مطابق اگر تخلص کواس انداز سے برتا جائےکہ وہ اپنے لغوی معنی کی جانب رجوع کرے توتخلص کی اصطلاحی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اس تناظر میں کہ تخلص کے لغوی معنی کی طرف رجوع کرنے کے نتیجے میں شاعر کی پہچان گُم ہوجاتی ہے اور بغیر تحقیق شعر کے خالق کی پہچان ممکن نہیں رہتی ۔ یہ وہ نقص ہے جسکے ورود سے اساتذہء فن نے مقطع کو بے لطف اور رکیک قرار دیا ہے ۔
نعتیہ کلام میں احمد منظور نے فارسی تراکیب و الفاظ کا حدِ استعداد تک استعمال کیا ہے۔ نعت شریف کا ہر شعر عندیہ دیتا ہے کہ احمدمنظور نعت نگاری کی نزاکت و نفاست سے عبارت شرائط سے کافی حد تک آشنا ہیں ۔ نعتیہ کلام کا مقطع تمنّائی اُسلوب کا شاعرانہ انداز نمایاں کرتا ہے ۔
نعتیہ کلام کے بعد شروع ہونے والے غزلیہ تسلسل کی آعازی غزل کے آغازی شعر یعنی مطلع تلمیحانہ اسلوب کا حامل ہے ۔
رمزوایما کے اجمالی کوزے میں احمد منظور نے تفصیل کا سمندر سمونے کی کوشش کی ہے ۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ شعر میں تحنیسِ مرفو کی صنعت بھی اجاگر ہوگئی ہے ۔ ملاحظہ ہو بیک وقت دو اوصاف کا حامل یہ شعر ۔؎
عرش سے فرش تک حوالہ گیا
گھر سے آدم کو جب نکالا گیا
پہلے مصرع میں ’ عرش ‘ اور ’ فرش ‘ حرف اول کے فرق سے تجنیسِ مرفو کو متعارف کرتے ہیں۔ جبکہ پورے شعر کا تلمیحانہ اختصار آدم علیہ السلام کے جنت سے اخراج کا واقعہ لئے دعوتِ تفکّر دیتا ہے ۔احمد منظور نے مختصر حجمی عروجی بحور میں بیانی جامعیت کی بقدرِ استطاعت کوشش کی ہے ۔ غزلیہ مجموعے میں احمد منظور ہر مرحلے پر عروضی امور میں محتاط نظر آتے ہیں ۔اُن کی غزلیات کا ایک اور پہلو عشقیہ موضوعات کی شمولیت ہے ۔ایسے کئی اشعار میں علم بدیع سے عبارت تجاہلِ عارفانہ کی معنوی صنعت کا ورُود بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ مثلاً یہ دو اشعار ۔ ؎
عشق میں یہ کونسی منزل پہ تھے منظور ہم
اپنی ہی تصویر پر ان کا گماں ہوتا رہا
کس کے آنے کی نِدا ہے منظور
_ شاد ہیں شمس و قمر سوچ نئی
صوفیت و سِرّیت کی جلوہ نمائی بھی احمد منظور کے کچھ اشعار میں مضمر ہے ۔ ؎
ہمیں سے پوچھ وجود و فنا کا بھید ہے کیا
بہت قریب سے ہم خشک و تر کو دیکھتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا بننےکی خواہش تو نہیں ہے
مطابق اپنے سارا ڈھونڈتے ہو
علمِ بدیع سے عبارت متحملِ الضدّین نامی صنعت کا ظہور بھی احمد منظور کے غزلیہ مجموعے میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ اسکی نشاندہی تفصیل بیانی کی صورت میں مضمون کی طوالت کا اندیشہ ہے ۔ مشاہدے کی رو سے انسان کی ذرا سی لغزش عمر بھر کے تاسف کا باعث بنتی ہے ۔اس حقیقت کو بھانپ کر احمد منظور کچھ اسطرح شعری قالب میں ڈھالتا ہے ؎
اک پل کے انبساط پہ صدیوں کا اعتراض
تا عمر خشک کرتا رہا چشمِ تر کو میں _
احمد منظور آغاز سے پہلے انجام بینی کا قائل ہے ۔ ؎
نتیجہ ذہن میں رکھ لیجئے گا
قدم دلدل پہ ٹھہرانے سے پہلے
احمد منظور اپنی شاعری میں روایت کا پاسدار بھی ہے اور جدّت کا حامی بھی ۔ کئی اشعار میں یہ طے پانا مشکل ہوجاتا ہے کہ طرزِ بیان روایتی ہے یا جدید ۔کئی اشعار میں غالب کاتتبع دکھائی دیتا ہے ۔مثلاً یہ شعر _ ؎
ملا نہ کوئی جو منظور ان کے جیسا حسین _
سو آئینے کو ہی رکھا گیا مقابل میں
اس شعر کے متنی اور خیالی تناظر میں غالب کے اس شعر پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ ؎
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے
شعرا کے فکر و خیال اور جذبات و احساسات میں یکسانیت دیرینہ روایت ہے ۔البتہ اس خیال اور جذباتی یکسانیت میں ہر شاعر کا انفرادی اظہارِ بیاں فرق کرتا ہے ۔ وسیع نگاہی کی شرط پر اس بیانی انفرادیت کے نمونے احمد منظور کےغزلیہ مجموعے میں بھی نظر آئیں گے ۔اس نگاہی وسعت کی تئیں احمد منظور کی غزلیہ شاعری ہر وقت اصحاب نقدونظر کی توجہ کا طالب رہے گی ۔ان کے اس شعری متن کے تناظر میں ؎
میں سسکتا لفظ ہوں قرطاس پر _
آپ کی نظروں سے جو گزرا نہیں
(رفیع آباد۔[email protected]>)