بلال احمد پرے
خالق ِ کائنات نے انسان کو دنیا میں بھیج کر وہ سب سِکھلایا، جس سے وہ یہاں اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔ اسی زندگی کو گُزر بسر کرنے کے لئے معاشی جدوجہد بھی ضروری ہے ۔ تاکہ انسان اپنی ضروریات کو اپنے آپ پورا کر سکیں ۔ بیروزگاری کا مسئلہ اس وقت انتہائی سنگین اور تشویش ناک بن چکا ہے ۔ جس سے دُنیا کے بیشتر ممالک متاثر ہو چکے ہیں ۔ ملک کے دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی بیروزگاری کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ جو اس وقت کل ملا کر 32 فیصدی تک پہنچ گئی ہے اور خواتین میں بیروزگاری کی شرح 67.3 فیصد پہنچ چکی ہے ۔ اس طرح کے تناسب سے جموں و کشمیر بیروزگاری کے معاملے میں پورے ملک میں ہریانہ کے بعد دوسرے نمبر پر سرفہرست ہے ۔ اس بات کا انکشاف اقتصادی تھنک ٹینک Centre for Monitoring Indian Economy یعنی سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMIE) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کیا ہے ۔
حالانکہ موجودہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ یہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو انتہائی صاف و شفاف اور منصفانہ طریقے سے میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے وسائل فراہم کرتے آئے ہیں ۔ جس میں حال ہی میں درجہ چہارم کی آٹھ ہزار آسامیاں (Class-IV 8000 vacancies) میرٹ کی بنیاد پر پُر کی گئی ہیں اور گزشتہ سال کل ملا کر 11434 اور امسال تا دم تحریر 9344 آسامیوں کے لئے شفاف انداز سے انتخاب کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ مشن یوتھ (Mission Youth) کے تحت 5 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کو باضابطہ طور پر روزگار فراہم کرنے کا ہدف لیا گیا ہے ، جو واقعی قابلِ تعریف اور قابل ستائش کام ہے ۔ اس طرح کے اقدامات سے رشوت ستانی جیسے مہلک وباء پر بہت جلد قابو پانے کی قوی امکان ہے اور بیروزگاری کی شرح بھی بہت ہی کم کر دی جائے گی ۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ وقت میں سبھی پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں ملنا نا ممکن ہے جس کی وجہ سے بے شمار نوجوانوں سے بیروزگاری کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ دیگر ذرائع معاش تو بے شمار میسر ہیں، لیکن انسان کے اندر کام کرنے کی لگن، دلچسپی اور جوش موجود ہو ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی، اور اس میں تمہارے لئے روزی کے اسباب پیدا کئے ۔‘‘ (الاعراف؛ 10)
یہاں ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے کسی نہ کسی ظاہری معاشی اَسباب کا سہارا لینے کی ہدایت دی گئی ہے اور انسان کو بے کار بیٹھنے، کاہل و سُست بننے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ جیسا کہ زبان زدعام جملہ ہے کہ ‘ایک بے کار دماغ شیطان کی ورکشاپ ہے ۔ لہٰذا بے کار بیٹھنے سے ہمیشہ گریز کرنا چاہئے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’پھر جب نماز ادا ہو جائے، تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔‘‘ (الجمعہ؛ 10)
یعنی نماز جمعہ کے لئے اذان کے فوراً بعد معاش کمانے، تجارت کرنے و دیگر کام کاج میں مشغول رہنے پر جو پابندی عائد ہوئی تھی، اس پابندی کو اب نماز ادا ہوتے ہی ہٹا دیا گیا ہے ۔ لہٰذا یہاں نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ روزگار حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بے کار بیٹھنے کا روادار نہیں ۔ اس لئے زمین میں پھیل جاؤ اور جو ذرائع حلال ممکن ہوں، ان سے حصولِ رزق کے لیے محنت و جستجو کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے ۔ رب العالمین نے مال و دولت کو لفظ خیر و فضل سے تعبیر فرمایا ہے ۔ کیونکہ مال و دولت سے سرفراز ہونے پر ہی مسلمانوں کو زکوٰۃ و حج جیسے بنیادی ارکانِ اسلام فرض ہو جاتے ہیں ۔
