خرطرم// سوڈانی پیرا ملٹری گروپ آر ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صدارتی محل پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ آرمی اور فورسز کے درمیان تناؤ تشدد میں تبدیل ہوگیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت خرطوم میں صدارتی محل اور آرمی ہیڈ کوارٹرز کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکے سنے گئے ہیں۔آر ایس ایف نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خرطوم، مروہ اور العبید کے ائرپورٹس کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے جبکہ خرطوم ائرپورٹ کے اندر اور باہر لڑائی بند کردی گئی ہے۔پیرا ملٹری فورسز کے مطابق وہ سوڈان آرمی کی وجہ سے جوابی اقدامات کررہے ہیں کیوں کہ آرمی نے ان کے بیس پر حملے کیے ہیں۔دوسری طرف سوڈان آرمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ خرطوم میں آر ایس ایف سے لڑائی کررہے ہیں اور یہ گروپ ملک کیخلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کررہا ہے۔2021 میں بغاوت کے بعد سے آرمی کا سوڈان پر قبضہ ہے اور انہوں نے طویل عرصے تک صدر رہنے والے عمر البشیر کو حکومت سے باہر کیا تھا۔کئی دن سے جاری تناؤ کے بعد اب سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں سیکیورٹی فورسز اور ملک کی فوج آمنے سامنے ہے اور شہر میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ سوڈان کی پیرا ملٹری ریپڈ فورس نے کہا ہے کہ فوج کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں اور انہوں نے شہر کے ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔الجزیرہ کے مطابق خرطوم کے وسط میں وزارت دفاع کے ساتھ ساتھ صدارتی محل کے قریب بھی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جبکہ اس دوران شہر کے مختلف حصوں کے دھویں کے بادل بھی اٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔ سوڈان میں امریکی سفیر نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ میں خرطوم میں رات گئے آیا تھا اور صبح فائرنگ کی آوازوں سے میری آنکھ کھلی۔ان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت سفارت خانے کی ٹیم کے ساتھ ایک جگہ پناہ لیے ہوئے ہوں جیسا کہ پورے خرطوم اور دیگر جگہوں پر سوڈانی کر رہے ہیں۔امریکی سفیر نے کہا کہ فوج کے اندر کشیدگی کا براہ راست لڑائی تک پہنچ جانا انتہائی خطرناک ہے اور میں فوری طور پر سینئر فوجی رہنماؤں سے لڑائی بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔اس سے قبل سیکیورٹی فورسز نے کہا تھا کہ فوج نے ان کے ایک اڈے کا گھیراؤ کر کے بھاری ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی۔یاد رہے کہ فوج اور جنرل محمد ہمدان دگالو عرف ہمیدتی کی زیر قیادت سیکیورٹی فورسز کے درمیان تناؤ جاری ہے اور اس سے کشیدگی کے ساتھ ساتھ ملک میں سویلین حکومت کے قیام کا خطرہ بھی ماند پڑتا نظر آرہا ہے۔