واشنگٹن //امریکی سینیٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر تشدد کے سلسلے میں ’بغاوت پر اکسانے‘ کے الزام سے بری کردیا ہے۔سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ میں پانچ دن کے مواخذے کے مقدمے کی سماعت کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بری کردیا گیا۔ ووٹنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں 43 ووٹ ڈالے گئے ، جبکہ 57 سینیٹرز نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ ٹرمپ کو مجرم قرار دینے کیلئے ایوان میں دوتہائی ارکان کی حمایت ضروری تھی۔ ڈیموکریٹس کی طرف سے عائد کردہ یہ قرارداد دو تہائی ممبروں کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے گر گئی۔خیال رہے ڈونلڈ ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جنھوں نے عہدے پر رہتے ہوئے دو بار مواخذے کا سامنا کیا۔
فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں :ٹرمپ
واشنگٹن//(یواین آئی) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا تاریخی اور خوبصورت لمحہ ہے، ابھی تو شروعات ہوئی ہے۔سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آنے والے مہینوں میں اور بھی بہت کچھ بتانا ہے۔ماضی میں ٹرمپ نے مواخذے کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی۔واضح رہے کہ مواخذے کا سامنا کرنے والے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے۔ امریکی سینیٹ نے سابق صدر کو بری کردیا،57 ممبران نے مجرم قرار دینے کے حق میں اور 43 نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 7 ری پبلکن اراکین نے سزا کے حق میں ووٹ دیئے۔