بھدرواہ /بھدرواہ //بھدرواہ میں رابطہ سڑکوں کی مانگ پر احتجاج کرنے کی پاداش میں 4سرپنچوں سمیت 8افراد کیخلاف کیس درج کرلیاگیا ہے۔ کلسہاڑی بھدرواہ میں گزشتہ روز سا جد میر نامی سرپنچ کی سربراہی میں سڑک کی مانگ کو لے کر پرامن احتجاج کرنے والے لوگوں نے جموں وکشمیر پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ سرپنچوں کے خلاف دائر ایف آئی آر کو واپس لیا جائے ۔گذشتہ روز احتجاجیوں نے مشیر فاروق خان کے قافلے کو روک کر ان سے سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کیا تھااس موقع پر ضلع کمشنر ڈوڈہ کو حکم دیا گیا تھاکہ مسئلے پر ایک ہفتہ کے اندر ان کے مسائل پر نظر ثانی کی جائے ۔ فاروق خان کی طرف سے احتجاجی لوگوں کو یقین دہانی کے بعد احتجاجی منتشر ہوگے اور احتجاج پرامن طور پر اختتام پزیر ہوا۔ جمعہ کو دیر رات گے اطلاع آئی جس کی تصدیق بھی ہوگی کہ پولیس نے احتجاج کررہے لوگوں، جن میں 4سرپنچ، ایک سرکاری استاد سمیت8افراد کیخلاف وبائی بیماری ایکٹ 1997 اور کوووڈ رہنما خطوط کی خلاف ورزیاں کرنے پر متعدد دفعات کے تحت ایف آئی آر زیر نمبر118/2021درج کرلیاہے ۔ایف آئی آر درج کرنے پر بھدرواہ مقامی پنچایتوں کے لوگوں نے علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے مانگ کی کہ سرپنچ ساجد اور دیگر افراد کے خلاف دائر ایف آئی آر کو واپس کیا جائے ۔انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس جانب کوئی دھیان نہ دیا گیا تو وہ دوبارہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جس کی ساری کی ساری زمہ داری حکام پر عائد ہو گی ۔جب ڈی ڈی سی ڈوڈہ وکاس شرما سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے کل کے واقعہ میں 8 افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے سلسلے میں ایس ایس پی ڈوڈہ کے ذریعہ ایک اطلاع موصول ہوئی ہے۔ایف آئی آر کے اندراج کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق ایم ایل سی نریش گپتا نے کہا ” مشکلات کے ازالہ کےلئے پرامن احتجاج لوگوں کا بنیادی حق ہے“۔انہوں نے کہا کہ پولیس کارروائی سے سڑکوں لوگوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے گپتا نے مزید کہا ”ایف آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہئے اور لوگوں کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