سوات///پاکستان کے سوات کے تھانہ کبل میں دھماکے سے جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 17 ہوگئی ہے جبکہ واقعے کی نوعیت کا تعین تاحال نہ ہوسکا۔سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) شفیع اللہ گنڈا پور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا پولیس اسٹیشن کے اندر رات کو 8:20 بجے ہوا اور اس سے تھانے کی چھت، سی ٹی ڈی کا دفتر اور اندو واقع مسجد لرز اٹھی اور اس کے بعد آگ لگی۔کبل تھانے میں ہوئے دھماکے سے متعلق کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا، یہ سی ٹی ڈی کا کمپاؤنڈ ہے، یہاں بیسمنٹ میں سی ٹی ڈی کی جانب سے برآمد کیا جانے والا دھماکا خیز مواد بھی موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ماہرین کا مکمل چھان بین اور تجزیے کے بعد خیال ہے کہ کہیں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دھماکا ہوا ہے کیونکہ باہر سے کوئی حملہ یا خودکش حملے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں دھماکا ہوا ہے وہ سی ٹی ڈی کا ایک کمرہ تھا جہاں دھماکا خیز مواد تھااسی لیے تعین کر رہے ہیں کہ آیا شارٹ سرکٹ کے بعد دھماکا ہوا ہے یا پہلے خود سے پھٹ گیا ہے۔ڈی پی او نے بتایا کہ وقفے وقفے سے دھماکے ہو رہے تھے تو یہ واضح کرتے ہیں کہ گرینیڈ اور دیگر دھماکا خیز موادپھٹنے سے ہمارا نقصان ہوا ہے۔پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں 9 پولیس اہلکاروں کے علاوہ 6 شہری ہیں جبکہ دیگر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ہلاک پولیس اہلکاروں کی شناخت سب انسپکٹر (ایس آئی) عبداللہ خان، ایس آئی اشرف علی، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) سی ٹی ڈی شیر عالم، کانسٹیبل تاج محمد، عصمت علی، خلیل الرحمٰن، بخت روخان، فضل رازق، ناہد اور دو سالہ اذان کے نام سے ہوئی ہے۔سوات کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکے میں 63 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 8 کی حالت تشویش ناک ہے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان شفیقہ گل نے بتایا کہ جائے وقوع پر دوسرے روز بھی امدادی کارروائی جاری ہے، جس میں 100 امدادی کارکن اور بھاری مشینری مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کا تعلق مردان، لوئر دیر، اپر دیر، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ اور چترال سے ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ لاشیں آبائی علاقوں کی طرف روانہ کی جا رہی ہیں جہاں ان کی تدفین ہوگی۔