سوپور/ /سوپور ویلفیئر سوسائٹی کا اتوار کو ایک اجلاس منعقد ہواجس میںسوپور کے تمام ممبران اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اورسوپور میڈیا ایسوسی ایشن نے شرکت کی۔ میٹنگ میں سوپور کو جان بوجھ کر نظر اندازکرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ میٹنگ میں موجود افراد نے کہا کہ کئی ڈاکٹر اور دیگر افسران کو علاقے سے سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر تبدیل کیا جارہا ہے۔ ایک شہری محمد سلیم نے کہا ’’ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی بیوروکریٹ کو سوپور سے باہر سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پرتبدیل کیا جارہا ہے‘‘۔ویلفیئر سوسائٹی کے چیئر مین ظفر احمد بٹ نے میٹنگ کے دوران کہا ’’ سوپور قصبہ میں کافی سرگرمیاں ہوتی تھیں اور اسی وجہ سے اس کو چھوٹا لندن کہا جاتا تھا ‘‘۔ظفر نے کہا کہ صوبے کا ایک اہم قصبہ ہونے کے بائوجود اسے نظر انداز کیا گیا۔ائمہ مسجد سوپور کے صدر مفتی تنویر احمد نے کہا کہ سوپور ضلع کا درجہ پانے کا حق رکھتا ہے کیونکہ آبادی کے لحاظ سے یہ اننت ناگ کے بعد دوسرا قصبہ ہے۔میٹنگ کے دوران مختلف مقررین نے نشیلی ادویات کے استعمال کے مضر اثرات پر بھی بات کی اور سماج میں نشیلی ادویات کے بڑتے ہوئے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ۔