وادی کشمیر میں بارشیں، محکمہ موسمیات کی ایڈوئزری جاری
سرینگر//پیر کو سونہ مرگ کے پہاڑوں پر رواں موسم کی پہلی برفباری ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق درمیانی شب بارشوں کے بعد پہاڑوں پر برف کی بہت ہلکی پرت بچھ گئی تاہم اسکے بعد موسم ٹھیک ہوا۔ادھر پیر کوکشمیر کے وسیع حصوں میں درمیانی سے بھاری بارش ہوئی، جبکہ قومی شاہراہ 3گھنٹوں کے بعد کھول دی گئی البتہ مغل روڑ، مرگن ٹاپ اور سنتھن ٹاپ کی سڑکیں بند ہوئیں۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے اگلے 24گھنٹوں کیلئے موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔حکام نے بتایاکہ سرینگر، کپواڑہ، بارہمولہ، اننت ناگ اور پلوامہ اضلاع میں پیر کی صبح سے ہی موسلادھار بارش ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ کپواڑہ میں لولاب کے ورنو جنگلاتی علاقے میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش نے بادل پھٹنے کے خوف سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے پر مجبور کیا۔
شاہرائیں بند
وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر جموں قومی شاہراہ کو کئی مقامات پر چٹانیں کھسک آنے کے باعث ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند کر دیا گیا ۔ٹریفک حکام نے پیر کو بتایا کہ کئی مقامات پر چٹانیں کھسک آنے کے پیش نظر صبح ساڑھے 9بجے قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل معطل کر دی گئی اور 3گھنٹے کے بعد دن کے ایک بجے ٹریفک کو بحال کیا گیا۔اسکے بعد بھی شاہراہ پر وقفے وقفے سے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑا۔ادھرجنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ پر کئی مقامات پر چٹانیں کھسک آنے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل روک دی گئی ۔مسافروں سے کہا گیا کہ وہ موسم ٹھیک اور روڈ صاف ہونے تک اس پر سفر کرنے سے گریز کریں۔ ادھر مرگن ٹاپ اور سنتھن ٹاپ کے راستوں پر بھی ٹریفک کی آمد رفت عارضی طو رپر معطل کر دی ہے ۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کوکرناگ کی طرف سے جاری موسمی ایڈوائزری کے مطابق یہ فیصلہ سڑک پر پھسلن، لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے، اور خراب مرئیت کی وجہ سے حادثات سے بچنے کیلئے ایک احتیاطی اقدام کے طور پر لیا گیا ہے۔
ایڈوائزری
خراب موسم کے پیش نظر پلوامہ اور اننت ناگ اضلاع میں پولیس نے عام لوگوں کی سہولت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ہنگامی ہیلپ لائنیں قائم کی ہیں۔ پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے”عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 17 سے 19 اگست 2025 تک موسم کی ایڈوائزری کے دوران انتہائی احتیاط برتیں، دریائے جہلم اور مقامی نالوں کے قریب رہنے والے تمام باشندوں سے گزارش ہے کہ وہ آبی ذخائر میں یا اس کے آس پاس نہ جائیں تاکہ موسم بہتر ہونے تک اپنے آس پاس کے علاقوں میں کسی بھی سرگرمی سے گریز کریں،” ۔
سرینگر حکام
سرینگر کی ضلع انتظامیہ نے پیر کو 18 سے 19 اگست تک کشمیر کے کچھ حصوں میں موسلادھار بارش، گرج چمک، بادل پھٹنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی پیش گوئی کے بعد ایڈوائزری جاری کی۔ایڈوائزری کے مطابق، رہائشیوں، خاص طور پر فقیر گجری، اس کے آس پاس کے علاقوں اور کھنموہ کے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ حالات بہتر ہونے تک ڈھلوانوں، آبی ذخائر اور نشیبی علاقوں سے گریز کریں۔اس نے سیاحوں، مقامی شکارا والوں، اور دریائے جہلم اور دیگر آبی ذخائر میں ریت کی کان کنوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ پہلے دریا اور اس کی معاون ندیوں کی حالت کا جائزہ لیے بغیر کراسنگ کی کوشش نہ کریں۔