کنگن//قریب دو ماہ تک بند رہنے کے بعد سرینگرلیہہ شاہراہ اتوار کو 58روز بعدٹریفک کیلئے کھول دی گئی لیکن دو مقامات پر برفانی تودے گرنے کے بعد دوبارہ بند کردی گئی۔لیہہ شاہراہ اونچی پہاڑی درہ زوجیلہ سے ہو کر نکلتی ہے اور یہ پہلا موقعہ ہے کہ سڑک کی بندش کم سے کم مدت تک رہی۔بارڈر روڈس آرگنائزیشن (بی آر او) کے ترجمان نے بتایا کہ برف باری کے باعث 58 دن تک بند رہنے کے بعد شاہراہ ٹریفک کیلئے کھلا چھوڑ دی گئی ہے۔ ضروری سامان لے جانے والی گاڑیوں کو ابتدائی طور پر زوجیلا پاس سے لیہہ لداخ کی طرف جانے کی اجازت دی گئی۔ترجمان نے بتایا کہ بی آر او کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل راجیو چودھری نے شاہراہ کھولنے کا افتتاح کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہفتے کے روز زوجیلا درہ میں تازہ برف باری کے باوجود سڑک کا افتتاح کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک نقطہ نظر سے یہ سڑک اہم ہے ، کیونکہ یہ کشمیر اور لداخ کے درمیان واحد راستہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ زوجیلا درہ برف سے صاف کرنا ایک بڑا چیلنج ہے جہاں برف 30 سے 40 فٹ تک جمع ہے ، نیز برفانی تودے کے خطرات اور موسم کی خراب صورتحال ہے۔امسال بی آر او نے شاہراہ پر 31 دسمبر تک ٹریفک کی آمد و رفت کو بنائے رکھا۔تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کپ بال تل میں شاہراہ کے کھولنے کا افتتاح کرنے کے بعد زوجیلا اور کانوائے گرائونڈپر دو برفانی تودے گر آئے جس کی وجہ سے شاہراہ دوبارہ بند کردی گئی۔سونہ مرگ سڑک پر گذشتہ روز ہنگ کے مقام پر برفانی تودہ نالہ سندھ میں گرنے سے نالہ سندھ کا پانی سڑک پر آگیا تھا جس کے بعد بیکن نے مزدوروں اور مشینوں کو کام پر لگا کر سڑک کو قابل آمدورفت بنایا۔ادھر برفانی تودے گرآنے کے پیش نظر اتوار کے روزبھی سیاحوں کو گگن گیر میں ہی روک دیا گیا ۔گذشتہ روز زوجیلا، سونہ مرگ، منی مرگ، دراس اور کرگل میں ہوئی شدید برفباری سے شاہراہ دوبارہ بند کی گئی۔ زوجیلا، منی مرگ، سونہ مرگ میں دوفٹ تازہ برفباری دوبارہ جمع ہوگئی ہے۔ سرینگر لداخ شاہراہ کو دونوں طرف سے 15فروری کو ہی آمدورفت کے قابل بنایا گیا تھا۔ادھر شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں چوکی بل، ٹنگڈار روڈ پر صبح گیارہ بجے کے قریب برفانی تودہ گر آیا۔