جاوید اختر بھارتی
سیاست حکمت عملی کو کہتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ ملک کے نظام کو چلانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا حکومت کا کام ہے۔ لیکن اسی حکمت عملی پر نظر رکھنا حزب مخالف کا کام ہے ۔ ملک کی اور ملک کے عوام کی بھلائی کی ذمہ داری دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ ملک کو سجانے و سنوارنے کی ذمہ داری بھی دونوں پر عائد ہوتی ہے اورحقیقت یہ ہے کہ جب دونوں کے اندر ایسا ہی نیک نیتی کا جذبہ ہوگا تو ملک ہمیشہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگا۔ ہاں! اگر حکومت یہ تہیہ کر لے کہ ہمیں حزب مخالف کی بات تسلیم کرنا ہی نہیں ہے کیونکہ وہ حکومت سے باہر ہے اور حزب مخالف بھی یہ ٹھان لے کہ ہمیں حکومت کی بات ماننا ہی نہیں ہےاور حکومت کے کسی کام کی حمایت کرنا ہی نہیں ہے کیونکہ حکومت ہماری پارٹی کی نہیں ہے ،تو ایسی صورت میں ٹکراؤ کی نوعیت پیدا ہوتی ہے اور ایسی نوعیت سے نہ ملک کا بھلا ہوسکتا ہے اور نہ ہی ملک کی عوام کا بھلا ہوسکتا ہے ۔ فی الحال ہمارے ملک میں ایسی ہی تصویر نظر آرہی ہے، جس کا سارا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جہاں تک بات سیاست اور حمایت کی ہے تو سیاست پر تبصرہ تو ہوچکا ،اب حمایت پر غور کرنا ہے، جلسے میں صدارت کا اعلان ہوتا ہے تو ایک شخص کھڑا ہو کر اس کی تائید کرتا ہے تو اسی کو حمایت کہا جاتا ہے۔
الیکشن کا بگل بج جانے کے بعد تمام پارٹیاں اپنے اپنے انتخابی منشور جاری کرتی ہیں اور ساتھ ہی ہر پارٹی کی سماج کی معزز شخصیات سے ملاقات کرنے اور ان کے ذریعے ان کے سماج سے اپنے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتی ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اپیل کرتے بھی ہیں، اسی کو حمایت کہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سماج کے کسی بھی با اثر شخصیت کے پاس کوئی جائے تو وہ جب اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے ان کا سہارا لے تو کیا ان کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ بھی کچھ شرائط رکھیں یا پوچھیں کہ بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ ظاہر سی بات ہے کہ صبح سے لے کر شام تک کوئی کسی کے ہاں مٹی بھی پھینکتا ہے تو شام کو اس کی اُجرت ملتی ہے، جس سے اس کے گھر کا خرچ چلتا ہے، اس کے کنبے کی ضروریات پوری ہوتی ہیں تو یہ معاملہ تو انفرادی ٹھہرا، لیکن اصول اور ضابطہ یہی ہے، چاہے پرائیویٹ سیکٹر ہو یا سرکاری ،کوئی مفت میں کام کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ کوئی مفت میں کام کرے گا تو اس کے گھر والے ضرور اُس سے سوال کریں گے کہ آخر آپ کے کام سے اور آپ کی محنت سے گھر میں کسی کا بھلا نہیں ہورہا ہے، تو ایسی بے گاری سے کیا فائدہ۔ بلا وجہ آپ وقت اور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ ہمارے مستقبل کو کیوں برباد کررہے ہیں تو یہی چیز سماج کے اُن رہنماؤں پر بھی عائد ہوتی ہے جو الیکشن کے ماحول میں کسی نہ کسی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں اور اس پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں تو اس سے سماج کے بارے میں کیا معاہدہ کرتے ہیں ۔اگر کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو وہ اپنے سماج کے لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے اور اگر کوئی معاہدہ نہیں کرتے ہیں یعنی بلا شرط کسی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں تو کس بنیاد پر ، کہ ہم جسے کہیں گے ہمارا سماج اُسی کو ووٹ دے گا، ایسا کرنے سے کیا فائدہ؟ اگر صرف آپ کا قد اونچا ہوجاتا ہے تو آپ پورے سماج کو کب تک ایسے ہی برباد کرتے رہیں گے ۔ جب سے ملک آزاد ہوا ہے، تب سے یہی سلسلہ چلا آرہاہے ،اندھیروں میں سیاسی حمایت کی جاتی ہے، حوالہ پورے سماج کا دیا جاتا اور پیٹ صرف اپنا بھرا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کی آج سیاسی شناخت بھی باقی نہیں رہی جبکہ ملک کا دَبا کچلا طبقہ بھی اقتدار کا مزا چکھ لیا، اس لیے کہ وہ سمجھ گئے کہ ماسٹر چابی کا نام سیاست ہے ۔جب تک روئے تو روئے لیکن روتے روتے سمجھ گئے کہ رونا رونے سے کچھ نہیں ہونے والا، بلکہ ملک کے آئین نے جو حق دیا ہے اس کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا اور تلاش کیا، جس کے نتیجے میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ اور ہمیں جہاں دوسروں نے آکر ایک سیاسی پارٹی سے ڈرایا تو ہمارے لوگوں نے بھی آکر اسی پارٹی سے ڈرایا اور ہم صرف ہرانے والی سیاست تک محدود رہ گئے ۔ خود مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کو اس منزل تک پہنچا دیا کہ آج ہم جس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو دبی زبان میں وہ پارٹی بھی کہتی ہے کہ تمہارے سامنے تو خود مجبوری تھی تم جاتے کدھر۔ تم نے تو مجبوراً ہماری پارٹی کو ووٹ دیا، تمہارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ اندھی حمایت کبھی بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں کراسکتی۔ جمہوریت میں وہی قوم سربلند ہوتی ہے جس کے اندر سیاسی شعور ہوتا ہے ، وہ احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر احساس برتری کا حوصلہ ہوتا ہے۔ آج تو مسلم قوم کا بہت بڑا طبقہ ووٹ کی اہمیت کو بھی نہیں جانتا اور اسے بتایا بھی نہیں جاتا۔ ساڑھے چار سال تک سناٹا چھایا رہتا ہے، چھ مہینے کے لئے ایسے ایسے چہرے نمودار ہوتے ہیں کہ بس یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی ہر سیاسی پارٹی کی نکیل انہیں کے ہاتھوں میں ہے، پھر ساڑھے چار سال تک گوشہ نشین ہوجاتے ہیں۔ خدارا اب تو ہوش کے ناخن لیجئے۔ انہیں ساڑھے چار سالوں کے دوران آپ ووٹوں کی اہمیت کو بتائیے، ملک کے آئین نے ملک کی عوام کو کیا حق دیا ہے یہ بتائیے ۔سیاست سے قریبی اور دوری کے کیا نقصانات اور فوائد ہیں، یہ بھی بتائیے ۔صرف یہ کہہ کر چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے کہ اب سیاست گندی ہوگئی ہے،۔سیاست کل بھی گندی نہیں تھی اور آج بھی گندی نہیں ہے۔ سیاست کرنے والے جیسی سوچ کے ہونگے ویسا ہی فیصلہ لیں گے۔ آپ اچھی سوچ کے ہیں تو اچھی سوچ کے ساتھ سیاست میں حصہ لیجئے اور پورے سماج کو سیاست میں حصہ لینے کا مشورہ دیجئے تاکہ اچھا سیاسی ماحول قائم ہو، ورنہ اندھیرے میں سیاسی پارٹیوں کی حمایت کرنے سے نہ اب تک کچھ بھلا ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ ہمیں یہ بات دھیان میں رکھنا چاہئے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور نماز سب سے افضل عبادت ہے تو وہاں بھی تاکید کی گئی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ نماز کے دوران صفوں میں خلا نہ رکھیں بلکہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں ورنہ خلا ہوگا تو وہاں شیطان داخل ہو جائے گا۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب سیاست میں خلا پیدا ہوگا اور اچھے لوگ دوری بنائیں گے تو اس خالی جگہ کو بھرنے کے لئے کون لوگ آئیں گے؟
ہمیں دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے کبھی تو سوچنا چاہیے کہ ہم نے آخر اپنوں کے لئے کیا کیا ہے؟ مسلمانوں کی تنظیمیں تو بہت ہیں مگر ان تنظیموں سے مسلمانوں کا کتنا بھلا ہوا ہے؟ ہجومی تشدد کے خلاف ان تنظیموں نے کیا کیا ہے؟ کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان تنظیموں کے ذمہ داروں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے، بس ہاسٹلوں اور عالیشان ہوٹلوں میں میٹنگیں کی ہیں، وہ بھی ناشتہ پانی اور چمکتی ہوئی کاروں تک محدود رہیں۔ اب وہ تنظیمیں اور اس کے ذمہ داران اگر کسی پارٹی کی حمایت کریں تو مسلمان ان کی حمایت اور اپیلوں کو ٹھکرا دیں، تو اس میں کیا بُرائی ہے۔
[email protected]