کنگن//غلام نبی رینہ//محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے سونہ مرگ میں قائم کئے گئے ویٹ برج پر اُس وقت تین گھنٹے تک گاڑیوں کا وزن نہیں کیا گیا جب لداخ جارہی ایک مال بردار ٹرک زیر نمبر1311 ,JK16 -کے ڈرائیور منظور احمد خان ساکن ہاکنار گنڈ نے ٹرک کو ویٹ برج پر وزن کرنے کے لئے چڑھایا جس کے بعد اس کی گاڑی کا وزن ڈھائی کوئنٹل زیادہ نکلا جس کے بعد ویٹ برج پر ڈیوٹی پر موجود انسپکٹر نے مذکورہ ڈرائیور سے کہا کہ آپ کی گاڑی کا وزن ڈھائی کوئنٹل زیادہ ہے، جس کے لئے ڈرائیور سے کہا گیا کہ وہ 22000 ہزار روپیہ جرمانے ادا کرے۔ ابرار علی خان نامی ایک ڈرائیور نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ جب گاڈی کو ویٹ برج سے نیچے اتارا اور پھر دوبارہ ویٹ برج پر وزن کے لئے چڑھایا گیاتو دوسری بار 70کلو وزن زیادہ نکلا جس کے بعد ڈیوٹی پر تعینات انسپکٹر نے مذکورہ ڈرائیور سے گاڑی کے کاغذ مانگے اور ڈرائیور منظور احمد نے انسپکٹر سے کہا کہ کاغذ گاڑی کے مالک کے پاس ہیں اور وہ ابھی یہاں پہنچ کر کاغذ بھی لائے گا اور جرمانہ بھی ادا کرے گا۔ بقول ڈرائیوروں کے اس بات کو لیکر انسپکٹر اور ڈرائیور کے درمیان تو تو میں میں شروع ہوگئی جس پر انسپکٹر نے ڈرائیور منظور احمد خان کو مبینہ طور تھپڑ مار دیا اوربدزبانی کی جس پر وہاں موجود دیگر ٹرک ڈرائیوروں نے وے برج کے سامنے انسپکٹر کے اس رویہ کے خلاف دھرنا دیا جس کی وجہ سے وے برج تین گھنٹے تک بند رہا ۔ایک اورٹرک ڈرائیورنے بتایا کہ اگرچہ سرینگر سے لداخ تک ان کا کرایہ صرف 34000 ہزار روپے ہیں لیکن وے برج پر ایک کلو وزن اگر زیادہ نکلتا ہے، تو اس کا 22000 ہزار روپیہ جرمانہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ بھی یہاں پر ایک ٹرک ڈرائیور کے گاڑی کا شیشہ توڑ دیا گیا ۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل سے مطالبہ کیا کہ وہ وے برج کا دورہ کرکے ڈرائیوروں کے ساتھ ہورہے زیادتیوں کا جائزہ لیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ہم جھوٹ بول رہے ہیں تو وے برج پر قائم کیا گیا سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جائے۔ اس بارے میں وے برج پر تعینات انسپکٹر سے پوچھا گیاتو انہوں نے بتایا کہ یہاں جرمانے کا بورڈ لگا ہوا ہے اور یہاں پر ایک کلو زیادہ وزن کا جرمانہ 22000 ہزار روپیہ شروع ہوتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ڈرائیور سے کہا گیا تھا کہ اگر ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، تو وہ گاڈی کے کاغذات یہاں رکھیں جس پر ٹرک ڈرائیور نے شور شرابہ کیا۔ انسپکٹر نے بتایا کہ جرمانہ کی رقم ہم خود نہیں کھاتے بلکہ یہ سرکاری خزانہ میں جمع ہوتاہے۔