سرینگر //جموں وکشمیر حکام نے تین برس قبل سڑکوں پر رونما ہونے والے سڑک حادثات کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے خود کار ڈاٹا منیجمنٹ سسٹم متعارف کیا تھا تاہم حکام سڑک حادثات کی وجوہات معلوم کرنے میں بھی ناکام ہے اور حادثات کی روکتھام بھی ناممکن بن گئی ہے ۔معلوم رہے کہ جموں وکشمیر کی سڑکوں پر سالانہ اوسطاّ 5000سڑک حادثات میں 1000لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں اور 7000لوگ زخمی ہو کر اپاہچ بن جاتے ہیں ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2018میں جموں وکشمیر حکام نے سڑک حادثات سے متعلق برسر موقعہ حقیقی جانکاری فراہم کرنے کیلئے جو سسٹم متعارف کرایا تھا وہ بھی دھیرے دھیرے دم توڑ رہا ہے ۔اس سسٹم کو شروع کرنے سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ اس کو متعارف کرنے سے سڑک حادثات کم کرنے اور روڈ سیفٹی سے متعلق مزید جانکاری پیدا کرنے میں حکام کو مدد ملے گی۔ اُس وقت کے ٹرانسپورٹ کمشنر نے میٹنگ میں بتایا تھا کہ سپریم کورٹ نے2015 میں اس نظام کو متعارف کرانے کے احکامات صادر کئے تھے اور جموں وکشمیر میں2017 میں اس پر کام شروع کیا گیا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ جی آئی ایس پر مبنی ایک بہترین انفارمیشن نظام ہے جس کی بدولت غلط ڈرائیونگ، سڑکوں کی ہیت، املاک کو ہوئے نقصان، اور لوڈنگ اور دیگر وجوہات کی نشاندہی وقت پر کی جا سکتی ہے، جن کے سبب سڑک حادثات رونما ہوتے ہیں۔یہ نظام اپنا خود کار سسٹم استعمال میں لاکر مختلف طرح کی 65 رپورٹیں پیش کرسکتا ہے ۔افتتاحی تقریب کے دوران محکمہ پولیس، آر ٹی اوز اور اے آر ٹی اوز کو ماہر تربیت کاروں نے اس نظام کے بارے میں جانکاری دی تھی جبکہ جموں وکشمیر میں روڑ سیفٹی کونسل، جو حکومت کو مشورہ دینے کے ساتھ واضح منڈیٹ کے ساتھ تشکیل دی گئی تھی تاکہ 2020تک سڑک حادثات کو کم کیا جا سکے لیکن جموں وکشمیر میں سڑک حادثات کی اگر بات کی جائے تو اس میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی واقعہ نہیں ہوئی ہے جبکہ حکام کی جانب سے قائم کیا گیا روڑ سیفٹی فنڈ بھی زمینی سطح پر کہیں نظر نہیں آرہا ہے ۔ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ روڑ سیفٹی فنڈ سال 2018 میں اس لئے قائم کیا گیا تھا تاکہ اس کا پیسہ سڑکوں کے بیچ رکاوٹوں ، کھڈوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار کو متعارف کرانے پر خرچ کیا جا سکے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سال2018اور2019میں 5.70کروڑ روپے خرچ کئے گئے اور سال2019.20میں 26.5کروڑ روپے مختص رکھے گئے تھے ،لیکن زمینی سطح پر نہ ہی سڑکوں کی دیکھ ریکھ کی گئی، نہ کھڈوں کی بھرائی ہوئی اور نہ حادثات والی جگہوں پر روکتھام کیلئے کوئی بہتر اقدامات کئے گے ،جبکہ آر اے ڈی ایم ایس ۔یعنی ایکسڈنٹل ڈاٹا منیجمنٹ سسٹم پر عمل درآمد تو شروع کیا گیا لیکن متعلقہ محکمہ جات کے بیچ آپسی تال میل کے فقدان اور لاپروہی کی وجہ سے یہ بھی فی الحال دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ اس سسٹم کو متعارف کرانے کا مقصد یہی تھا کہ حکام کو یہ معلوم ہو سکے کہ آخر کار یہ حادثات کس کی لاپروہی کی وجہ سے رونما ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ یہ سافٹ وائر آر اے ڈی ایم ایس روڈ سیفٹی سے متعلقہ پریشانیوں کے خاتمے کیلئے پالیسی سازوں اور سرکاری عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں جیسے میونسپل باڈیز، تعمیرات عامہ ایجنسیوں ، ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے محکموں کی آپسی تال میل کیلئے تھا لیکن نہ کہیں تال میل دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی اس کو بہتری کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کیونکہ تمام تر الزامات ڈرائیور پرڈالنے کی بجائے حادثے کی وجوہات کی نشاندہی کرنے میں مدد اسی سافٹ وائر کی وجہ سے مل سکتی تھی۔ اس سسٹم کا مقصد یہ بھی تھا کہ اگر کسی جگہ پر اعداد و شمار کا تجزیہ خراب سڑکوں کو حادثات کی وجہ کے طورپر ظاہرہو ، تو سڑک کی بہتری کو ترجیح دینی تھی ۔اس سافٹ وائر سے سڑکوں پرپڑے کھڈوں کی نشاندگی ، غلط ڈرائیونگ، گاڑیوں کے نقائص ، نقصان ، اوورلوڈنگ کے مسائل کی نشاندھی ہو سکتی تھی ۔