کُتبِ سیرت کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ہی معاشی سرگرمیاں اختیار کی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچپن میں اپنے رضاعی بھائی عبداللہ اور رضاعی بہن شیما کے ساتھ حلیمہ سعدیہ کے وہاں بکریاں چرانے کا کام کیا ۔ حالانکہ مکہ المکرمہ میں رہتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض میں چراتے تھے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کسی پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی روزی روٹی خود کمانا چاہیے ۔ اور کام پر اُجرت لینا، مزدوری کرنا، کوئی پیشہ ورانہ خدمات پر اجارہ داری کرنا نہ غیر شرعی ہے اور نہ سنت نبوی کے خلاف ہے ۔
حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ’’ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں حتیٰ کہ حضرت داؤد، موسٰی علیہم السلام نے بھی چرائی ہیں۔(البخاری) جس سے انبیاء کرام علیہم السلام کے اندر صبر و استقلال، استقامت، سمجھ داری، ہوشیاری اور بردباری جیسے اوصاف پیدا کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہیں ۔اس طرح کی تعلیمات سے آج کل کے ہم عصّر زمانے میں ڈائری فارم (Dairy Farm)، بھیڑ و بکریوں کا فارم (Sheep Farm)، پولٹری فارم (Poultry Farm)، مچھلی فارم (Fish Farm) اور بھینسیں چرائے جانے کا تصور ملتا ہے ۔ جس کی آمدن سے انسان اپنی معاشی حالت مستحکم بنا کر دوسرے لوگوں کے لئے بھی روزگار کے وسائل پیدا کر سکتا ہے اور انتظامیہ سطح پر اس وقت بیروزگاری کو کم کرنے کے لئے اس طرح کی بے شمار اسکیمیں متعارف کی گئی ہے جس سے خواہش مند افراد کو معاشی امداد دے کر اپنا روزگار خود کمانے کے لئے متحرک کیا جاتا ہے ۔ حال ہی میں ’’گاؤں کی اور‘‘ (Back to village) چوتھے مرحلہ کے پروگرام کے تحت بہت سارے ضلع کی پنچایتوں سے کئی بیروزگار نوجوانوں کو مختلف سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھانے کے لئے خود روزگار کمانے کے مختلف پروجیکٹوں کو بہت جلد منظوری دے دی جائے گی ۔ جس کے لئے انہیں پنچایتی سطح پر ہی تمام لوازمات پورے کر دئے گئے ہیں ۔
معاشی طور مستحکم انسان ہی دوسرے ضرورت مندوں کی امداد کر سکتا ہے اور مزید فلاح و بہبود کے کاموں میں حصّہ لے سکتا ہے ۔ قرآن کریم کی تعلیمات سے بھی یہی ہدایت ملتی ہے کہ اللہ کی راہ میں صرف ضرورت سے زائد (البقرہ؛ 219) دولت ہی خرچ کی جائے ۔ جس میں سے دوسروں کا حق ہے ۔ اسی طرح حدیث نبوی ؐ کی تعلیمات کہ ’’اپنی زائد سواری یا کھانا اس سے لوٹا دے، جس کے پاس سواری یا کھانا نہیں‘‘ جیسے مبارک ارشاد سے عدل و انصاف پر مبنی معاشی تقسیم کاری ہے ۔
اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے مسلمانوں کو باعزت زندگی گزارنے پر کافی زور دیا ہے ۔ آپؒ نے زکوٰۃ کے نصاب کی علت اس طرح بتائی کہ یہ باعزت زندگی کا کم سے کم سالانہ خرچ ہے ۔ صاحبِ نصابِ زکوٰۃ نہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ ایسے مسلمان کے پاس باعزت زندگی گزارنے کے لئے درکار ایک سال کے وسائل موجود نہیں ہے ۔ جس کے لئے اس سے مزید سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنی معاشی حالت مستحکم بنا کر صاحبِ زکوٰۃ تک پہنچ سکیں ۔۔۔۔۔۔( جاری )۔۔۔۔۔
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ ۔ 9858109109)
[email protected]